مکمل مشقی کوئز

کثیرالانتخابی سوالات — مکمل مشق

تمام پندرہ موضوعات کے کل 300 کثیرالانتخابی سوالات ایک ہی جگہ۔ نیچے دیے گئے خانوں سے مطلوبہ موضوعات منتخب کریں اور مشق شروع کریں۔

موضوعات منتخب کریں

نتیجہ: 0 درست بمقابلہ 0 جواب دیے گئے

موضوع 1۔ سیرت النبی ﷺ کا مفہوم، اہمیت، بنیادی مصادر اور منہجِ مطالعہ

1سیرت کے لغوی معنی کیا بیان کیے جاتے ہیں؟
الفچلنے کا طریقہ، روش اور کردار
بصرف عسکری مہمات کی تفصیل
جنبی کریم ﷺ کے ظاہری حلیے کا بیان
دقرآن کی تفسیر کا ایک انداز
سیرت کا لغوی مفہوم چلنے کے طریقے، روش اور کردار سے متعلق ہے، جو بعد میں اصطلاحاً نبی کریم ﷺ کی مکمل عملی زندگی کے لیے مخصوص ہو گیا۔
2اصطلاحی طور پر سیرت سے کیا مراد لی جاتی ہے؟
الفصرف نبی کریم ﷺ کی جنگوں کی تاریخ
بنبی کریم ﷺ کی پوری عملی زندگی
جصرف مکی دور کے واقعات
دصرف نبی کریم ﷺ کے اقوال کا مجموعہ
اصطلاح میں سیرت سے رسول اللہ ﷺ کی مکمل عملی زندگی مراد ہوتی ہے، نہ کہ محض کسی ایک پہلو یا دور کا بیان۔
3مغازی کی کتابیں بنیادی طور پر کس موضوع پر مرکوز ہوتی ہیں؟
الفنبی کریم ﷺ کے اخلاق و عادات
بغزوات اور عسکری مہمات
جنبی کریم ﷺ کی ولادت کے حالات
دقریش کے قبائلی نظام
مغازی کی اصطلاح خاص طور پر ان تصانیف کے لیے استعمال ہوتی ہے جو غزوات اور عسکری مہمات کی تفصیل بیان کرتی ہیں۔
4کتبِ شمائل میں عام طور پر کیا بیان کیا جاتا ہے؟
الفنبی کریم ﷺ کی اوصاف، عادات اور ظاہری حلیہ
بصرف ہجرت کے واقعات
جصرف صحابہ کرام کے فضائل
دصرف قریش کی تاریخ
شمائل کی کتابوں میں نبی کریم ﷺ کے اوصاف، عادات، اخلاق اور ظاہری حلیے کا بیان جمع کیا جاتا ہے۔
5قرآن مجید کو سیرت کا سب سے مستند ماخذ کیوں قرار دیا جاتا ہے؟
الفکیونکہ یہ بعد کی تصنیف ہے
بکیونکہ یہ انہی واقعات کے دوران نازل ہوا
جکیونکہ اس میں صرف عبادات کا ذکر ہے
دکیونکہ یہ صرف مدنی دور کا بیان کرتا ہے
قرآن مجید انہی واقعات کے دوران، وقتاً فوقتاً نازل ہوا جن کا وہ ذکر کرتا ہے، اس لیے اسے سیرت کا سب سے قدیم اور معاصر ماخذ سمجھا جاتا ہے۔
6قرآن مجید سیرت کے واقعات کو کس زاویے سے پیش کرتا ہے؟
الفمحض قصہ گوئی کے انداز میں
بہدایت، تزکیہ اور قانون کے زاویے سے
جصرف جغرافیائی تفصیل کے طور پر
دصرف عسکری حکمتِ عملی کے طور پر
قرآن مجید واقعات کو ہدایت، تزکیۂ نفس اور قانون سازی کے زاویے سے بیان کرتا ہے، محض تاریخی روداد کے طور پر نہیں۔
7سیرت کی تحقیق میں کن دو کتابوں کو حدیث کی صحت میں سب سے بلند مقام حاصل ہے؟
الفابن ہشام اور طبری
بصحیح بخاری اور صحیح مسلم
جابن سعد اور جواد علی
دشبلی نعمانی اور مبارکپوری
صحیح بخاری اور صحیح مسلم کو روایات کی صحت کے اعتبار سے حدیث کی کتابوں میں سب سے بلند مقام حاصل ہے۔
8ابن اسحاق، ابن ہشام، ابن سعد اور طبری کی روایات کو کیسے استعمال کیا جاتا ہے؟
الفبغیر کسی جانچ کے قبول کر لیا جاتا ہے
بسند اور متن کی جانچ کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے
جصرف حوالے کے طور پر رکھا جاتا ہے
دانہیں مکمل طور پر رد کر دیا جاتا ہے
ان مؤرخین کی روایات کو سند اور متن دونوں کے معیار پر جانچنے کے بعد ہی سیرت کی تحقیق میں استعمال کیا جاتا ہے۔
9مطالعۂ سیرت کو قرآن کی عملی تفسیر کیوں کہا جاتا ہے؟
الفکیونکہ یہ قرآنی تعلیمات کو ایک حقیقی زندگی پر منطبق دکھاتا ہے
بکیونکہ سیرت قرآن سے پہلے لکھی گئی
جکیونکہ سیرت میں قرآن کا کوئی ذکر نہیں
دکیونکہ سیرت صرف عبادات پر مشتمل ہے
سیرت اسلامی تعلیمات کی زندہ مثال ہے کیونکہ اس میں قرآنی اصول ایک حقیقی انسانی زندگی پر عملاً نافذ ہوتے دکھائے گئے ہیں۔
10سیرت کے مطالعے سے طالب علم کو کیا فائدہ حاصل ہوتا ہے؟
الفصرف تاریخی تاریخیں یاد ہو جاتی ہیں
بدعوت، قیادت، عدل اور صبر جیسے عملی اصول ملتے ہیں
جصرف عربی زبان کی مہارت بڑھتی ہے
دصرف قبائلی نظام کی تفصیل معلوم ہوتی ہے
سیرت کے مطالعے سے دعوت، قیادت، عدل، صبر اور اجتماعی اصلاح جیسے عملی اور قابلِ اطلاق اصول حاصل ہوتے ہیں۔
11تحقیقِ سیرت کے درست منہج میں سب سے پہلا اصول کیا ہے؟
الفصحیح روایت کو ضعیف روایت پر ترجیح دینا
بہر مشہور قصے کو قبول کر لینا
جصرف مستشرقین کی آراء پر انحصار کرنا
دتاریخی ترتیب کو نظر انداز کرنا
درست تحقیقی منہج کا پہلا اصول یہ ہے کہ صحیح اور مستند روایت کو ہمیشہ ضعیف اور بے اصل روایت پر ترجیح دی جائے۔
12روایات کو کس تناظر میں پڑھنے کی ہدایت دی جاتی ہے؟
الفزمانی ترتیب اور تاریخی ماحول کے ساتھ
بصرف جدید نظریات کی روشنی میں
جبغیر کسی سیاق کے الگ الگ
دصرف شاعرانہ تفسیر کے انداز میں
روایات کو زمانی ترتیب، تاریخی ماحول اور قرآنی رہنمائی کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے تاکہ غلط نتیجہ اخذ نہ ہو۔
13سیرت کے مطالعے میں کن دو انتہاؤں سے بچنے کی تلقین کی جاتی ہے؟
الفہر قصے کی بلا تحقیق قبولیت اور ثابت روایات کا انکار
بصرف عربی اور صرف اردو ماخذ کا استعمال
جصرف مکی اور صرف مدنی دور کا مطالعہ
دصرف حدیث اور صرف قرآن کا مطالعہ
سیرت کا متوازن مطالعہ نہ تو ہر مشہور قصے کو بلا تحقیق قبول کرتا ہے اور نہ ہی ثابت شدہ معجزات و صحیح روایات کا انکار کرتا ہے۔
14بعض مغربی محققین نے سیرت کے کن پہلوؤں پر مفید کام کیا ہے؟
الفمخطوطات کی تدوین اور تاریخی تناظر
بعقیدے کے بنیادی مآخذ کی تدوین
جوحی کی حقیقت کا اثبات
دنبوت کے تصور کی توثیق
کچھ مستشرقین نے مخطوطات کی تدوین اور تاریخی پس منظر کی وضاحت میں علمی طور پر مفید کام کیا ہے۔
15بہت سے مستشرقین کی سب سے بڑی علمی کمزوری کیا رہی ہے؟
الفانہوں نے وحی کو نفسیاتی یا سماجی عمل سمجھ کر بنیادی مقدمہ نظر انداز کیا
بانہوں نے حدیث کی سند پر زیادہ توجہ دی
جانہوں نے صرف قرآن کا مطالعہ کیا
دانہوں نے عربی زبان سیکھنے سے انکار کیا
بہت سے مستشرقین نے وحی کے تجربے کو محض نفسیاتی یا سماجی مظہر سمجھ کر اسلام کے بنیادی عقیدی مقدمے کو نظر انداز کر دیا۔
16علمی دیانت کا تقاضا کسی بھی نظریے یا دعوے کے بارے میں کیا ہے؟
الفاسے بغیر جانچے قبول کر لیا جائے
باسے اس کے دلائل اور مفروضات کی روشنی میں پرکھا جائے
جاسے صرف اس کی شہرت کی بنا پر رد کیا جائے
داسے کسی بھی صورت میں نظر انداز کیا جائے
علمی دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ ہر دعوے کو اس کے دلائل اور بنیادی مفروضات کی روشنی میں جانچا جائے۔
17نبوی منہج مقصد کے ساتھ کس چیز کی پاکیزگی پر بھی زور دیتا ہے؟
الفصرف نتائج کی پاکیزگی
بذریعے اور طریقِ کار کی پاکیزگی
جصرف مالی وسائل کی فراوانی
دصرف عددی کثرت
نبوی منہج کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ مقصد کے ساتھ ساتھ ذریعے اور طریقِ کار کی پاکیزگی پر بھی اتنا ہی زور دیتا ہے۔
18سیرت کا حقیقی مطالعہ معلومات کو کس چیز میں بدل دیتا ہے؟
الفمحض یادداشت میں
بکردار، خدمت اور ذمہ داری میں
جصرف امتحانی نمبروں میں
دصرف تاریخی تجسس میں
سیرت کا حقیقی اور بامعنی مطالعہ معلومات کے ذخیرے کو کردار، خدمت اور عملی ذمہ داری میں تبدیل کر دیتا ہے۔
19سیرت کے مصادر کی درجہ بندی میں سب سے پہلا اور قطعی ماخذ کیا سمجھا جاتا ہے؟
الفقدیم کتبِ مغازی
بقرآن مجید
جمستشرقین کی تحقیقات
دصرف زبانی روایات
سیرت کے مصادر میں قرآن مجید کو ہمیشہ اولین اور قطعی ماخذ کی حیثیت دی جاتی ہے، اس کے بعد صحیح حدیث اور دیگر مآخذ کا درجہ آتا ہے۔
20کسی روایت کا کسی قدیم تاریخی کتاب میں درج ہونا کیا ثابت کرتا ہے؟
الفاس کی صحت خود بخود ثابت ہو جاتی ہے
باس کی صحت کی خودکار ضمانت نہیں ملتی، مزید جانچ درکار ہے
جاسے حتمی طور پر رد کر دینا چاہیے
داسے قرآن پر مقدم رکھنا چاہیے
کسی روایت کا محض کسی تاریخی کتاب میں موجود ہونا اس کی صحت کی ضمانت نہیں دیتا، بلکہ سند اور متن کی جانچ ضروری ہے۔

موضوع 2۔ بعثتِ نبوی سے قبل دنیا کے مذہبی، سیاسی، معاشرتی اور تہذیبی حالات

1چھٹی صدی عیسوی میں دنیا کی سیاسی ساخت کیسی تھی؟
الفایک ہی مرکزی حکومت کے تحت متحد
ببڑی سلطنتوں، بادشاہتوں اور قبائلی اکائیوں میں منقسم
جمکمل طور پر جمہوری نظاموں پر مبنی
دصرف قبائلی جنگوں سے خالی اور پرامن
چھٹی صدی عیسوی میں دنیا بڑی سلطنتوں، مقامی بادشاہتوں اور قبائلی اکائیوں میں منقسم تھی، کسی ایک مرکزی نظام کے تحت نہیں۔
2اس دور کو مکمل تاریکی کہنے سے متعلق درست علمی موقف کیا ہے؟
الفیہ تعبیر بالکل درست اور حتمی ہے
بیہ تعبیر محتاط نہیں، کیونکہ ترقی یافتہ پہلو بھی موجود تھے
جاس دور میں کوئی بھی تہذیب موجود نہیں تھی
داس دور میں کوئی مذہبی سرگرمی نہیں تھی
اس دور کو مکمل تاریکی کہنا درست نہیں، کیونکہ روم، ایران، ہندوستان اور چین میں علم و تمدن کے آثار بھی موجود تھے۔
3جزیرۂ عرب میں سیاسی زندگی کی بنیاد کیا تھی؟
الفمرکزی شاہی حکومت
بقبائلی وفاداری
جمذہبی خلافت کا نظام
دجمہوری انتخابی نظام
عرب میں مرکزی حکومت کے بجائے قبائلی وفاداری ہی سیاسی زندگی کی اصل بنیاد سمجھی جاتی تھی۔
4خانہ کعبہ کی اصل حیثیت اور بعد کی صورتِ حال کیا بیان کی جاتی ہے؟
الفیہ ابتدا سے بت پرستی کا مرکز تھا
بیہ حضرت ابراہیمؑ کی توحیدی یادگار تھا مگر بعد میں بت پرستی پھیل گئی
جیہ ایک عسکری قلعہ تھا
دیہ صرف تجارتی گودام کے طور پر استعمال ہوتا تھا
کعبہ اصلاً حضرت ابراہیمؑ کی توحیدی یادگار تھا، لیکن صدیوں میں اس کے گرد بت پرستی پھیل چکی تھی۔
5عرب معاشرے کی کن خوبیوں کا ذکر تاریخی مآخذ میں ملتا ہے؟
الفصرف ظلم اور جنگ
بشاعری، حافظہ، مہمان نوازی اور شجاعت
جصرف زراعت اور کاشتکاری
دصرف بحری تجارت
عرب معاشرے میں شاعری، مضبوط حافظہ، مہمان نوازی اور شجاعت جیسی نمایاں خوبیاں پائی جاتی تھیں۔
6عرب معاشرے میں کن خامیوں کا بھی ذکر ملتا ہے؟
الفخونریزی، سود اور کمزوروں پر ظلم
بصرف تعلیمی پسماندگی
جصرف موسمی مشکلات
دصرف زبان کی کمزوری
عرب معاشرے کی خوبیوں کے ساتھ ساتھ خونریزی، سود خوری اور کمزوروں پر ظلم جیسی خامیاں بھی نمایاں تھیں۔
7بعض عرب قبائل میں کون سی سنگ دل رسم رائج تھی؟
الفلڑکیوں کو زندہ دفن کرنا
ببچوں کو تعلیم دینا
جغلاموں کو آزاد کرنا
دیتیموں کی سرپرستی کرنا
بعض قبائل میں لڑکیوں کو زندہ دفن کر دینے کی سنگ دل رسم پائی جاتی تھی، جسے بعد میں اسلام نے ختم کیا۔
8غلام، یتیم اور مقروض افراد کی حیثیت عرب معاشرے میں کیسی تھی؟
الفوہ محفوظ اور بااختیار طبقہ تھے
بوہ طاقتور طبقوں کے استحصال کا آسان ہدف تھے
جانہیں مکمل قانونی تحفظ حاصل تھا
دان کا کوئی وجود ہی نہیں تھا
غلام، یتیم اور قرض دار افراد طاقتور طبقوں کے استحصال کا آسان ہدف تھے اور ان کے حقوق کا کوئی مؤثر تحفظ نہیں تھا۔
9پیشِ اسلام عرب میں وراثت اور نکاح کے معاملات میں عورت کی حیثیت کیسی تھی؟
الفمکمل مساوی قانونی اختیار حاصل تھا
بعموماً مستقل قانونی اختیار سے محروم تھی
جاسے سب سے زیادہ حقوق حاصل تھے
داس کا کوئی معاشرتی کردار نہیں تھا
وراثت اور نکاح کے معاملات میں عورت عموماً مستقل قانونی اختیار سے محروم تھی، جو بعد میں اسلامی احکام سے بدلا۔
10بازنطینی روم کس خطے کی بڑی سیاسی قوت تھا؟
الفمغربی افریقہ
بمشرقی بحیرۂ روم
ججنوبی ایشیا
دوسطی امریکہ
بازنطینی روم مشرقی بحیرۂ روم کے علاقے میں اس دور کی سب سے بڑی سیاسی اور عسکری قوت تھا۔
11روم میں مسیحی فرقوں کے اختلافات کا کیا نتیجہ نکلتا تھا؟
الفمکمل مذہبی ہم آہنگی
بریاستی جبر اور باہمی کشمکش
جفوری صلح اور اتحاد
دان اختلافات کا کوئی اثر نہیں پڑتا تھا
مسیحی فرقوں کے اعتقادی اختلافات اکثر ریاستی جبر اور باہمی کشمکش کا سبب بنتے تھے۔
12روم کی عام آبادی کس دباؤ کا شکار تھی؟
الفبھاری محصولات اور مسلسل جنگوں کا معاشی دباؤ
بصرف موسمی مشکلات
جصرف تعلیمی کمی
دصرف زبان کے مسائل
بھاری محصولات اور روم و ایران کی مسلسل جنگوں نے عام آبادی کو شدید معاشی دباؤ میں مبتلا رکھا۔
13ساسانی ایران میں کس نظام کا غلبہ تھا؟
الفجمہوری نظام
بشہنشاہی نظام اور درباری اشرافیہ کا غلبہ
جقبائلی جمہوریت
دبازنطینی طرزِ حکومت
ایران میں شہنشاہی نظام، سخت طبقاتی تقسیم اور درباری اشرافیہ کا غلبہ تھا۔
14ایران میں کس مذہب کو سرکاری سرپرستی حاصل تھی؟
الفزرتشتی مذہب
ببدھ مت
جیہودیت
دصابئی مذہب
زرتشتی مذہب کو ایران میں سرکاری سرپرستی حاصل تھی، جبکہ دیگر مذاہب کی حالت وقت کے ساتھ بدلتی رہی۔
15مصر اس دور میں سیاسی طور پر کس کے زیرِ اثر تھا؟
الفایرانی سلطنت
برومی اقتدار
جچینی سلطنت
دحبشی بادشاہت
مصر سیاسی طور پر رومی اقتدار کے زیرِ اثر تھا اور مذہبی طور پر داخلی اختلافات کا شکار تھا۔
16حبشہ کے بادشاہ نجاشی کی کون سی خصوصیت سیرت کے تناظر میں اہم ہے؟
الفاس کی عسکری طاقت
باس کا عدل اور مظلوم مسلمانوں کو پناہ دینا
جاس کی تجارتی دولت
داس کا زرتشتی مذہب اختیار کرنا
نجاشی کے عدل نے بعد میں مظلوم مسلمانوں کو ہجرت کے وقت محفوظ پناہ فراہم کی، جو اس کے کردار کی نمایاں خصوصیت تھی۔
17پیشِ اسلام ہندوستان کی نمایاں سماجی خصوصیت کیا تھی؟
الفمکمل سماجی مساوات
بذات پات کی سخت تقسیم
جمرکزی جمہوری نظام
دقبائلی بادشاہت کا خاتمہ
ہندوستان میں مذہبی تنوع کے ساتھ ساتھ ذات پات کی سخت اور غیر منصفانہ تقسیم موجود تھی۔
18چین نے اس دور میں کس بنیاد پر مضبوط تہذیبی ڈھانچہ قائم کیا؟
الفصرف عسکری طاقت پر
بمنظم سلطنت، زراعت، تجارت اور علمی روایت پر
جصرف مذہبی جبر پر
دصرف بحری تجارت پر
چین میں منظم سلطنت، ترقی یافتہ زراعت، وسیع تجارت اور علمی روایت نے ایک مضبوط تہذیبی ڈھانچہ تشکیل دیا۔
19نبوی دعوت نے انسانیت کو تقسیم کرنے والی کن بنیادوں کے مقابلے میں کیا پیش کیا؟
الفنسل اور طبقے کی برتری کو مزید تقویت دی
بتقویٰ اور کردار پر مبنی اخلاقی برادری کا تصور دیا
جصرف عرب کی برتری کو تسلیم کیا
دصرف مالی حیثیت کو معیار بنایا
اسلام نے نسل، طبقے اور قبیلے سے بلند ہو کر تقویٰ اور کردار پر مبنی اخلاقی برادری کا تصور پیش کیا۔
20عالمی پس منظر سے قرآن کے کس پیغام کی وسعت نمایاں ہوتی ہے؟
الفعدل، رحمت اور انسانی مساوات کے پیغام کی
بصرف عرب کی مقامی روایات کی
جصرف قبائلی جنگوں کی حکمتِ عملی کی
دصرف تجارتی معاہدوں کی
اس عالمی پس منظر سے قرآن کے عدل، رحمت اور انسانی مساوات کے پیغام کی حقیقی عالمگیر وسعت نمایاں ہوتی ہے۔

موضوع 3۔ حضور اکرم ﷺ کا نسب، ولادت، بچپن، جوانی اور قبل از نبوت زندگی

1رسول اللہ ﷺ کس قبائلی خاندان سے تعلق رکھتے تھے؟
الفبنی ہاشم
ببنی امیہ
جبنی مخزوم
دبنی عدی
رسول اللہ ﷺ قریش کے معزز خاندان بنی ہاشم سے تعلق رکھتے تھے، جسے مکہ میں خاص عزت حاصل تھی۔
2نبی کریم ﷺ کا نسب کس ہستی کے ذریعے حضرت اسماعیلؑ تک پہنچایا جاتا ہے؟
الفعدنان
بقحطان
جکنانہ کے بعد کسی نامعلوم شخص
دصرف قریش کے نام سے
آپ ﷺ کا نسب عدنان کے واسطے سے حضرت اسماعیلؑ تک پہنچایا جاتا ہے، جبکہ اس سے اوپر کی تفصیل میں احتیاط برتی جاتی ہے۔
3قرآن مجید کے مطابق اصل فضیلت کس چیز پر منحصر ہے؟
الفنسب اور خاندان پر
بتقویٰ اور عمل پر
جمالی حیثیت پر
دقبائلی طاقت پر
قرآن مجید نے واضح کیا کہ اصل فضیلت نسب کی بجائے تقویٰ اور نیک عمل کی بنیاد پر متعین ہوتی ہے۔
4نبی کریم ﷺ کی ولادت کس واقعے کے قریب ہوئی؟
الفعام الفیل
بغزوۂ بدر
جفتح مکہ
دصلح حدیبیہ
آپ ﷺ کی ولادت مکہ میں عام الفیل کے قریب ہوئی، یعنی اس سال جب ابرہہ نے کعبہ پر حملے کی کوشش کی تھی۔
5نبی کریم ﷺ کی پیدائش سے پہلے کس کا انتقال ہو چکا تھا؟
الفدادا عبدالمطلب کا
بوالد حضرت عبداللہ کا
جوالدہ آمنہ کا
دچچا ابوطالب کا
آپ ﷺ کی پیدائش سے پہلے ہی آپ کے والد حضرت عبداللہ کا انتقال ہو چکا تھا۔
6چھ برس کی عمر میں نبی کریم ﷺ کو کس کی وفات کا صدمہ برداشت کرنا پڑا؟
الفدادا عبدالمطلب کی
بوالدہ آمنہ کی
جچچا ابوطالب کی
دحضرت خدیجہؓ کی
چھ برس کی عمر میں آپ ﷺ کی والدہ آمنہ کا انتقال ہوا، جبکہ آٹھ برس کی عمر میں دادا عبدالمطلب کی وفات ہوئی۔
7عرب روایت کے مطابق نبی کریم ﷺ نے رضاعت کس کے ہاں پائی؟
الفحضرت حلیمہ سعدیہ کے ہاں
بحضرت خدیجہؓ کے ہاں
جحضرت آمنہ کے ہاں
دام ایمنؓ کے ہاں
آپ ﷺ نے بنو سعد قبیلے میں حضرت حلیمہ سعدیہ کے ہاں رضاعت پائی، جو اس دور کے مکی رواج کے مطابق تھا۔
8صحرائی ماحول نے نبی کریم ﷺ کی تربیت میں کیا کردار ادا کیا؟
الفصرف جسمانی طاقت میں اضافہ کیا
بجسمانی نشوونما اور لسانی فصاحت میں مدد دی
جکوئی خاص کردار ادا نہیں کیا
دصرف تجارتی مہارت پیدا کی
صحرا کی پاکیزہ فضا، فصیح زبان اور سادہ زندگی نے آپ ﷺ کی جسمانی نشوونما اور لسانی تربیت دونوں میں کردار ادا کیا۔
9دادا عبدالمطلب کی وفات کے بعد نبی کریم ﷺ کی کفالت کس نے کی؟
الفچچا ابوطالب نے
بچچا حمزہؓ نے
جحضرت خدیجہؓ نے
دحضرت حلیمہ سعدیہ نے
دادا عبدالمطلب کی وفات کے بعد چچا ابوطالب نے محبت اور ذمہ داری سے آپ ﷺ کی کفالت کی۔
10ابوطالب نے ایمان قبول نہ کرنے کے باوجود کیا کیا؟
الفنبی کریم ﷺ کی مخالفت کی
بقریش کے مقابلے میں قبائلی حمایت فراہم کی
جدعوت کو روکنے کی کوشش کی
دمکہ سے ہجرت کر گئے
ابوطالب نے ایمان قبول نہ کرنے کے باوجود قریش کی مخالفت کے مقابلے میں اپنے بھتیجے کو قبائلی حمایت اور تحفظ فراہم کیا۔
11نبی کریم ﷺ کو جوانی میں کن القاب سے یاد کیا جاتا تھا؟
الفالصادق اور الامین
بالفاروق اور الصدیق
جالنجیب اور الکریم
دالحلیم اور الرحیم
دیانت اور وعدے کی پابندی کے باعث اہلِ مکہ آپ ﷺ کو الصادق (سچا) اور الامین (امانت دار) کہا کرتے تھے۔
12حلف الفضول کا بنیادی مقصد کیا تھا؟
الفتجارتی منافع میں اضافہ
بمظلوم کو حق دلانا
جقبائلی جنگ کا آغاز کرنا
دبت پرستی کو فروغ دینا
حلف الفضول مکہ میں مظلوم کا حق دلانے اور طاقتور قبائل کی زیادتی روکنے کے لیے قائم کیا گیا معاہدہ تھا۔
13نبی کریم ﷺ نے حلف الفضول میں اپنی شرکت کو بعد از نبوت کیسے یاد کیا؟
الفاسے غیر ضروری قرار دیا
باسے قدر کی نگاہ سے یاد کیا
جاس کا کبھی ذکر نہیں کیا
داسے کالعدم قرار دیا
رسول اللہ ﷺ نے حلف الفضول میں اپنی شرکت کو بعد از نبوت بھی قدر کی نگاہ سے یاد کیا اور اس کی تحسین فرمائی۔
14حضرت خدیجہؓ نے نبی کریم ﷺ سے نکاح کی پیش کش کیوں کی؟
الفآپ کی تجارتی دیانت سے متاثر ہو کر
بسیاسی مصلحت کی بنا پر
جخاندانی دباؤ کی وجہ سے
دمالی فائدے کی خاطر
آپ ﷺ کی تجارتی دیانت اور امانت داری سے متاثر ہو کر حضرت خدیجہؓ نے نکاح کی پیش کش کی۔
15آغازِ وحی کے نازک مرحلے میں سب سے پہلے کس نے نبی کریم ﷺ کو تسلی دی؟
الفحضرت ابوبکرؓ نے
بحضرت خدیجہؓ نے
جحضرت علیؓ نے
دورقہ بن نوفل نے
آغازِ وحی کے نازک مرحلے میں حضرت خدیجہؓ نے سب سے پہلے آپ ﷺ کو تسلی دی اور نبوت کی تصدیق کی۔
16قریش کی تعمیرِ کعبہ کے دوران کس مسئلے پر نزاع پیدا ہوا؟
الفحجرِ اسود نصب کرنے پر
بتعمیر کے اخراجات پر
جکعبہ کے دروازے کی سمت پر
دتعمیر کے وقت پر
قریش کی تعمیرِ کعبہ کے دوران حجرِ اسود کو نصب کرنے کے حق پر مختلف قبائل کے درمیان شدید نزاع پیدا ہو گیا۔
17نبی کریم ﷺ نے حجرِ اسود کے تنازعے کا کیا حل پیش کیا؟
الفچادر میں رکھوا کر سرداروں سے مشترکہ طور پر اٹھوایا
بقرعہ اندازی کروائی
جتنازعے کو نظر انداز کر دیا
دجنگ کی اجازت دے دی
آپ ﷺ نے حجرِ اسود کو چادر میں رکھوا کر تمام قبائل کے سرداروں کو مشترکہ طور پر اٹھانے کا حکیمانہ حل پیش کیا۔
18حجرِ اسود کے فیصلے سے نبی کریم ﷺ کی کون سی صفت ظاہر ہوتی ہے؟
الفغیر جانب داری اور حکمت
بصرف جسمانی طاقت
جصرف مالی فیاضی
دصرف شاعرانہ صلاحیت
اس فیصلے نے آپ کی غیر معمولی حکمت، غیر جانب داری اور نزاعات حل کرنے کی صلاحیت کو ظاہر کیا۔
19ولادتِ نبوی ﷺ کی تاریخ کے بارے میں علمی احتیاط کیوں ضروری ہے؟
الفکیونکہ ولادت کا سال ہی نامعلوم ہے
بکیونکہ مہینے اور دن کی تاریخ میں اہلِ سیر کے اقوال مختلف ہیں
جکیونکہ ولادت کا مقام غیر واضح ہے
دکیونکہ اس واقعے کا کوئی ماخذ موجود نہیں
ولادت کا سال عام الفیل کے قریب ہونا معروف ہے، مگر مہینے اور دن کی متعین تاریخ کے بارے میں اہلِ سیر کے اقوال مختلف ہیں۔
20قبل از نبوت زندگی کے واقعات کو مجموعی طور پر کس نظر سے دیکھا جانا چاہیے؟
الفبے ربط اور غیر متعلق واقعات کے طور پر
بنبوی ذمہ داری کی تدریجی تیاری کے طور پر
جمحض تاریخی تفصیل کے طور پر
دصرف قبائلی رسم و رواج کے طور پر
قبل از نبوت زندگی کے واقعات دراصل ایک ہی تربیتی سلسلے کی کڑیاں تھے جو آئندہ نبوی ذمہ داری کی تیاری ثابت ہوئے۔

موضوع 4۔ بعثتِ نبوی، آغازِ وحی، مقاصدِ رسالت اور عقیدۂ ختمِ نبوت

1نبی کریم ﷺ کو کس عمر میں نبوت سے سرفراز کیا گیا؟
الفچالیس برس
بتیس برس
جپچاس برس
دپینتیس برس
نبی کریم ﷺ کو چالیس برس کی عمر میں غارِ حرا میں پہلی وحی کے ذریعے نبوت سے سرفراز کیا گیا۔
2بعثت سے پہلے نبی کریم ﷺ کو کس چیز نے بے چین رکھا؟
الفتجارتی خسارہ
بمکہ کی بت پرستی اور اخلاقی فساد
جقبائلی جنگیں صرف
دموسمی مشکلات
بعثت سے پہلے مکہ کی بت پرستی اور اخلاقی فساد آپ ﷺ کو شدید بے چین رکھتا تھا، جس نے خلوت کی طرف مائل کیا۔
3غارِ حرا کی خلوت کا اصل مقصد کیا تھا؟
الفمعاشرے سے فرار
بآنے والی ذمہ داری کے لیے روحانی تیاری
جتجارتی منصوبہ بندی
دمحض آرام و سکون
غارِ حرا کی خلوت معاشرے سے فرار نہیں بلکہ آنے والی عظیم نبوی ذمہ داری کے لیے ایک گہری روحانی تیاری تھی۔
4پہلی وحی کے موقع پر حضرت جبریلؑ کس مہینے میں حاضر ہوئے؟
الفرمضان
بشعبان
جمحرم
دذوالحجہ
چالیس برس کی عمر میں رمضان کے مبارک مہینے میں حضرت جبریلؑ غارِ حرا میں حاضر ہوئے اور وحی کا آغاز ہوا۔
5پہلی وحی کے ابتدائی الفاظ کیا تھے؟
الفاقرأ باسم ربک
بیا ایہا المدثر
جقل ھو اللہ احد
دالحمد للہ رب العالمین
پہلی وحی کے ابتدائی الفاظ اقرأ باسم ربک تھے، جنہوں نے علم کو ابتدا ہی سے رب کی معرفت سے جوڑ دیا۔
6پہلی وحی کے تجربے کے بعد گھر لوٹنے پر نبی کریم ﷺ کو سب سے پہلے کس نے تسلی دی؟
الفحضرت ابوبکرؓ نے
بحضرت خدیجہؓ نے
جورقہ بن نوفل نے
دحضرت علیؓ نے
وحی کے تجربے کی ہیبت سے گھر لوٹنے پر حضرت خدیجہؓ نے سب سے پہلے آپ ﷺ کو چادر اوڑھا کر تسلی دی۔
7ورقہ بن نوفل کی کیا خصوصیت تھی جس کی بنا پر حضرت خدیجہؓ آپ کے پاس گئیں؟
الفوہ ایک تاجر تھے
بوہ سابقہ آسمانی کتابوں سے واقف تھے
جوہ ایک شاعر تھے
دوہ مکہ کے سردار تھے
ورقہ بن نوفل سابقہ آسمانی کتب سے واقفیت رکھتے تھے، اسی لیے حضرت خدیجہؓ آپ ﷺ کو ان کے پاس لے گئیں۔
8ورقہ بن نوفل نے وحی کے فرشتے کے بارے میں کیا کہا؟
الفیہ وہی ناموس ہے جو حضرت موسیٰؑ کے پاس آیا تھا
بیہ ایک عام خواب ہے
جیہ شیطانی وسوسہ ہے
داس کا کوئی مطلب نہیں
ورقہ نے کہا کہ یہ وہی عظیم ناموس (فرشتہ) ہے جو حضرت موسیٰؑ کے پاس آیا تھا، اور یہی نبوت کی علامت ہے۔
9پہلی وحی کے بعد کیا واقعہ پیش آیا جسے وقفۂ وحی کہا جاتا ہے؟
الفوحی کا سلسلہ مستقل طور پر بند ہو گیا
بایک عرصے کے لیے وحی میں وقفہ آیا
جوحی روزانہ نازل ہونے لگی
دوحی کا آغاز اسی وقت سے ہوا
پہلی وحی کے بعد ایک وقفہ آیا جسے وقفۂ وحی کہا جاتا ہے، اور اس کی مدت کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔
10وقفۂ وحی کے بعد نازل ہونے والی سورت نے کیا حکم دیا؟
الفانذار اور پاکیزگی اختیار کرنے کا حکم
بصرف روزے کا حکم
جصرف زکوٰۃ کا حکم
دصرف حج کا حکم
سورۂ مدثر کی ابتدائی آیات نے یا ایہا المدثر کے حکم کے ذریعے انذار اور ظاہری و باطنی پاکیزگی کا راستہ متعین کیا۔
11وحی نے نبی کریم ﷺ کی ذاتی عبادت کو کس چیز میں تبدیل کر دیا؟
الفذاتی عبادت میں محدود رکھا
باجتماعی دعوت اور اصلاح کی ذمہ داری میں
جتجارتی سرگرمی میں
دصرف خاندانی معاملات میں
وحی نے آپ ﷺ کی ذاتی عبادت کو ایک اجتماعی دعوت اور معاشرتی اصلاح کی وسیع ذمہ داری میں تبدیل کر دیا۔
12رسالت کا سب سے پہلا اور بنیادی مقصد کیا تھا؟
الفانسان کو شرک سے نکال کر توحید کی طرف لانا
بصرف عرب کو سیاسی طور پر متحد کرنا
جصرف تجارت کو فروغ دینا
دصرف قبائلی جنگیں ختم کرنا
رسالت کا پہلا اور بنیادی مقصد انسان کو ہر قسم کے شرک سے نکال کر خالص توحید کی طرف لانا تھا۔
13قرآن مجید نے نبوی مشن کے بنیادی اجزا کن چیزوں کو قرار دیا؟
الفتلاوتِ آیات، تزکیۂ نفس اور تعلیمِ کتاب و حکمت
بصرف عسکری تربیت
جصرف تجارتی معاہدے
دصرف قبائلی اتحاد
قرآن نے تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفس اور کتاب و حکمت کی تعلیم کو نبوی مشن کے بنیادی اجزا قرار دیا۔
14نبی کریم ﷺ کی رسالت کس حد تک محدود تھی؟
الفصرف قریش تک
بصرف مکہ تک
جکسی مخصوص نسل یا خطے تک محدود نہیں تھی
دصرف عرب تک
قرآن نے آپ ﷺ کو تمام انسانوں کے لیے بشیر و نذیر قرار دیا، اس لیے آپ کی رسالت کسی مخصوص نسل یا خطے تک محدود نہیں۔
15قرآن مجید نے نبی کریم ﷺ کو کن الفاظ سے یاد کیا؟
الفتمام جہانوں کے لیے رحمت
بصرف عرب کے لیے رہنما
جصرف قریش کے لیے سردار
دصرف مکہ کے لیے مصلح
قرآن نے آپ ﷺ کو تمام انسانوں کے لیے بشیر و نذیر اور تمام جہانوں کے لیے رحمت قرار دیا۔
16قرآن مجید کے مطابق نبی کریم ﷺ کا لقب کیا ہے جو ختمِ نبوت کی دلیل ہے؟
الفخاتم النبیین
بسیدالانبیاء صرف روایتی طور پر
جامام الانبیاء
دصرف رسولِ عرب
سورۂ احزاب میں قرآن نے نبی کریم ﷺ کو خاتم النبیین قرار دیا، جو عقیدۂ ختمِ نبوت کی بنیادی قرآنی دلیل ہے۔
17عقیدۂ ختمِ نبوت کا حقیقی مفہوم کیا ہے؟
الفدین کی بنیادی ہدایت مکمل ہو چکی اور مزید کسی نبی کی ضرورت نہیں
بنبوت کا سلسلہ کسی اور شکل میں جاری ہے
جہر دور میں نیا نبی آ سکتا ہے
دنبوت کا تصور غیر واضح ہے
ختمِ نبوت کا مطلب یہ ہے کہ دین کی بنیادی ہدایت نبی کریم ﷺ کی رسالت پر مکمل ہو چکی، اور امت اسی کی حفاظت کی ذمہ دار ہے۔
18اسلام وحی اور عقل کے بارے میں کیا موقف رکھتا ہے؟
الفدونوں کو باہم دشمن سمجھتا ہے
بدونوں کو ایک دوسرے کا معاون سمجھتا ہے
جعقل کو مکمل طور پر رد کرتا ہے
دوحی کو غیر ضروری قرار دیتا ہے
اسلام وحی اور عقل کو باہم دشمن نہیں بلکہ ایک دوسرے کا معاون سمجھتا ہے، اور عقل کو وحی کے فہم کے لیے استعمال کرتا ہے۔
19حلال و حرام اور غیب کے بنیادی حقائق کس ذریعے سے متعین ہوتے ہیں؟
الفانسانی خواہش سے
بوحی سے
جمحض رواج سے
دصرف عقل سے
حلال و حرام اور غیب کے بنیادی حقائق انسانی خواہش کے بجائے وحی سے متعین ہوتے ہیں، تاکہ دین کی بنیاد مستحکم رہے۔
20عقیدۂ ختمِ نبوت کا سب سے پہلا عملی تقاضا کیا ہے؟
الفقرآن و سنت کو آخری نبوی ہدایت مان کر کسی نئے مدعیِ نبوت کو رد کرنا
بنئے نبیوں کی تلاش جاری رکھنا
جہر دور میں نئی وحی کا انتظار کرنا
دنبوت کے تصور کو غیر اہم سمجھنا
ختمِ نبوت کا پہلا عملی تقاضا یہ ہے کہ قرآن و سنت کو آخری اور حتمی نبوی ہدایت مانا جائے اور کسی نئے مدعیِ نبوت کو تسلیم نہ کیا جائے۔

موضوع 5۔ مکی دور میں دعوتِ اسلام کا آغاز، دعوت کے مراحل اور ابتدائی مسلمان

1مکی دعوت کی بنیاد کن اصولوں پر رکھی گئی؟
الفتوحید، آخرت اور اخلاقی جواب دہی
بصرف تجارتی اصلاح
جصرف قبائلی اتحاد
دصرف عسکری تنظیم
مکی دعوت کی بنیاد توحید، آخرت اور اخلاقی جواب دہی کے تین بنیادی ستونوں پر رکھی گئی تھی۔
2رسول اللہ ﷺ نے انسان کو کن دو چیزوں کی غلامی سے آزاد ہونے کی دعوت دی؟
الفبتوں اور طبقاتی بڑائی سے
بتجارت اور زراعت سے
جشاعری اور خطابت سے
دسفر اور تجارت سے
رسول اللہ ﷺ نے انسان کو بتوں کی غلامی اور طبقاتی بڑائی کے تسلط، دونوں سے آزاد ہونے کی دعوت دی۔
3ابتدائی مکی آیات نے ایمان کے ساتھ کن چیزوں پر زور دیا؟
الفعلم، عبادت، انفاق اور کردار سازی
بصرف عسکری تربیت
جصرف مالی منافع
دصرف قبائلی وفاداری
ابتدائی آیات نے ایمان کے ساتھ ساتھ علم، عبادت، انفاق اور کردار سازی پر بھی زور دیا تاکہ عقیدہ عملی طرزِ زندگی بن جائے۔
4دعوت کا ابتدائی مرحلہ کس طریقے سے آگے بڑھا؟
الفعلانیہ تقریروں سے
بخفیہ اور شخصی رابطوں سے
جتحریری خطوط کے ذریعے
دصرف تجارتی سفروں کے دوران
دعوت کا ابتدائی مرحلہ خفیہ اور محدود رہا اور اسے شخصی رابطوں کے ذریعے آگے بڑھایا گیا۔
5خفیہ دعوت کا طریقہ کیوں اختیار کیا گیا؟
الفیہ خوف کی وجہ سے تھا
بیہ نئی جماعت کی حفاظت اور تربیت کی حکمت تھی
جاس کی کوئی خاص وجہ نہیں تھی
دیہ محض اتفاق تھا
خفیہ دعوت خوف یا کمزوری کا نتیجہ نہیں بلکہ نئی ابھرتی ہوئی جماعت کی حفاظت اور تربیت کی ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی تھی۔
6سب سے پہلے ایمان لانے والی ہستی کون تھیں؟
الفحضرت خدیجہؓ
بحضرت ابوبکرؓ
جحضرت علیؓ
دحضرت زید بن حارثہؓ
حضرت خدیجہؓ سب سے پہلے ایمان لائیں اور زندگی کے ہر مرحلے میں رسول اللہ ﷺ کے لیے سب سے بڑا سہارا ثابت ہوئیں۔
7ابتدائی قبول اسلام کرنے والوں میں کن صحابہ کا ذکر ملتا ہے؟
الفحضرت علیؓ، زید بن حارثہؓ اور ابوبکرؓ
بصرف قریش کے سردار
جصرف حبشہ کے باشندے
دصرف مدینہ کے انصار
حضرت علیؓ، حضرت زید بن حارثہؓ اور حضرت ابوبکرؓ ابتدائی قبول اسلام کرنے والوں میں شامل تھے۔
8حضرت ابوبکرؓ نے دعوت کے لیے کن وسائل کو استعمال کیا؟
الفاپنے اعتماد، اخلاق اور سماجی روابط کو
بصرف مالی رشوت کو
جصرف عسکری طاقت کو
دصرف قبائلی دباؤ کو
حضرت ابوبکرؓ نے اپنے اعتماد، اخلاق اور سماجی و تجارتی روابط کو دعوتِ اسلام کے لیے مؤثر طریقے سے استعمال کیا۔
9حضرت ابوبکرؓ کی کوششوں سے کون سے افراد اسلام لائے؟
الفعثمان بن عفانؓ، زبیر بن عوامؓ اور دیگر
بصرف حبشہ کے باشندے
جصرف قریش کے سردار
دصرف مدینہ کے قبائل
حضرت ابوبکرؓ کی کوششوں سے عثمان بن عفانؓ، زبیر بن عوامؓ، عبدالرحمن بن عوفؓ، سعد بن ابی وقاصؓ اور طلحہ بن عبیداللہؓ اسلام لائے۔
10دارِ ارقم کس مقصد کے لیے استعمال ہوتا تھا؟
الفتجارتی سرگرمیوں کے لیے
بابتدائی مسلمانوں کی تعلیم و تربیت کے لیے
جقبائلی جرگوں کے لیے
دصرف قیام گاہ کے طور پر
دارِ ارقم ابتدائی مسلمانوں کی تعلیم اور تربیت کا اہم مرکز بنا جہاں قرآن پڑھایا جاتا اور ایمان مضبوط کیا جاتا تھا۔
11علانیہ دعوت کا آغاز کس قرآنی حکم کے بعد ہوا؟
الفقریبی خاندان کو خبردار کرنے کے حکم کے بعد
بہجرت کے حکم کے بعد
ججہاد کے حکم کے بعد
دروزے کے حکم کے بعد
قریبی خاندان کو خبردار کرنے کے قرآنی حکم کے بعد دعوت نے علانیہ صورت اختیار کی۔
12نبی کریم ﷺ نے علانیہ دعوت کے لیے کس مقام کا انتخاب کیا؟
الفصفا کی پہاڑی
بکعبہ کا صحن
جطائف کی وادی
ددارِ ارقم
آپ ﷺ نے صفا کی پہاڑی پر قریش کو جمع کر کے اپنی سچائی کی گواہی لی اور آخرت سے خبردار کیا۔
13علانیہ دعوت کے موقع پر سب سے سخت مخالفت کس نے کی؟
الفابولہب نے
بابوطالب نے
جحضرت حمزہؓ نے
دنجاشی نے
ابولہب نے صفا کی پہاڑی کے موقع پر سخت مخالفت اور نامناسب طرزِ عمل کا مظاہرہ کیا۔
14مکی سورتوں نے کن موضوعات کو بار بار پیش کیا؟
الفتوحید، قیامت اور اخلاقی ذمہ داری
بصرف عسکری قوانین
جصرف وراثت کے احکام
دصرف تجارتی معاہدے
مکی سورتوں نے توحید، قیامت، سابقہ اقوام اور اخلاقی ذمہ داری جیسے موضوعات کو بار بار پیش کیا۔
15مکی قرآن نے کمزور مسلمان جماعت کو کیا قوت عطا کی؟
الففوری سیاسی غلبہ
بصبر، نماز اور اخلاقی کردار کی قوت
جمالی وسائل کی کثرت
دعسکری ہتھیار
قرآن نے کمزور جماعت کو فوری سیاسی غلبے کے بجائے صبر، نماز اور کردار کی حقیقی قوت عطا کی۔
16نبوی دعوت میں کون سے اصول ایک ساتھ جمع تھے؟
الفوضوح، تدریج، حکمت اور مخاطب کی رعایت
بصرف جبر اور سختی
جصرف رازداری
دصرف مالی ترغیب
نبوی دعوت میں وضوح، تدریج، حکمت اور مخاطب کی رعایت جیسی خصوصیات ایک ساتھ جمع تھیں۔
17رسول اللہ ﷺ نے دعوت کے دوران کیا سمجھوتا کبھی قبول نہیں کیا؟
الفمراعات کے بدلے اصولی سمجھوتا
بسماجی رابطوں کا سمجھوتا
جتجارتی سمجھوتا
دخاندانی سمجھوتا
آپ ﷺ نے دنیاوی مراعات کے بدلے کسی بھی اصولی سمجھوتے کو کبھی قبول نہیں کیا، چاہے مخالفین نے کتنی ہی پیشکش کی۔
18مکی دعوت میں تدریج کا اصل مقصد کیا تھا؟
الفمقصد چھپانا
بجماعت سازی، تربیت اور مناسب انتظام
جدعوت کو کمزور کرنا
دوقت ضائع کرنا
تدریج مقصد چھپانے کے لیے نہیں بلکہ جماعت سازی، مؤثر تربیت اور حالات کے مناسب انتظام کے لیے اختیار کی گئی۔
19ابتدائی مسلمانوں کی قربانیوں سے کیا اصول ثابت ہوتا ہے؟
الفدعوت کی کامیابی تعداد سے نہیں بلکہ ایمان اور استقامت سے وابستہ ہے
بدعوت کی کامیابی صرف تعداد پر منحصر ہے
جدعوت کی کامیابی صرف مالی وسائل پر منحصر ہے
ددعوت کی کامیابی کا کوئی اصول نہیں
ابتدائی مسلمانوں نے ثابت کیا کہ دعوت کی کامیابی تعداد سے پہلے ایمان، تربیت اور اخلاقی استقامت سے وابستہ ہے۔
20مکی دعوت کے پیغام کی نوعیت آغاز سے کیسی تھی؟
الفابتدا ہی سے مبہم اور غیر واضح
بابتدا ہی سے توحید، آخرت اور اخلاق پر واضح
جصرف علانیہ مرحلے میں واضح ہوئی
دکبھی واضح نہیں ہوئی
دعوت کا بنیادی پیغام ابتدا ہی سے توحید، آخرت اور اخلاق پر واضح اور غیر مبہم تھا، البتہ ابلاغ میں تدریج اختیار کی گئی۔

موضوع 6۔ قریش کی مخالفت، مسلمانوں پر مظالم، ہجرتِ حبشہ اور شعبِ ابی طالب کا محاصرہ

1قریش کی مخالفت کا سب سے بنیادی مذہبی سبب کیا تھا؟
الفتوحید کے اعلان نے کعبہ سے وابستہ بت پرستانہ نظام اور قریش کی مذہبی پیشوائی کو چیلنج کیا
بمسلمانوں کی تعداد میں اچانک اضافہ ہو گیا تھا
جرسول اللہ ﷺ نے تجارتی راستے تبدیل کر دیے تھے
دقریش کے سردار آپس میں سیاسی اختلافات کا شکار تھے
توحید کا اعلان بتوں کی خدمت اور کعبہ سے وابستہ قریشی اقتدار کے لیے براہِ راست خطرہ تھا، اس لیے یہ مخالفت کا سب سے بنیادی سبب بنا۔
2اسلامی مساوات کے تصور نے قریشی اشرافیہ کو کیوں ناگوار گزرا؟
الفاس نے نسب، دولت اور غلامی پر قائم طبقاتی امتیاز کی بنیاد کو کمزور کر دیا
باس نے تجارت پر ٹیکس عائد کر دیا تھا
جاس نے حج کے مقامات تبدیل کر دیے تھے
داس نے قریش کو مکہ چھوڑنے پر مجبور کیا
اسلام کی مساوات نے نسبی اور طبقاتی برتری کے اس نظام کو چیلنج کیا جس پر قریشی اشرافیہ کا سماجی اقتدار قائم تھا۔
3قریش نے دعوتِ اسلام کے خلاف سب سے پہلے کون سا حربہ استعمال کیا؟
الففوری طور پر مسلح تصادم کیا
بتمسخر، الزام تراشی اور نفسیاتی دباؤ کا سہارا لیا
جتمام مسلمانوں کو مکہ سے نکال دیا
دنجاشی کے دربار میں شکایت کی
ابتدائی مرحلے میں قریش نے تشدد کے بجائے تمسخر، جھوٹے الزامات اور نفسیاتی دباؤ کے ذریعے دعوت کو روکنے کی کوشش کی۔
4رسول اللہ ﷺ کے خلاف قریش نے کون سے الزامات لگائے جن کی قرآن نے تردید کی؟
الفشاعر، ساحر اور مجنون ہونے کے الزامات
بتاجر اور مسافر ہونے کے الزامات
جقبیلے کا سردار بننے کے الزامات
دحج کا انتظام سنبھالنے کے الزامات
قریش نے آپ ﷺ کو شاعر، ساحر اور مجنون کہا، جن کی قرآن کریم میں واضح اور مدلل تردید نازل ہوئی۔
5جب مراعات کی پیشکش ناکام ہوئی تو قریش نے کیا طریقہ اپنایا؟
الفدعوت سے مکمل طور پر دستبردار ہو گئے
بمعاشرتی اور جسمانی تشدد کا راستہ اختیار کیا
جنجاشی سے مدد مانگی
داسلام قبول کرنے پر آمادہ ہو گئے
جب رشوت اور مراعات کی پیشکش رد کر دی گئی تو قریش نے کمزور مسلمانوں پر معاشرتی اور جسمانی تشدد شروع کر دیا۔
6حضرت بلالؓ کو کس اذیت کا سامنا کرنا پڑا؟
الفانہیں مکہ سے جلاوطن کر دیا گیا
بانہیں تپتی ریت پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھا جاتا تھا
جان کا سارا مال ضبط کر لیا گیا
دانہیں غار میں قید کر دیا گیا
حضرت بلالؓ کو مکہ کی تپتی دھوپ میں ریت پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھا جاتا تھا، مگر وہ توحید پر ثابت قدم رہے۔
7قرآن نے حضرت عمارؓ کے واقعے سے کون سا فقہی اصول واضح کیا؟
الفجان کے خطرے میں دل کے ایمان کے ساتھ زبانی اکراہ کی گنجائش
بہر حال میں فوراً ہجرت کر جانا واجب ہے
جاذیت کے وقت جوابی تشدد جائز ہے
دمشکل میں دین چھپانا ہمیشہ ممنوع ہے
حضرت عمارؓ کے واقعے سے یہ اصول واضح ہوا کہ اگر دل ایمان پر مطمئن ہو تو جان کے شدید خطرے میں زبان سے نکلنے والے مجبوری کے الفاظ کی شرعی رعایت ہے۔
8اسلام کی پہلی شہیدہ کون سی خاتون قرار پائیں؟
الفحضرت خدیجہؓ
بحضرت سمیہؓ
جحضرت اسماءؓ
دحضرت ام سلمہؓ
حضرت سمیہؓ کو بنو مخزوم کی اذیتوں کے نتیجے میں شہید کیا گیا اور وہ اسلام کی پہلی شہیدہ قرار پائیں۔
9آلِ یاسر کے واقعے سے سب سے اہم سبق کیا ملتا ہے؟
الفنبوی جماعت کی قوت مال اور تعداد میں تھی
بنبوی جماعت کی قوت ایمان اور اخلاقی استقامت میں تھی
جاذیت کے مقابلے میں انتقام لینا ضروری تھا
دکمزور مسلمانوں کو دعوت سے الگ رکھا گیا تھا
آلِ یاسر کی قربانی نے ثابت کیا کہ ابتدائی مسلمانوں کی اصل طاقت مادی وسائل میں نہیں بلکہ ایمان کی گہرائی اور استقامت میں تھی۔
10رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو حبشہ جانے کی اجازت کیوں دی؟
الفکیونکہ وہاں تجارت کے بہتر مواقع تھے
بکیونکہ وہاں نجاشی نامی عادل بادشاہ حکومت کرتا تھا
جکیونکہ حبشہ مکہ سے قریب تر تھا
دکیونکہ وہاں پہلے سے مسلمان آباد تھے
حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے عدل اور انصاف پسندی کی شہرت کے باعث رسول اللہ ﷺ نے مظلوم مسلمانوں کو وہاں پناہ لینے کی اجازت دی۔
11ہجرتِ حبشہ سے کون سا اصول اخذ ہوتا ہے؟
الفمسلمان کبھی بھی غیر مسلم حکومت کے زیرِ سایہ نہیں رہ سکتے
بعدل فراہم کرنے والی غیر مسلم حکومت کے زیرِ سایہ عارضی پناہ جائز ہے
جہجرت صرف مسلح مزاحمت کے بعد کی جا سکتی ہے
دہجرت کا مقصد صرف تجارتی فائدہ حاصل کرنا تھا
ہجرتِ حبشہ نے یہ اصول قائم کیا کہ جہاں عدل اور مذہبی آزادی میسر ہو، وہاں مظلوم مسلمان غیر مسلم حکومت کے زیرِ سایہ بھی عارضی پناہ لے سکتے ہیں۔
12قریش نے نجاشی کے دربار میں مہاجرین کو واپس لانے کے لیے کن کو بھیجا؟
الفابوجہل اور ابولہب
بعمرو بن العاص اور عبداللہ بن ابی ربیعہ
جخالد بن ولید اور عکرمہ
دابوسفیان اور ولید بن مغیرہ
قریش نے عمرو بن العاص اور عبداللہ بن ابی ربیعہ کو تحائف کے ساتھ نجاشی کے دربار بھیجا تاکہ مہاجرین کو واپس مکہ لایا جا سکے۔
13نجاشی کے دربار میں کس صحابی نے اسلام کا جامع تعارف پیش کیا؟
الفحضرت جعفر بن ابی طالبؓ
بحضرت عمر بن خطابؓ
جحضرت عثمان بن عفانؓ
دحضرت زید بن حارثہؓ
حضرت جعفر بن ابی طالبؓ نے نجاشی کے دربار میں جاہلیت، نبوی دعوت اور اسلامی اخلاق کا جامع اور مؤثر تعارف پیش کیا۔
14سورۂ مریم کی کن آیات نے نجاشی کو متاثر کیا؟
الفحضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعے سے متعلق آیات
بحضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے متعلق آیات
جقیامت کے مناظر سے متعلق آیات
دحج کے احکام سے متعلق آیات
حضرت جعفرؓ نے سورۂ مریم کی وہ آیات تلاوت کیں جن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا ذکر تھا، جس سے نجاشی اور درباری متاثر ہوئے۔
15شعبِ ابی طالب کے محاصرے میں قریش نے کیا اقدام کیا؟
الفبنو ہاشم اور بنو مطلب سے سماجی و معاشی مقاطعے کا معاہدہ کیا
بتمام مسلمانوں کو قتل کرنے کا حکم دیا
جمکہ کی حدود سے مسلمانوں کو نکال باہر کیا
دکعبہ کو بند کر دیا
قریش نے بنو ہاشم اور بنو مطلب کے پورے قبیلے کے خلاف رشتہ داری اور تجارت پر پابندی کا ظالمانہ معاہدہ لکھ کر کعبہ میں آویزاں کیا۔
16محاصرے کے دوران مسلمانوں کو کن مشکلات کا سامنا رہا؟
الفخوراک کی شدید قلت کے باعث پتے اور چمڑا تک کھانا پڑا
بانہیں فوجی تربیت دی گئی
جانہیں مکہ سے مکمل طور پر نکال دیا گیا
دانہیں تجارتی اجارہ داری دی گئی
محاصرے کے دوران خوراک کی اس قدر قلت ہوئی کہ محصورین کو درختوں کے پتے اور خشک چمڑا تک کھانا پڑا۔
17شعبِ ابی طالب کا محاصرہ کن افراد کی کوششوں سے ختم ہوا؟
الفابوجہل اور ولید بن مغیرہ کی کوششوں سے
بہشام بن عمرو جیسے انصاف پسند افراد کی کوششوں سے
جنجاشی کی مداخلت سے
دخالد بن ولید کی سفارش سے
مکہ کے چند غیرت مند اور انصاف پسند افراد، خصوصاً ہشام بن عمرو، نے ظالمانہ صحیفے کے خلاف آواز اٹھا کر محاصرے کے خاتمے کی راہ ہموار کی۔
18ظالمانہ صحیفے کے بارے میں کیا انکشاف ہوا جس نے محاصرہ ختم کرنے میں مدد دی؟
الفاس پر جعلی دستخط پائے گئے
بدیمک نے اسے چاٹ لیا تھا سوائے اللہ کے نام کے
جوہ کبھی موجود ہی نہیں تھا
داسے مکہ کے باہر منتقل کر دیا گیا تھا
معلوم ہوا کہ دیمک نے صحیفے کا بیشتر حصہ چاٹ لیا تھا اور صرف اللہ کے نام والا حصہ محفوظ رہا، جس نے قریش کے سرداروں کے سامنے صحیفے کی حیثیت کمزور کر دی۔
19اس پورے دور کے واقعات سے مجموعی طور پر کیا سبق اخذ ہوتا ہے؟
الفمخالفت نے دعوت کو ختم کرنے کے بجائے اس کے اخلاقی وزن میں اضافہ کیا
بمخالفت نے دعوت کو مکمل طور پر ختم کر دیا
جصبر اور تدبیر کا کوئی کردار نہیں تھا
دمحاصرہ اور ہجرت غیر متعلق واقعات تھے
ان تمام واقعات کا مجموعی سبق یہ ہے کہ ظلم اور مخالفت نے دعوت کو ختم کرنے کے بجائے اس کی اخلاقی قوت اور کشش کو مزید بڑھا دیا۔
20قریش کی مخالفت کے دوران رسول اللہ ﷺ کی حکمتِ عملی کی سب سے نمایاں خصوصیت کیا تھی؟
الفاصولوں پر ثابت قدمی اور جائز تدبیر کا امتزاج
بہر مرحلے پر سمجھوتہ کر لینا
جمکمل خاموشی اختیار کرنا
دفوری مسلح مزاحمت کرنا
نبوی حکمتِ عملی کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا، جبکہ حالات کے مطابق جائز عملی تدبیر بھی اختیار کی گئی۔

موضوع 7۔ عام الحزن، سفرِ طائف، واقعۂ اسراء و معراج اور بیعتِ عقبہ

1عام الحزن کا سال کیوں کہا جاتا ہے؟
الفاس سال قحط پڑا تھا
باس سال حضرت خدیجہؓ اور ابوطالب کی وفات تقریباً ایک ساتھ ہوئی
جاس سال ہجرتِ مدینہ واقع ہوئی
داس سال جنگِ بدر لڑی گئی
نبوت کے دسویں سال حضرت خدیجہؓ اور ابوطالب کی وفات قریب قریب ہوئی، جس کی وجہ سے اسے عام الحزن یعنی غم کا سال کہا جاتا ہے۔
2حضرت خدیجہؓ کی وفات ذاتی طور پر رسول اللہ ﷺ کے لیے کیوں گہرا صدمہ تھی؟
الفوہ آپ ﷺ کی اولین مصدقہ اور ہر مشکل میں سہارا تھیں
بوہ مکہ کی سب سے دولت مند خاتون تھیں
جوہ قریش کی رہنما تھیں
دوہ ہجرتِ حبشہ کی قیادت کرتی تھیں
حضرت خدیجہؓ گھر کی رفیق، ہر مشکل میں مالی و جذباتی سہارا اور آغازِ وحی کی سب سے پہلی مصدقہ تھیں، اس لیے ان کی وفات ذاتی سطح پر گہرا صدمہ تھی۔
3ابوطالب کی وفات کے بعد قریش کی جسارت میں اضافہ کیوں ہوا؟
الفکیونکہ مسلمانوں کی تعداد کم ہو گئی تھی
بکیونکہ قبائلی تحفظ کی چھتری ختم ہو گئی تھی
جکیونکہ آپ ﷺ نے مکہ چھوڑ دیا تھا
دکیونکہ ابوطالب نے قریش سے معاہدہ کیا تھا
ابوطالب قبائلی حمیت کی بنا پر آپ ﷺ کی حفاظت کرتے تھے، اور ان کی وفات سے یہ سماجی تحفظ ختم ہو گیا جس سے قریش کی جسارت بڑھ گئی۔
4طائف کے سفر کا بنیادی مقصد کیا تھا؟
الفثقیف کے سرداروں سے دعوت اور ممکنہ تحفظ حاصل کرنا
بتجارتی معاہدہ کرنا
جحج کی تیاری کرنا
دنجاشی سے ملاقات کرنا
رسول اللہ ﷺ نے طائف کا سفر ثقیف کے سرداروں کے سامنے دعوت پیش کرنے اور ممکنہ طور پر نیا تحفظ حاصل کرنے کے لیے کیا تھا۔
5طائف میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟
الفسرداروں نے دعوت قبول کر لی
باوباش لڑکوں نے پتھراؤ کر کے آپ ﷺ کو زخمی کر دیا
جانہیں شہر کا سردار بنا دیا گیا
دانہیں تحفے دیے گئے
ثقیف کے سرداروں نے دعوت رد کر دی اور اوباش لڑکوں کو آپ ﷺ کے پیچھے لگا دیا، جنہوں نے پتھراؤ کر کے آپ ﷺ کے قدم لہولہان کر دیے۔
6طائف کی اذیت کے بعد آپ ﷺ نے فرشتے کی پیشکش پر کیا جواب دیا؟
الفانتقام کی اجازت دے دی
بانتقام کے بجائے آئندہ نسلوں کی ہدایت کے لیے دعا کی
جفوری بددعا کی
دخاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا
فرشتے کی طرف سے سزا کی پیشکش کے باوجود آپ ﷺ نے انتقام کے بجائے یہ دعا فرمائی کہ اللہ ان کی نسلوں سے ہدایت یافتہ لوگ پیدا فرمائے۔
7طائف سے واپسی پر نخلہ کے مقام پر کون سا واقعہ پیش آیا؟
الفایک تجارتی قافلہ ملا
بجنات کی جماعت نے تلاوت سن کر ایمان قبول کیا
جبارش کا معجزہ ہوا
دمطعم بن عدی سے ملاقات ہوئی
نخلہ کے مقام پر جنات کی ایک جماعت نے آپ ﷺ کی تلاوت سنی، ایمان لے آئی اور اپنی قوم میں دعوت پہنچائی، جس کا ذکر سورۂ جن میں ہے۔
8مکہ میں دوبارہ داخل ہونے کے لیے آپ ﷺ نے کس سے پناہ طلب کی؟
الفابوجہل سے
بمطعم بن عدی سے
جولید بن مغیرہ سے
دابولہب سے
مکہ میں بغیر پناہ کے داخل ہونا خطرناک تھا، اس لیے آپ ﷺ نے مطعم بن عدی سے جوار طلب کی، جسے انہوں نے قبول کیا۔
9اسراء کا سفر کن دو مقامات کے درمیان ہوا؟
الفمکہ اور طائف کے درمیان
بمسجدِ حرام اور مسجدِ اقصیٰ کے درمیان
جمدینہ اور بدر کے درمیان
دحبشہ اور مکہ کے درمیان
قرآن کریم کے مطابق اسراء کا سفر مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک ایک ہی رات میں طے کیا گیا۔
10معراج کے موقع پر ابتدا میں کتنی نمازیں فرض کی گئیں؟
الفپانچ
بدس
جپچاس
دسو
معراج کی رات ابتدا میں پچاس نمازیں فرض کی گئیں، جو بعد میں بار بار سفارش سے پانچ رہ گئیں مگر اجر پچاس کے برابر رکھا گیا۔
11اسراء و معراج کی متعین تاریخ کے بارے میں محتاط علمی موقف کیا ہے؟
الف27 رجب کو حتمی تاریخی حقیقت مانا جاتا ہے
باصل واقعہ ثابت ہے مگر تاریخ کی قطعی تعیین میں اختلاف ہے
جیہ واقعہ کسی مستند ماخذ سے ثابت نہیں
داس کی کوئی تاریخ کبھی بیان نہیں کی گئی
اصل واقعہ قرآن اور صحیح احادیث سے ثابت ہے، مگر اس کے سال، مہینے اور رات کی قطعی تعیین میں اہلِ علم کے متعدد اقوال ہیں، اس لیے کسی ایک تاریخ کو یقینی نہیں کہنا چاہیے۔
12یثرب میں اسلام کی قبولیت کی ایک بڑی سماجی وجہ کیا تھی؟
الفاوس و خزرج کی طویل باہمی جنگ و جدل
بیثرب کی معاشی خوشحالی
جیثرب کا مکہ سے قریب ہونا
دیثرب میں یہودیوں کی عدم موجودگی
اوس اور خزرج کے درمیان دیرینہ جنگ و جدل نے ایک منصف اور متحد کرنے والی قیادت کی ضرورت پیدا کر دی تھی، جس نے اسلام کی قبولیت کی راہ ہموار کی۔
13بیعتِ عقبہ اولیٰ میں کیا عہد کیا گیا؟
الفمسلح جہاد کا عہد
بشرک، چوری، بدکاری اور نافرمانی سے بچنے کا عہد
جمکہ پر حملے کا عہد
دتجارتی شراکت کا عہد
بیعتِ عقبہ اولیٰ میں یثرب کے مسلمانوں نے شرک، چوری، بدکاری اور کسی بھی قسم کی نافرمانی سے بچنے کا عہد کیا۔
14رسول اللہ ﷺ نے یثرب میں تعلیمِ قرآن کے لیے کسے بھیجا؟
الفحضرت بلالؓ کو
بحضرت مصعب بن عمیرؓ کو
جحضرت عمار بن یاسرؓ کو
دحضرت زید بن حارثہؓ کو
آپ ﷺ نے حضرت مصعب بن عمیرؓ کو یثرب بھیجا، جنہوں نے اپنی حکمت اور نرم خوئی سے متعدد بااثر گھرانوں میں اسلام پھیلایا۔
15بیعتِ عقبہ ثانیہ میں کتنے افراد شریک ہوئے؟
الفبارہ افراد
بستر سے زائد افراد
جتین افراد
دایک ہزار افراد
بیعتِ عقبہ ثانیہ میں ستر سے زائد افراد پر مشتمل ایک بڑا وفد مکہ آیا اور رسول اللہ ﷺ سے حفاظت اور اطاعت کا عہد کیا۔
16بیعتِ عقبہ ثانیہ میں کیا عہد کیا گیا؟
الفصرف تجارتی تعاون کا عہد
برسول اللہ ﷺ کی مکمل حفاظت اور اطاعت کا عہد
جصرف زکوٰۃ ادا کرنے کا عہد
دصرف حج ادا کرنے کا عہد
بیعتِ عقبہ ثانیہ میں یثرب کے نمائندوں نے آپ ﷺ کی اسی طرح حفاظت کا عہد کیا جیسے اپنی اولاد کی کرتے ہیں، اور آپ ﷺ کی اطاعت کا عہد بھی کیا۔
17بیعتِ عقبہ ثانیہ کے موقع پر کتنے نقباء مقرر کیے گئے؟
الفپانچ
ببارہ
جبیس
دستر
اس موقع پر بارہ نقباء مقرر کیے گئے جو اپنی اپنی قوم کے نمائندے اور نگران تھے۔
18بیعتِ عقبہ ثانیہ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے کیا اقدام کیا؟
الففوری طور پر خود ہجرت کر گئے
بمسلمانوں کو بتدریج یثرب کی طرف ہجرت کی اجازت دی
جطائف واپس چلے گئے
دنجاشی کے پاس چلے گئے
بیعتِ عقبہ ثانیہ کے بعد آپ ﷺ نے مسلمانوں کو بتدریج یثرب کی طرف ہجرت کی اجازت دی، جس نے ہجرتِ مدینہ کی راہ ہموار کی۔
19عام الحزن سے بیعتِ عقبہ تک کے واقعات کا مجموعی سبق کیا ہے؟
الفشدید غم کے بعد آسمانی تسلی اور زمینی کامیابی کا سلسلہ سامنے آیا
بان واقعات کا آپس میں کوئی تعلق نہیں
جیہ صرف ذاتی نوعیت کے واقعات تھے
دان سے کوئی دعوتی سبق نہیں ملتا
یہ واقعات مل کر ظاہر کرتے ہیں کہ شدید انسانی غم کے فوراً بعد اللہ تعالیٰ نے روحانی تسلی اور آئندہ کی زمینی کامیابی، دونوں کی راہ ہموار کی۔
20رسول اللہ ﷺ نے طائف کی اذیت کے بعد جو دعا فرمائی اس سے کیا اصول واضح ہوتا ہے؟
الففوری انتقام ہمیشہ ضروری ہے
بصبر اور آئندہ نسلوں کی ہدایت کی امید انتقام پر مقدم ہے
جاذیت دینے والوں کو معاف نہیں کرنا چاہیے
ددعا کا کوئی عملی فائدہ نہیں ہوتا
طائف کی شدید اذیت کے باوجود آپ ﷺ نے فوری انتقام کے بجائے آئندہ نسلوں کی ہدایت کی دعا کو ترجیح دی، جو نبوی رحمت اور بلند حوصلگی کی مثال ہے۔

موضوع 8۔ ہجرتِ مدینہ: اسباب، منصوبہ بندی، اہم واقعات اور تاریخی اثرات

1غارِ ثور کے موقع پر قرآن نے کون سی تسلی نازل فرمائی؟
الفلا تحزن ان اللہ معنا
بانا فتحنا لک فتحا مبینا
جان مع العسر یسرا
دو اصبروا ان اللہ مع الصابرین
غارِ ثور میں حضرت ابوبکرؓ کی پریشانی پر رسول اللہ ﷺ نے تسلی دی جس کا ذکر قرآن میں 'لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا' کے الفاظ میں آیا۔
2ہجرتِ مدینہ کا بنیادی سبب کیا تھا؟
الفمکہ میں مذہبی آزادی ختم ہونا اور اہلِ ایمان کی جانوں کو خطرہ
بمکہ میں معاشی خوشحالی کی کمی
جمکہ کا موسم ناموافق ہونا
دتجارتی راستوں کی بندش
مکہ میں مذہبی آزادی مکمل طور پر ختم ہو چکی تھی اور اہلِ ایمان کی جانیں مسلسل خطرے میں تھیں، جو ہجرت کا بنیادی سبب بنا۔
3ہجرت کو فرار کے بجائے کیا سمجھنا چاہیے؟
الفایک وقتی جذباتی ردعمل
بدعوت کو آزاد معاشرتی بنیاد دینے کا منظم اقدام
جمحض مالی فائدے کی تلاش
دقریش سے صلح کی کوشش
ہجرت فرار نہیں بلکہ دعوتِ اسلام کو ایک آزاد اور منظم معاشرتی بنیاد فراہم کرنے کا شعوری اور منصوبہ بند اقدام تھی۔
4قریش نے ہجرت کرنے والے مسلمانوں کو روکنے کے لیے کیا کیا؟
الفان کا مال روکا، خاندان جدا کیے اور راستے مسدود کیے
بانہیں انعامات دیے
جانہیں مکہ میں پناہ دی
دان کی مدد کے لیے قافلے بھیجے
قریش نے ہجرت کرنے والے مسلمانوں کا مال روکنے، ان کے خاندانوں کو جبراً الگ کرنے اور راستے بند کرنے کی کوششیں کیں۔
5دار الندوہ میں قریش نے رسول اللہ ﷺ کے خلاف کیا منصوبہ بنایا؟
الفمختلف قبائل کے نوجوانوں سے بیک وقت قتل کرانے کا منصوبہ
بانہیں جلاوطن کرنے کا منصوبہ
جانہیں قید کرنے کا منصوبہ
دان سے مذاکرات کا منصوبہ
قریش نے دار الندوہ میں یہ منصوبہ بنایا کہ مختلف قبائل کے نوجوان بیک وقت حملہ کریں تاکہ خون کا بدلہ کسی ایک قبیلے سے نہ لیا جا سکے۔
6رسول اللہ ﷺ نے ہجرت کی رات اپنے بستر پر کسے لٹایا؟
الفحضرت ابوبکرؓ کو
بحضرت علیؓ کو
جحضرت عمرؓ کو
دحضرت زید بن حارثہؓ کو
رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ کو اپنے بستر پر چادر اوڑھ کر لٹایا تاکہ حملہ آوروں کو دھوکا ہو اور آپ ﷺ خاموشی سے نکل سکیں۔
7حضرت علیؓ کو کس اضافی ذمہ داری کے لیے مکہ میں چھوڑا گیا؟
الفلوگوں کی امانتیں واپس کرنے کے لیے
بقریش سے جنگ کرنے کے لیے
جنئی مسجد بنانے کے لیے
دتجارت جاری رکھنے کے لیے
حضرت علیؓ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ لوگوں کی امانتیں، جو دیانت پر بھروسہ کرتے ہوئے آپ ﷺ کے پاس رکھی گئی تھیں، ان کے مالکان کو واپس کریں۔
8رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ نے مکہ سے نکل کر کس سمت کا رخ کیا؟
الفشمال کی سمت مدینہ کا
بجنوب کی سمت غارِ ثور کا
جمشرق کی سمت طائف کا
دمغرب کی سمت حبشہ کا
معمول کے راستے کے برعکس، رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ نے جنوب کی سمت غارِ ثور کا رخ کیا تاکہ تعاقب کرنے والوں کو گمراہ کیا جا سکے۔
9غارِ ثور میں کتنی راتوں کا قیام کیا گیا؟
الفایک رات
بتین راتیں
جسات راتیں
ددس راتیں
غارِ ثور میں تین راتوں کا قیام کیا گیا تاکہ تعاقب کی شدت کم ہو اور حالات کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔
10غار میں قیام کے دوران مکہ کی خبریں کون پہنچاتا تھا؟
الفعامر بن فہیرہ
بحضرت عبداللہ بن ابوبکرؓ
جعبداللہ بن اریقط
داسماء بنت ابی بکرؓ
حضرت عبداللہ بن ابوبکرؓ روزانہ مکہ کی تازہ ترین خبریں غار تک پہنچاتے تھے۔
11عامر بن فہیرہ کی ذمہ داری کیا تھی؟
الفزادِ راہ تیار کرنا
ببکریوں کے ریوڑ سے نشانات مٹانا اور دودھ پہنچانا
جراستے کی رہنمائی کرنا
دخبریں پہنچانا
عامر بن فہیرہ بکریوں کا ریوڑ لے جا کر راستے کے نشانات مٹا دیتے اور غار میں دودھ کا انتظام کرتے تھے۔
12حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ کو کون سا لقب دیا گیا اور کیوں؟
الفذاتُ النطاقین، کیونکہ انہوں نے اپنا پٹکا کاٹ کر سامان باندھا
بام المومنین، کیونکہ وہ نبی کریم ﷺ کی زوجہ تھیں
جالصدیقہ، کیونکہ انہوں نے سب سے پہلے ایمان لایا
دالشہیدہ، کیونکہ وہ راستے میں شہید ہوئیں
حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ نے سفر کا سامان باندھنے کے لیے اپنا پٹکا دو حصوں میں کاٹا، جس کی وجہ سے انہیں 'ذاتُ النطاقین' کا لقب ملا۔
13ہجرت کے سفر میں راستے کی رہنمائی کس نے کی؟
الفحضرت زید بن حارثہؓ نے
بعبداللہ بن اریقط نامی غیر مسلم رہنما نے
جحضرت عمار بن یاسرؓ نے
دسراقہ بن مالک نے
عبداللہ بن اریقط، جو اس وقت مسلمان نہیں تھے، کو ان کی امانت داری اور صحرائی راستوں کی مہارت کی بنیاد پر رہنما مقرر کیا گیا۔
14مدینہ جاتے ہوئے کون سا راستہ اختیار کیا گیا؟
الفمعمول کا صحرائی راستہ
بساحلی راستہ تاکہ تعاقب کرنے والوں کو گمراہ کیا جا سکے
جطائف کا راستہ
دشام کا راستہ
تعاقب کرنے والوں کو دھوکا دینے کے لیے معمول کے راستے کے بجائے ساحلی راستہ اختیار کیا گیا۔
15مسجدِ قباء کی تعمیر کی کیا اہمیت ہے؟
الفیہ اسلامی تاریخ کی پہلی مسجد شمار ہوتی ہے
بیہ صرف رہائش کے لیے بنائی گئی تھی
جیہ قریش نے تعمیر کروائی تھی
دیہ بعد میں مسمار کر دی گئی
قباء میں قیام کے دوران بنائی گئی مسجد اسلامی تاریخ کی پہلی مسجد شمار ہوتی ہے، جس سے عبادت کو اولین ترجیح ملی۔
16مدینہ کے باشندوں نے رسول اللہ ﷺ کا استقبال کیسے کیا؟
الفسرد مہری سے
بغیر معمولی جوش و خروش سے، گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر
جخوف کے ساتھ
داحتجاج کے ساتھ
مدینہ کے باشندوں نے غیر معمولی جوش و خروش سے استقبال کیا اور گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر خوشی کے نغمے گائے۔
17اسلامی تقویم کا آغاز کس واقعے سے کیا گیا؟
الفنبی کریم ﷺ کی پیدائش سے
بنبوت کے آغاز سے
جہجرتِ مدینہ سے
دفتحِ مکہ سے
اسلامی تقویم کا آغاز ہجرتِ مدینہ سے کیا گیا، جو اس واقعے کی غیر معمولی تہذیبی اور تاریخی اہمیت کی علامت ہے۔
18مہاجرین اور انصار کی شراکت نے کس نئی چیز کی بنیاد رکھی؟
الفقبیلے سے بالاتر ایمانی اخوت کی
بنئے تجارتی معاہدے کی
جنئے قبائلی نظام کی
دنئی جنگی حکمتِ عملی کی
مہاجرین اور انصار کی شراکت نے قبائلی حدود سے بالاتر ہو کر ایک نئی ایمانی اخوت کی بنیاد رکھی، جو مشترکہ عقیدے پر قائم تھی۔
19ہجرت سے توکل اور اسبابِ ظاہری کے بارے میں کیا اصول ملتا ہے؟
الفتوکل کا مطلب اسباب ترک کرنا ہے
بتوکل اسباب اختیار کرنے کے بعد نتیجہ اللہ کے سپرد کرنے کا نام ہے
جاسباب اختیار کرنا توکل کے خلاف ہے
دتوکل صرف دعا تک محدود ہے
ہجرت کے پورے سفر سے یہ اصول واضح ہوتا ہے کہ توکل اسباب ترک کرنے کا نام نہیں بلکہ ہر جائز ذریعہ اختیار کرنے کے بعد نتیجہ اللہ پر چھوڑنے کا نام ہے۔
20ہجرت کے واقعات کا مجموعی سبق کیا ہے؟
الفمنصوبہ بندی، راز داری اور توکل کا امتزاج کامیابی کی بنیاد ہے
بصرف طاقت ہی کامیابی کی ضمانت ہے
جہجرت کا کوئی دیرپا اثر نہیں تھا
دتدبیر اختیار کرنا ایمان کے خلاف ہے
ہجرت کے واقعات ثابت کرتے ہیں کہ منظم منصوبہ بندی، راز داری، ذمہ داریوں کی تقسیم اور اللہ پر کامل توکل کا امتزاج ہی حقیقی کامیابی کی بنیاد بنتا ہے۔

موضوع 9۔ مسجد نبوی، مواخاتِ مدینہ، میثاقِ مدینہ اور اسلامی ریاست کا قیام

1مدینہ پہنچنے کے فوراً بعد رسول اللہ ﷺ کو کن مسائل کا سامنا تھا؟
الفمہاجرین کی بے گھری اور مختلف قبائل کے مفادات
بمدینہ کی معاشی خوشحالی
جمدینہ کی جغرافیائی وسعت
دحج کے انتظامات
مدینہ پہنچتے ہی مہاجرین بے گھر تھے اور مدینہ میں اوس، خزرج اور یہودی قبائل کے الگ الگ مفادات موجود تھے، جو نئی قیادت کے لیے چیلنج تھا۔
2اوس اور خزرج کے درمیان کیسی صورتحال موجود تھی؟
الفبرسوں پرانی خونریز دشمنی
بمضبوط تجارتی شراکت داری
جمشترکہ فوجی اتحاد
دکوئی تعلق نہیں تھا
اوس اور خزرج کے درمیان برسوں پرانی خونریز دشمنی موجود تھی، جس نے ایک متحد کرنے والی قیادت کی ضرورت پیدا کی۔
3رسول اللہ ﷺ نے مدینہ پہنچ کر سب سے پہلے کس کام کو ترجیح دی؟
الفقلعے کی تعمیر کو
بمسجد کی تعمیر کو
جبازار کے قیام کو
دمحل کی تعمیر کو
رسول اللہ ﷺ نے مدینہ پہنچتے ہی مسجد کی تعمیر کو مرکزی ترجیح دی، جو عبادت، تعلیم اور اجتماعی فیصلوں کا مرکز بنی۔
4مسجدِ نبوی کے کیا کیا افعال تھے؟
الفصرف نماز کے لیے مخصوص تھی
بعبادت، تعلیم، مشاورت اور وفود کے استقبال کا مرکز
جصرف تجارت کے لیے استعمال ہوتی تھی
دصرف جنگی مشقوں کے لیے تھی
مسجدِ نبوی محض نماز کی جگہ نہیں بلکہ تعلیم، مشاورت، وفود کے استقبال اور اجتماعی فیصلوں کا مرکز بن گئی۔
5صُفّہ کس مقصد کے لیے استعمال ہوتا تھا؟
الفتجارتی سامان رکھنے کے لیے
ببے گھر اور علم کے طالب صحابہ کی تربیت کے لیے
ججنگی ہتھیار رکھنے کے لیے
دمہمانوں کی ضیافت کے لیے
صُفّہ بے گھر اور علم کے طالب صحابہ کے لیے ایک تربیتی مرکز کی حیثیت رکھتا تھا جہاں وہ قرآن اور دین کی تعلیم حاصل کرتے۔
6مواخاتِ مدینہ سے کیا مراد ہے؟
الفمہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم کرنا
بصرف انصار کے درمیان اتحاد
جمہاجرین کو مکہ واپس بھیجنا
دصرف مالی امداد فراہم کرنا
مواخاتِ مدینہ سے مراد رسول اللہ ﷺ کا مہاجرین اور انصار کے درمیان روحانی بھائی چارہ قائم کرنا تھا، جس میں ہر مہاجر کو ایک انصاری بھائی سے جوڑا گیا۔
7حضرت سعد بن ربیعؓ نے اپنے مہاجر بھائی کو کیا پیشکش کی؟
الفاپنی آدھی دولت اور ایک بیوی کو طلاق دے کر نکاح کی پیشکش
بصرف کھانے کی دعوت
جتجارتی شراکت داری
دصرف رہائش کی پیشکش
حضرت سعد بن ربیعؓ نے حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کو اپنی آدھی دولت اور ایک بیوی کو طلاق دے کر نکاح کی پیشکش کی، جسے شکریے کے ساتھ نرمی سے رد کر دیا گیا۔
8حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے پیشکش کے جواب میں کیا مانگا؟
الفمزید مالی امداد
بصرف بازار کا راستہ
جزمین کا ایک بڑا ٹکڑا
دنئی رہائش گاہ
حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے شکریہ ادا کرتے ہوئے صرف بازار کا راستہ پوچھا اور اپنی محنت سے دوبارہ کاروبار قائم کیا۔
9میثاقِ مدینہ کن گروہوں کے درمیان طے پایا؟
الفصرف مہاجرین کے درمیان
بمہاجرین، انصار اور یہودی قبائل کے درمیان
جصرف قریش کے درمیان
دصرف انصار کے قبائل کے درمیان
میثاقِ مدینہ رسول اللہ ﷺ کی سرپرستی میں مہاجرین، انصار اور مختلف یہودی قبائل کے درمیان طے پایا۔
10میثاقِ مدینہ میں ہر گروہ کو کیا حق دیا گیا؟
الفاپنے مذہب پر قائم رہنے کی مکمل آزادی
بصرف اسلام قبول کرنے کی اجازت
جصرف تجارت کرنے کی اجازت
دمدینہ چھوڑنے کی اجازت
میثاقِ مدینہ میں ہر گروہ کو اپنے مذہب پر قائم رہنے کی مکمل آزادی دی گئی، جبکہ مشترکہ دفاع کی ذمہ داری بھی سب پر عائد کی گئی۔
11تنازعات کے حتمی فیصلے کے لیے میثاقِ مدینہ میں کیا اصول طے ہوا؟
الفہر قبیلہ اپنا فیصلہ خود کرے گا
باللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف رجوع کیا جائے گا
جمکہ کے سرداروں سے رجوع کیا جائے گا
دکوئی طریقہ طے نہیں ہوا
میثاقِ مدینہ میں طے ہوا کہ کسی بھی نزاعی معاملے کا حتمی فیصلہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف رجوع کر کے کیا جائے گا۔
12میثاقِ مدینہ نے وفاداری کا نیا معیار کیا قرار دیا؟
الفصرف خون کا رشتہ
بعہد، انصاف اور اجتماعی امن
جصرف قبائلی طاقت
دصرف مالی حیثیت
میثاقِ مدینہ کے بعد وفاداری کا معیار محض خونی رشتہ نہیں رہا بلکہ عہد، انصاف اور اجتماعی امن اس کی بنیاد بن گئے۔
13مدنی ریاست کا اقتدار کن بنیادوں پر قائم تھا؟
الففوجی طاقت اور جبر پر
بنبوی قیادت، رضاکارانہ بیعت اور مشاورت پر
جمعاشی اجارہ داری پر
دقبائلی سرداری پر
مدنی ریاست کا اقتدار طاقت کے زور پر نہیں بلکہ نبوی قیادت، رضاکارانہ بیعت، وحی کی رہنمائی اور باہمی مشاورت پر استوار تھا۔
14مدنی ریاست کا اصل مقصد کیا تھا؟
الفشخصی عظمت اور سلطنت کی توسیع
بدین کی آزادی، عدل اور کمزوروں کا تحفظ
جصرف تجارتی منافع
دصرف علاقائی توسیع
ریاست کا مقصد کسی شخصی عظمت یا سلطنت کی توسیع نہیں تھا بلکہ دین کی آزادی، عدل کا قیام اور کمزور طبقات کی حفاظت تھا۔
15مدینہ میں معاشی اصلاحات کے تحت کیا تعلیم دی گئی؟
الفسود کو فروغ دینا
بدیانت، حلال تجارت اور سود سے اجتناب
جصرف زرعی کاموں کو ترجیح دینا
دصرف بیرونی تجارت کو فروغ دینا
بازار میں دیانت، حلال تجارت اور سود سے مکمل اجتناب کی تعلیم دی گئی، جس سے ایک منصفانہ معاشی نظام کی بنیاد پڑی۔
16زکوٰۃ اور صدقات نے مدینہ میں کیا کردار ادا کیا؟
الفمنظم سماجی کفالت کی بنیاد مضبوط کی
بصرف ٹیکس کا نظام بنایا
جصرف مسجد کی تعمیر میں استعمال ہوئے
دکوئی خاص کردار نہیں تھا
زکوٰۃ اور صدقات نے ایک منظم سماجی کفالت کا نظام قائم کیا جس نے غریبوں، یتیموں اور مسکینوں کی دیکھ بھال کو اجتماعی ذمہ داری بنایا۔
17میثاقِ مدینہ کو آج کیسے سمجھنا زیادہ درست ہے؟
الفجدید دستور کا لفظی متبادل سمجھ کر
باس کے تاریخی سیاق میں سمجھ کر
جاسے مکمل طور پر نظر انداز کر کے
دصرف علامتی دستاویز سمجھ کر
میثاقِ مدینہ کو جدید دستور کا لفظی متبادل بنانے کے بجائے اس کے تاریخی سیاق میں پڑھنا زیادہ مناسب اور علمی طرزِ عمل ہے۔
18میثاقِ مدینہ سے آج کے دور کے لیے کون سے اصول اخذ کیے جا سکتے ہیں؟
الفمعاہد شہریت، مذہبی آزادی اور اجتماعی دفاع کے اصول
بصرف تجارتی معاہدے کے اصول
جصرف زرعی پالیسی کے اصول
دکوئی اصول اخذ نہیں کیا جا سکتا
میثاقِ مدینہ سے معاہد شہریت، مذہبی آزادی، قانونی ذمہ داری اور اجتماعی دفاع جیسے اہم اصول اخذ ہوتے ہیں جو آج بھی رہنما حیثیت رکھتے ہیں۔
19مسجد، مواخات اور میثاق کا باہمی ربط کیا ثابت کرتا ہے؟
الفصالح معاشرہ صرف اقتدار سے قائم نہیں ہوتا
بصالح معاشرہ صرف طاقت سے قائم ہوتا ہے
جان تینوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں
دصرف مسجد ہی کافی تھی
مسجد، اخوت اور قانون کا باہمی ربط بتاتا ہے کہ ایک صالح معاشرہ محض سیاسی اقتدار سے نہیں بلکہ ادارے، سماجی تعاون اور قانون کے امتزاج سے قائم ہوتا ہے۔
20مدنی ریاست کے قیام میں تعلیم اور تزکیۂ نفس کو کیا حیثیت حاصل رہی؟
الفانہیں نظر انداز کر دیا گیا
بقانون کے ساتھ ساتھ انہیں بھی مرکزی حیثیت حاصل رہی
جصرف امیر طبقے کے لیے مخصوص تھے
دصرف مہاجرین کے لیے مخصوص تھے
قانون سازی کے ساتھ ساتھ تعلیم، تزکیۂ نفس اور اخلاقی جواب دہی کو بھی بنیادی حیثیت حاصل رہی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست ایک اخلاقی و روحانی نظام بھی تھی۔

موضوع 10۔ غزوۂ بدر اور غزوۂ اُحد: اسباب، واقعات، نتائج اور اسباق

1قرآن کریم نے غزوۂ بدر کی فتح کو کس سے منسوب کیا؟
الفمسلمانوں کی عددی برتری سے
باللہ کی نصرت سے، جبکہ مسلمان کمزور تھے
جبہتر ہتھیاروں سے
دقریش کی کمزوری سے
قرآن کریم نے واضح کیا کہ اللہ نے بدر میں مسلمانوں کی مدد کی جبکہ وہ عددی اور مادی طور پر کمزور تھے، یعنی فتح کا اصل سبب اللہ کی نصرت تھی۔
2غزوۂ بدر کا فوری سبب کیا بنا؟
الفایک تجارتی قافلے کا معاملہ
بحج کے انتظامات پر تنازع
جمدینہ کے اندرونی جھگڑے
دیہودی قبائل کی بغاوت
دو ہجری میں ابوسفیان کی قیادت میں شام سے واپس آنے والے تجارتی قافلے کے معاملے نے کھلے تصادم کی صورت اختیار کر لی، جو بدر کا فوری سبب بنا۔
3انصار نے بدر کے موقع پر بیعتِ عقبہ کی تعبیر کے بارے میں کیا موقف اپنایا؟
الفصرف مدینہ کے اندر دفاع تک محدود رہنے کا
بمحدود تعبیر کے بجائے مکمل تعاون کا اعلان کیا
ججنگ میں شرکت سے انکار کیا
دغیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا
انصار نے بیعتِ عقبہ کی محدود تعبیر پر اکتفا کرنے کے بجائے مکمل تعاون کا اعلان کیا اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہر حال میں شریک ہونے کا عزم ظاہر کیا۔
4حضرت سعد بن معاذؓ نے بدر کے موقع پر کیا مشہور بات کہی؟
الفاگر سمندر میں کودنے کا حکم دیں تو ہم ساتھ کودیں گے
بہم مدینہ سے باہر نہیں جائیں گے
جہمیں مہلت درکار ہے
دہم صرف دعا کریں گے
حضرت سعد بن معاذؓ نے یہ مشہور الفاظ کہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ سمندر میں کودنے کا حکم دیں تو انصار ان کے ساتھ کودنے کو تیار ہیں، جو مکمل وفاداری کا اظہار تھا۔
5حباب بن منذرؓ کے مشورے کی بنیاد پر کیا اقدام کیا گیا؟
الفلشکر کو پانی کے قریب ترین کنویں کے پاس منتقل کیا گیا
بلشکر کو مدینہ واپس بلا لیا گیا
ججنگ ملتوی کر دی گئی
دصف بندی تبدیل نہیں کی گئی
حباب بن منذرؓ کے مفید مشورے پر لشکر کو پانی کے قریب ترین کنویں کے پاس منتقل کیا گیا، جو ایک اہم حکمتِ عملی ثابت ہوئی۔
6بدر کے میدان میں فریقین کی تخمینی تعداد کیا تھی؟
الفمسلمان تین سو سے زائد، قریش قریب ایک ہزار
بمسلمان ایک ہزار، قریش تین سو
جدونوں فریق برابر تعداد میں تھے
دمسلمان پانچ سو، قریش دو سو
بدر کے میدان میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً تین سو سے کچھ زائد تھی جبکہ قریش کا لشکر قریب ایک ہزار جنگجوؤں پر مشتمل تھا۔
7بدر میں قریش کے کون سے سردار مارے گئے؟
الفابوسفیان اور خالد بن ولید
بعتبہ، شیبہ اور ابوجہل
جعمرو بن العاص اور ولید بن مغیرہ
دابولہب اور عکرمہ
اللہ کی نصرت سے قریش کے نمایاں سردار عتبہ، شیبہ اور ابوجہل جیسے سخت ترین مخالفین بدر کے میدان میں مارے گئے۔
8بدر کے جنگی قیدیوں کی رہائی کن صورتوں میں طے ہوئی؟
الفصرف فدیہ لے کر
بفدیہ، تعلیم دلانے اور بلامعاوضہ آزادی کی مختلف صورتوں میں
جصرف قتل کر کے
دصرف غلام بنا کر
قیدیوں کی رہائی مختلف صورتوں میں طے ہوئی: کچھ کو فدیہ لے کر، کچھ کو بچوں کو تعلیم دلانے کے عوض اور کچھ کو بلامعاوضہ آزاد کیا گیا۔
9غزوۂ اُحد کس سال پیش آیا؟
الفایک ہجری میں
بدو ہجری میں
جتین ہجری میں
دپانچ ہجری میں
قریش نے بدر کی شکست کا بدلہ لینے کے لیے تین ہجری میں ایک بڑا لشکر تیار کیا، جس سے غزوۂ اُحد پیش آیا۔
10مدینہ میں اُحد سے پہلے کس حکمتِ عملی پر مشاورت ہوئی؟
الفشہر کے اندر دفاع یا باہر نکل کر مقابلہ
بصلح کرنے یا نہ کرنے
جنجاشی سے مدد مانگنے یا نہ مانگنے
دمدینہ چھوڑنے یا نہ چھوڑنے
مدینہ میں یہ مشاورت ہوئی کہ آیا شہر کے اندر رہ کر دفاعی حکمتِ عملی اپنائی جائے یا باہر نکل کر کھلے میدان میں مقابلہ کیا جائے۔
11اُحد کے میدان میں تیر اندازوں کو کیا حکم دیا گیا تھا؟
الففتح یا شکست کسی صورت میں اپنی جگہ نہ چھوڑیں
بصرف فتح کی صورت میں جگہ چھوڑیں
جدشمن کے قریب جا کر حملہ کریں
دمالِ غنیمت جمع کرنا شروع کر دیں
رسول اللہ ﷺ نے تیر اندازوں کو سختی سے حکم دیا کہ چاہے فتح ہو یا شکست، وہ اپنی مقررہ جگہ ہرگز نہ چھوڑیں۔
12تیر اندازوں نے اپنی جگہ کیوں چھوڑی؟
الفدشمن کے حملے کے خوف سے
بمالِ غنیمت سمیٹنے کی خواہش میں
جپانی کی کمی کی وجہ سے
درسول اللہ ﷺ کے نئے حکم پر
ابتدائی برتری کے بعد بیشتر تیر اندازوں نے سمجھا کہ جنگ ختم ہو چکی ہے اور مالِ غنیمت سمیٹنے کی خواہش میں اپنی جگہ چھوڑ کر نیچے اتر آئے۔
13خالد بن ولید نے اُحد میں کیا کردار ادا کیا؟
الفوہ مسلمانوں کی صفوں میں لڑے
بانہوں نے خالی درے سے گھوم کر مسلمانوں کے پیچھے سے حملہ کیا
جانہوں نے صلح کرائی
دوہ میدان سے غائب ہو گئے
خالد بن ولید، جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے، نے خالی درے سے گھوم کر مسلمانوں کے پیچھے سے اچانک حملہ کیا، جس نے صورتحال بدل دی۔
14اُحد کی جنگ میں کون سے جلیل القدر صحابی شہید ہوئے؟
الفحضرت عمر بن خطابؓ
بحضرت حمزہؓ
جحضرت ابوبکرؓ
دحضرت عثمانؓ
اُحد کی جنگ میں حضرت حمزہؓ سمیت ستر کے قریب صحابہ کرام شہید ہوئے۔
15اُحد میں رسول اللہ ﷺ کو کیا زخم آئے؟
الفکوئی زخم نہیں آیا
بچہرہ مبارک زخمی ہوا اور ایک دانت مبارک شہید ہوا
جصرف ہاتھ زخمی ہوا
دصرف پاؤں زخمی ہوا
اُحد کی جنگ میں رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک پر زخم آئے اور ایک دانت مبارک بھی شہید ہوا۔
16اُحد میں کس غلط خبر نے مسلمانوں میں اضطراب پیدا کیا؟
الفشکست کی خبر
برسول اللہ ﷺ کی شہادت کی غلط خبر
جقریش کی پسپائی کی خبر
دمدینہ پر حملے کی خبر
رسول اللہ ﷺ کی شہادت کی غلط خبر پھیل گئی، جس سے مسلمانوں میں شدید اضطراب اور مایوسی پیدا ہوئی۔
17رسول اللہ ﷺ کے گرد دفاع میں کون سے صحابی نمایاں تھے جن کا ہاتھ زخمی ہوا؟
الفحضرت طلحہؓ
بحضرت بلالؓ
جحضرت زید بن حارثہؓ
دحضرت سعد بن معاذؓ
حضرت طلحہؓ نے رسول اللہ ﷺ کے گرد دفاع میں نمایاں کردار ادا کیا اور اس دوران ان کا ہاتھ شدید زخمی ہوا۔
18بدر اور اُحد کے نتائج میں بنیادی فرق کیا تھا؟
الفبدر میں فیصلہ کن فتح اور اُحد میں نظم کی خلاف ورزی سے نقصان
بدونوں میں فتح ہوئی
جدونوں میں شکست ہوئی
ددونوں کے نتائج یکساں تھے
بدر میں نظم اور مشاورت سے فیصلہ کن فتح ملی، جبکہ اُحد میں تیر اندازوں کے مقررہ جگہ چھوڑنے سے ابتدائی برتری کے باوجود نقصان پہنچا۔
19دونوں غزوات سے مجموعی طور پر کیا سبق ملتا ہے؟
الففتح ایمان کی مستقل ضمانت نہیں اور شکست حق کی نفی نہیں
بفتح ہمیشہ یقینی ہوتی ہے
جشکست کا مطلب ہمیشہ ناکامی ہے
دنظم و ضبط کی کوئی اہمیت نہیں
بدر اور اُحد سے یہ آفاقی سبق ملتا ہے کہ فتح ایمان کی مستقل ضمانت نہیں اور کسی وقتی شکست کا مطلب حق کی نفی یا ناکامی نہیں ہوتا۔
20قرآن نے اُحد کی جنگ کے بعد امت کو کیا رہنمائی دی؟
الفانتقام اور مایوسی کی رہنمائی دی
بغلطیوں کی اصلاح، رحمت اور اجتماعی احتساب کی رہنمائی دی
جخاموشی اختیار کرنے کی رہنمائی دی
دجنگ ترک کرنے کی رہنمائی دی
قرآن کریم نے اُحد کے واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے غلطیوں کی نشاندہی و اصلاح، قیادت کی رحمت اور اجتماعی احتساب کو انتقام اور مایوسی پر ترجیح دی۔

موضوع 11۔ غزوۂ خندق، صلحِ حدیبیہ اور خیبر: سیاسی اور دعوتی اہمیت

1پانچ ہجری میں مدینہ کے خلاف بننے والے وسیع قبائلی اتحاد کا بنیادی سبب کیا تھا؟
الفقریش اور دیگر قبائل نے مدینہ پر مشترکہ حملے کی تیاری کی
بخیبر کے یہودیوں نے مدینہ پر راست حملہ کیا
جروم نے شمالی سرحد پر جارحیت کی
دثقیف نے طائف سے لشکر روانہ کیا
پانچ ہجری میں قریش نے غطفان اور دیگر قبائل کے ساتھ مل کر مدینہ پر مشترکہ حملے کی تیاری کی، جسے غزوۂ احزاب یا خندق کہا جاتا ہے۔
2اس بڑے اتحاد کو منظم کرنے میں کس گروہ نے سرگرم کردار ادا کیا؟
الفبنو نضیر کے جلاوطن یہودی سردار
ببنو خزاعہ کے سردار
جطائف کے تاجر
دحبشہ کے نجاشی کے نمائندے
پہلے مدینہ سے جلاوطن کیے گئے بنو نضیر کے یہودی سرداروں نے مختلف قبائل کو اکسا کر اتحاد بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
3خندق کھودنے کی تجویز کس صحابی نے پیش کی؟
الفحضرت سلمان فارسیؓ
بحضرت عمرؓ
جحضرت ابوبکرؓ
دحضرت علیؓ
حضرت سلمان فارسیؓ نے، جو ایرانی جنگی طریقوں سے واقف تھے، مدینہ کے کھلے حصے میں خندق کھودنے کا مشورہ دیا۔
4خندق کی حکمتِ عملی کے بارے میں درست بیان کون سا ہے؟
الفرسول اللہ ﷺ نے خود کھدائی میں شرکت کی اور صحابہ کا حوصلہ بڑھایا
بخندق مکمل طور پر رات کے وقت کھودی گئی
جخندق کی تجویز قریش کی طرف سے آئی
دخندق صرف علامتی مقصد کے لیے کھودی گئی
رسول اللہ ﷺ نے خود مٹی اٹھانے اور کھدائی کے کام میں شرکت فرمائی، جس سے تھکے ہوئے صحابہ کا حوصلہ بلند ہوا۔
5محاصرۂ خندق کیوں ناکام ہو کر ختم ہوا؟
الفتیز آندھی اور اتحادی لشکر کی باہمی بداعتمادی کے باعث
بمسلمانوں نے کھلی جنگ میں دشمن کو شکست دی
جقریش نے خود صلح کی درخواست کی
دخیبر کے یہودیوں نے دشمن کا ساتھ چھوڑ دیا
اللہ تعالیٰ نے تیز آندھی بھیجی اور اتحادی لشکر کے دھڑوں میں باہمی بداعتمادی بڑھی، جس سے وہ بغیر معرکے کے واپس چلے گئے۔
6خندق کے دوران منافقین کا رویہ کیسا تھا؟
الفانہوں نے بددلی پھیلائی اور میدان چھوڑنے کی کوشش کی
بانہوں نے خندق کھودنے میں سب سے زیادہ محنت کی
جانہوں نے دشمن کے خلاف جاسوسی کی
دانہوں نے قریش سے مذاکرات کیے
سخت آزمائش کے دوران منافقین نے بددلی پھیلائی جبکہ مخلص مسلمانوں نے اللہ کے وعدے پر یقین بڑھایا۔
7چھ ہجری میں رسول اللہ ﷺ کس مقصد کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوئے؟
الفعمرہ ادا کرنے کے لیے
بقریش سے جنگ کرنے کے لیے
جخیبر کی مہم کے لیے
دطائف کا محاصرہ کرنے کے لیے
رسول اللہ ﷺ صحابہ کے ساتھ عمرے کی نیت سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے تھے، جنگ کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
8قریش نے مسلمانوں کے سفر کے مقصد کو پرامن ہونے کے باوجود کیوں روکا؟
الفخوف اور انا کے زیرِ اثر داخلے کی اجازت نہ دی
بمسلمانوں کے پاس ہتھیار نہیں تھے اس لیے خطرہ محسوس نہ ہوا
جقریش پہلے سے مسلمان ہو چکے تھے
دبارش کی وجہ سے راستہ بند تھا
قربانی کے جانور اور احرام کے باوجود قریش نے خوف اور اپنی انا کے باعث مسلمانوں کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔
9بیعتِ رضوان کس افواہ کے نتیجے میں لی گئی؟
الفحضرت عثمانؓ کی شہادت کی جھوٹی خبر پر
برسول اللہ ﷺ کی بیماری کی خبر پر
جقریش کے حملے کی اطلاع پر
دخیبر کی شکست کی خبر پر
حضرت عثمانؓ کو مذاکرات کے لیے بھیجا گیا تھا اور ان کی شہادت کی جھوٹی افواہ پر صحابہ نے ایک درخت کے نیچے بیعت کی۔
10حدیبیہ کے معاہدے کی بعض شرائط کے بارے میں صحابہ کا ردعمل کیسا تھا؟
الفبعض کو یہ شرائط سخت اور غیر متوازن محسوس ہوئیں
بتمام صحابہ نے فوراً خوشی سے قبول کر لیں
جصحابہ نے شرائط مسترد کر دیں
دشرائط پر کوئی تحفظ ظاہر نہیں کیا گیا
معاہدے کی کچھ شرائط، جیسے اس سال واپس چلے جانا، بہت سے صحابہ کو سخت اور غیر متوازن محسوس ہوئیں۔
11رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کی سخت شرائط کیوں قبول کیں؟
الفدور رس امن کو وقتی جذباتی اطمینان پر ترجیح دی
بقریش کی طاقت سے خوفزدہ تھے
جصحابہ کی تعداد کم تھی
دمعاہدے کی شرائط دراصل مسلمانوں کے حق میں تھیں
رسول اللہ ﷺ کی نظر فوری اطمینان کے بجائے طویل المدتی نتائج پر تھی، اسی لیے آپ نے دور رس امن کو ترجیح دی۔
12قرآن نے صلحِ حدیبیہ کو کس اصطلاح سے یاد کیا؟
الففتحِ مبین
بغزوۂ کبریٰ
جیومِ فرقان
دنصرِ عظیم
سورۃ الفتح میں اس معاہدے کو ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا﴾ کہہ کر کھلی فتح یعنی فتحِ مبین قرار دیا گیا۔
13صلحِ حدیبیہ کو فتحِ مبین کہنے کی بنیادی وجہ کیا تھی؟
الفامن کی بدولت دعوت آزادانہ پھیلی اور مسلمانوں کی تعداد بڑھی
بمسلمانوں نے قریش کو میدانِ جنگ میں شکست دی
جقریش نے فوری طور پر اسلام قبول کر لیا
دخیبر فتح ہو گیا
جنگ رکنے سے قبائل نے قریب سے اسلام کو سمجھا اور دو سال میں مسلمانوں کی تعداد کئی گنا بڑھ گئی، جو دور رس فتح کی علامت تھی۔
14خیبر کے قلعے کس سالِ ہجری میں فتح ہوئے؟
الفسات ہجری میں
بپانچ ہجری میں
جچھ ہجری میں
دنو ہجری میں
سات ہجری کی مہم میں رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے قلعے یکے بعد دیگرے فتح کیے۔
15خیبر کے یہودی مدینہ کے لیے کیوں مسلسل خطرہ سمجھے جاتے تھے؟
الفوہ سازشوں اور قبائل کو اکسانے میں سرگرم تھے
بوہ فوجی طور پر مدینہ سے کہیں زیادہ طاقتور تھے
جوہ زراعت میں مہارت نہیں رکھتے تھے
دوہ رومی سلطنت کے اتحادی تھے
خیبر کے یہودی، بالخصوص جلاوطن عناصر، مسلسل سازشوں اور دشمن قبائل کو اکسانے میں سرگرم رہتے تھے۔
16خیبر کی فتح کے بعد زمین کا انتظام کس بنیاد پر کیا گیا؟
الفباشندوں کو کاشت جاری رکھنے دی گئی اور پیداوار میں حصہ مقرر ہوا
بتمام زمین ضبط کر کے بنجر چھوڑ دی گئی
جباشندوں کو مکمل طور پر جلاوطن کر دیا گیا
دزمین نیلام کر دی گئی
خیبر کے باشندوں سے معاہدہ کیا گیا کہ وہ زراعت جاری رکھیں گے اور پیداوار میں سے مقررہ حصہ ریاست کو دیں گے۔
17خندق، حدیبیہ اور خیبر کے مجموعی اثرات کو کیسے بیان کیا جا سکتا ہے؟
الفہر واقعے نے دفاع، سفارت اور انتظام کے ذریعے مسلمانوں کو تکمیلی فائدہ دیا
بتینوں واقعات کا کوئی باہمی تعلق نہیں تھا
جصرف خیبر اہمیت رکھتا ہے، باقی دو معمولی تھے
دتینوں واقعات ایک ہی دن پیش آئے
خندق نے دفاع، حدیبیہ نے سفارت اور خیبر نے انتظامی مفاہمت کے ذریعے مسلمانوں کو تکمیلی فوائد پہنچائے۔
18نبوی سیاست کی وہ کون سی خصوصیت ہے جو ان تینوں واقعات سے نمایاں ہوتی ہے؟
الفاصولی مقصد کے ساتھ حالات کے مطابق جائز تدبیر اختیار کرنا
بہر مسئلے کا حل صرف جنگ میں تلاش کرنا
جمذاکرات سے مکمل اجتناب کرنا
ددشمن کے ساتھ کبھی معاہدہ نہ کرنا
تینوں واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ نبوی سیاست میں اصولی پختگی کے ساتھ حالات کے مطابق جائز عملی تدبیر اختیار کی جاتی تھی۔
19خندق، حدیبیہ اور خیبر کے مطالعے سے طالب علم کو کس بنیادی احتیاط کا خیال رکھنا چاہیے؟
الفثابت شدہ مستقل اصول اور مخصوص تاریخی جزئیات میں فرق ملحوظ رکھنا چاہیے
بہر جزئیے کو دائمی قانون سمجھنا چاہیے
جصرف ایک ماخذ پر انحصار کرنا چاہیے
دغیر ثابت روایات کو یقینی سمجھنا چاہیے
قرآن و سنت سے ثابت عمومی اصول مستقل رہنمائی دیتے ہیں، جبکہ کسی خاص واقعے کی جزئیات کو بغیر دلیل کے دائمی قاعدہ نہیں بنانا چاہیے۔
20ان تینوں واقعات سے آج کے قاری کے لیے سب سے بڑا سبق کیا ہے؟
الفصبر، حکمت اور دور اندیشی عارضی نقصان کے باوجود دیرپا کامیابی دے سکتے ہیں
بطاقت ہی کامیابی کا واحد ذریعہ ہے
جمذاکرات ہمیشہ کمزوری کی علامت ہیں
دتاریخی واقعات کا آج کے حالات سے کوئی تعلق نہیں
خندق، حدیبیہ اور خیبر سے یہ سبق ملتا ہے کہ صبر، مشاورت اور دور اندیشی وقتی نقصان کے باوجود دیرپا کامیابی کی طرف لے جاتے ہیں۔

موضوع 12۔ فتح مکہ، غزوۂ حنین، محاصرۂ طائف اور غزوۂ تبوک

1فتح مکہ کا فوری سبب کیا بنا؟
الفبنو بکر نے قریش کی مدد سے بنو خزاعہ پر حملہ کر کے حدیبیہ کا عہد توڑا
بقریش نے مدینہ پر حملہ کیا
جثقیف نے مسلمانوں پر حملہ کیا
دروم نے شام کی سرحد پر لشکر جمع کیا
بنو بکر نے قریش کی مدد سے بنو خزاعہ پر حملہ کر کے حدیبیہ کے معاہدے کی خلاف ورزی کی، جو فتح مکہ کا فوری سبب بنی۔
2رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کی تیاری خفیہ کیوں رکھی؟
الفتاکہ خونریزی کم سے کم ہو
بتاکہ قریش کو انعام دیا جا سکے
جتاکہ خیبر کے یہود کو اطلاع نہ ہو
دتاکہ طائف کے لوگ بے خبر رہیں
رسول اللہ ﷺ نے تیاری خفیہ رکھی تاکہ اچانک اور فیصلہ کن پیش قدمی سے غیر ضروری خونریزی سے بچا جا سکے۔
3مکہ میں داخلے کے وقت مسلمان دستوں کو کیا ہدایت دی گئی تھی؟
الفعمومی مزاحمت سے بچنے کی ہدایت دی گئی
بہر مزاحمت کرنے والے کو سزا دینے کی ہدایت دی گئی
جشہر کو نذرِ آتش کرنے کی ہدایت دی گئی
دصرف رات کے وقت داخل ہونے کی ہدایت دی گئی
مختلف دستوں کو واضح ہدایت دی گئی کہ عمومی مزاحمت سے حتی الامکان گریز کیا جائے، جس سے شہر تقریباً بلا تصادم فتح ہوا۔
4فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کا انداز کیسا تھا؟
الففاتحانہ غرور کے بجائے عاجزی کا انداز تھا
بشاہانہ جشن کا اہتمام کیا گیا
جانتقامی جذبات نمایاں تھے
دشہر پر مکمل کرفیو نافذ کیا گیا
رسول اللہ ﷺ فاتحانہ غرور کے بجائے سر جھکائے، عاجزی کی حالت میں مکہ میں داخل ہوئے۔
5کعبہ کی تطہیر کے بعد اہلِ مکہ کے لیے کیا اعلان کیا گیا؟
الفزیادہ تر لوگوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا گیا
بتمام باشندوں کو جلاوطن کیا گیا
جتمام باشندوں پر جزیہ عائد کیا گیا
دشہر کو خالی کرنے کا حکم دیا گیا
کعبہ سے بت ہٹانے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے زیادہ تر اہلِ مکہ کے لیے وسیع پیمانے پر عام معافی کا اعلان فرمایا۔
6عام معافی کے باوجود کیا استثنا رکھا گیا؟
الفچند مخصوص جرائم کے مرتکبین کے معاملات الگ رکھے گئے
بکسی کو بھی استثنا نہیں دیا گیا
جصرف عورتوں کو معاف کیا گیا
دصرف غلاموں کو معاف کیا گیا
بعض مخصوص سنگین جرائم کے مقدمات الگ رکھے گئے، اس لیے عام معافی کو مطلق بے قانونی نہیں سمجھنا چاہیے۔
7غزوۂ حنین میں مسلمانوں کا مقابلہ کن قبائل سے ہوا؟
الفہوازن اور ثقیف
ببنو قریظہ اور بنو نضیر
جغطفان اور بنو اسد
دروم اور فارس
فتح مکہ کے بعد ہوازن اور ثقیف کے قبائل نے مسلمانوں کے مقابلے کے لیے بڑا لشکر جمع کیا تھا۔
8حنین کی ابتدا میں مسلمانوں کی صفوں میں انتشار کیوں پیدا ہوا؟
الفدشمن کے اچانک حملے کے باعث
برسول اللہ ﷺ کی عدم موجودگی کے باعث
جہتھیاروں کی کمی کے باعث
دقریش کی غداری کے باعث
دشمن نے پہلے سے تاک لگا رکھی تھی اور ابتدائی اچانک حملے سے اسلامی صفوں میں وقتی اضطراب پیدا ہوا۔
9حنین کے واقعے سے قرآن نے کیا سبق دیا؟
الفکثرتِ تعداد نے ابتدا میں کوئی فائدہ نہ دیا
بجنگ میں تعداد ہی سب کچھ ہے
جدشمن کبھی شکست نہیں کھاتا
دکمزوروں کو ہمیشہ ہار ملتی ہے
قرآن نے واضح کیا کہ حنین کے دن کثرتِ تعداد نے ابتدا میں کوئی فائدہ نہ دیا اور فتح نظم، ثبات اور اللہ کی مدد سے آتی ہے۔
10طائف کا محاصرہ کیوں اٹھایا گیا؟
الففوری فتح ممکن نہ ہونے پر غیر ضروری نقصان سے بچنے کے لیے
بدشمن نے صلح کی درخواست کی
جخوراک ختم ہو گئی تھی
دموسم سرما شروع ہو گیا تھا
طویل محاصرے کے باوجود فوری فتح ممکن نظر نہ آنے پر غیر ضروری جانی نقصان سے بچتے ہوئے محاصرہ اٹھا لیا گیا۔
11طائف کے محاصرے کے بعد ثقیف نے کیا کیا؟
الفکچھ عرصے بعد وفد بھیج کر اسلام قبول کر لیا
بدوبارہ حملہ کر دیا
جرومی سلطنت سے مدد مانگی
دشہر چھوڑ کر ہجرت کر گئے
محاصرہ اٹھائے جانے کے کچھ عرصے بعد ثقیف نے خود اپنا وفد بھیج کر رضاکارانہ طور پر اسلام قبول کر لیا۔
12غزوۂ تبوک کس خطرے کی اطلاع پر پیش آیا؟
الفشمالی سرحد سے رومی خطرے کی اطلاع پر
بمکہ سے قریش کے حملے کی اطلاع پر
جخیبر کے یہود کی بغاوت کی اطلاع پر
دطائف کے دوبارہ حملے کی اطلاع پر
نو ہجری میں شمالی سرحد سے رومی سلطنت کے ممکنہ حملے کی اطلاعات پر تبوک کی تیاری کی گئی۔
13تبوک کے سفر نے کس چیز کو نمایاں کیا؟
الفمخلصین اور منافقین کے درمیان فرق کو
بخیبر کی زرعی پیداوار کو
جقریش کی عسکری طاقت کو
دروم کی مکمل شکست کو
طویل سفر، شدید گرمی اور فصل کے موسم نے مخلص مومنوں اور منافقین کے درمیان فرق واضح کر دیا۔
14غزوۂ تبوک میں بڑا معرکہ کیوں پیش نہیں آیا؟
الفرومی لشکر مقابلے کے لیے سامنے نہیں آیا
بمسلمان لشکر واپس لوٹ گیا
جرسول اللہ ﷺ نے صلح کر لی
ددونوں افواج نے ہتھیار ڈال دیے
تبوک میں بڑا معرکہ پیش نہ آیا، تاہم اس مہم نے اسلامی ریاست کی دفاعی رسائی اور سیاسی وقار کو ظاہر کیا۔
15فتح مکہ کا سب سے بڑا سیاسی نتیجہ کیا نکلا؟
الفقریش کی مزاحمت ختم ہوئی اور حرم توحیدی مرکز بنا
بخیبر کے یہود نے اسلام قبول کیا
جروم نے صلح کی درخواست کی
دطائف نے فوری اسلام قبول کیا
فتح مکہ نے قریش کی صدیوں پرانی مزاحمت کا خاتمہ کیا اور حرم کو دوبارہ توحیدی مرکز بنا دیا۔
16تبوک کے بعد جزیرہ نما عرب میں کیا نمایاں تبدیلی آئی؟
الفوفود کی آمد میں غیر معمولی اضافہ ہوا
بتمام قبائل نے بغاوت کر دی
جخانہ جنگی شروع ہو گئی
ددعوت کا کام رک گیا
تبوک کے بعد وفود کی آمد میں اضافہ ہوا، جسے سیرت کی اصطلاح میں عام الوفود یعنی وفود کا سال کہا جاتا ہے۔
17حنین و طائف نے مجموعی طور پر کیا کردار ادا کیا؟
الفحجاز کی بڑی قبائلی قوتوں کو نئے اسلامی نظم میں شامل کیا
بقریش کی حکومت بحال کی
جخیبر کی زمین واپس کی
دروم سے تجارتی معاہدہ کیا
حنین اور طائف کی مہمات نے حجاز کے بڑے قبائلی اتحادوں کو نئے اسلامی سیاسی نظم میں شامل کیا۔
18فتح مکہ میں قوت اور رحمت کا امتزاج کس طرح ظاہر ہوا؟
الففیصلہ کن قوت کے ساتھ عمومی خونریزی سے بچتے ہوئے وسیع معافی دی گئی
بمکمل انتقام لیا گیا
جشہر کو مکمل طور پر تباہ کیا گیا
دکوئی فوجی کارروائی نہیں کی گئی
مسلمان فیصلہ کن قوت کے ساتھ داخل ہوئے مگر خونریزی سے بچتے ہوئے بیشتر سابق دشمنوں کو معاف کر دیا گیا۔
19فتح مکہ سے تبوک تک کے سفر سے کیا مجموعی سبق ملتا ہے؟
الفنبوی کامیابی طاقت کے استعمال سے زیادہ صبر، حکمت اور عفو کا نتیجہ تھی
بکامیابی صرف عددی برتری سے حاصل ہوتی ہے
ججنگ ہی ہر مسئلے کا واحد حل ہے
ددور اندیشی کی کوئی اہمیت نہیں
یہ پورا سلسلہ ظاہر کرتا ہے کہ نبوی کامیابی عقیدے کی پختگی، صبر، حکمت اور بروقت عفو کا ثمر تھی، محض طاقت کا نتیجہ نہیں۔
20غزوۂ تبوک کے سفر میں کن موسمی و زرعی حالات کا سامنا تھا؟
الفشدید گرمی اور فصل کی کٹائی کا وقت
بشدید سردی اور برفباری
جطویل قحط اور خشک سالی
دزلزلے اور سیلاب
تبوک کی تیاری شدید گرمی کے موسم اور فصل کی کٹائی کے نازک وقت میں کی گئی، جس نے اخلاص کا امتحان لیا۔

موضوع 13۔ یہود، مشرکین، قبائلِ عرب اور غیر مسلم حکمرانوں کے ساتھ تعلقات و سفارت کاری

1نبوی خارجہ تعلقات کی بنیادی اساس کن اصولوں پر رکھی گئی تھی؟
الفعدل، وفائے عہد، دعوت اور حقیقی سلامتی
بصرف عسکری طاقت کا مظاہرہ
جمذہبی شناخت کی بنیاد پر مستقل دشمنی
دقبائلی عصبیت کا تسلسل
نبوی تعلقات عدل، وفائے عہد، دعوت اور حقیقی سلامتی کے اصولوں پر قائم تھے، نہ کہ مذہبی تعصب پر۔
2کیا کسی گروہ کی مذہبی شناخت بذات خود نبوی پالیسی میں جنگ کا سبب بنتی تھی؟
الفنہیں، مذہبی شناخت بذات خود جنگ کا سبب نہیں تھی
بہاں، ہر غیر مسلم گروہ سے جنگ لازمی تھی
جصرف اہلِ کتاب سے جنگ ہوتی تھی
دصرف مشرکین سے جنگ ہوتی تھی
مخالف کی مذہبی شناخت بذات خود جنگ کا سبب نہیں تھی؛ جنگ صرف جارحیت یا عہد شکنی کی صورت میں ہوتی تھی۔
3میثاقِ مدینہ نے یہودی قبائل کو کیا حقوق دیے؟
الفمذہبی آزادی اور مشترک دفاع کے حقوق و فرائض
بمکمل سیاسی خودمختاری اور علیحدہ ریاست
جصرف تجارتی مراعات
دکوئی حقوق نہیں دیے گئے
میثاقِ مدینہ نے یہودی گروہوں کو مذہبی آزادی اور مشترک دفاع کے حقوق و فرائض عطا کیے۔
4یہودی قبائل کے ساتھ ابتدائی تعلق کی بنیاد کیا تھی؟
الفشہری معاہدہ، نہ کہ جبری تبدیلیِ مذہب
بجبری تبدیلیِ مذہب کی شرط
جمکمل جلاوطنی کا معاہدہ
دصرف جنگ بندی کا وقتی معاہدہ
ابتدائی تعلق کی بنیاد ایک باقاعدہ شہری معاہدہ تھی، جبری تبدیلیِ مذہب نہیں۔
5بنو قینقاع، نضیر اور قریظہ کے تنازعات کو سمجھنے کا درست طریقہ کیا ہے؟
الفہر قبیلے کے مخصوص معاہداتی و جنگی سیاق میں سمجھنا چاہیے
بتمام یہود کے خلاف عمومی دشمنی کا نتیجہ نکالنا چاہیے
جانہیں محض افسانہ سمجھ کر رد کر دینا چاہیے
دصرف ایک ہی سبب پر انحصار کرنا چاہیے
ہر قبیلے کے معاملات مختلف اوقات اور اسباب سے پیش آئے، اس لیے انہیں ان کے مخصوص سیاق میں سمجھنا ضروری ہے۔
6تمام یہود کے خلاف عمومی مذہبی دشمنی اخذ کرنا کیوں غلط ہے؟
الفیہ تاریخی اور قرآنی عدل کے اصولوں کے خلاف ہے
بکیونکہ یہود کبھی مدینہ میں آباد نہیں تھے
جکیونکہ کوئی تنازعہ پیش ہی نہیں آیا
دکیونکہ قرآن نے اس کی اجازت دی ہے
مخصوص واقعات سے عمومی مذہبی دشمنی اخذ کرنا نہ تاریخی حقائق سے ثابت ہے اور نہ قرآنی عدل کے اصولوں سے میل کھاتا ہے۔
7مکی دور میں ظلم کے مقابلے میں مسلمانوں کو کیا ہدایت دی گئی؟
الفصبر اور پرامن دعوت کی ہدایت
بجوابی حملے کی اجازت
جہجرت سے انکار کی ہدایت
دخفیہ مسلح مزاحمت کی ہدایت
مکی دور میں شدید ظلم کے باوجود مسلمانوں کو صبر اور پرامن دعوت کی ہدایت دی گئی تھی۔
8مدنی دور میں قریش کے ساتھ کھلی جنگی جارحیت کے مراحل کون سے تھے؟
الفبدر، احد اور خندق
بحدیبیہ اور خیبر
جطائف اور تبوک
دحنین اور تبوک
مدنی دور میں بدر، احد اور خندق کھلی جنگی جارحیت کے مراحل تھے جن میں دفاعی جنگ لڑی گئی۔
9حدیبیہ اور فتح مکہ نے نبوی پالیسی کے بارے میں کیا ظاہر کیا؟
الفامن، معاہدہ اور عفو نبوی پالیسی کے مرکزی وسائل تھے
بجنگ ہی واحد ترجیحی حکمتِ عملی تھی
جمعاہدے کبھی نہیں کیے گئے
دعفو کبھی نہیں دیا گیا
حدیبیہ اور فتح مکہ نے دکھایا کہ امن، معاہدہ اور عفو نبوی پالیسی کے حقیقی اور مرکزی ذرائع تھے۔
10رسول اللہ ﷺ نے عرب قبائل کے ساتھ کس نوعیت کے معاہدے کیے؟
الفبیعت، امن، تعاون اور عدم جارحیت کے مختلف معاہدے
بصرف جنگ بندی کے وقتی معاہدے
جصرف تجارتی معاہدے
دکوئی معاہدہ نہیں کیا گیا
رسول اللہ ﷺ نے قبائل سے بیعت، امن، تعاون اور عدم جارحیت کے مختلف نوعیت کے معاہدے کیے۔
11قبائل کی خودمختاری کو نئے اسلامی نظم میں کیسے شامل کیا گیا؟
الفتدریج کے ساتھ عدل پر مبنی بڑے نظم میں شامل کیا گیا
بیکدم مکمل طور پر ختم کیا گیا
جبالکل نظرانداز کیا گیا
دصرف طاقت کے زور پر ضم کیا گیا
قبائلی خودمختاری کو تدریج کے ساتھ ایک وسیع تر عدل پر مبنی سیاسی نظام میں شامل کیا گیا۔
12حدیبیہ کے بعد کن حکمرانوں کو دعوتی خطوط بھیجے گئے؟
الفہرقل، کسریٰ، مقوقس اور نجاشی سمیت حکمرانوں کو
بصرف عرب کے قبائلی سرداروں کو
جصرف مدینہ کے یہودیوں کو
دصرف قریش کے سرداروں کو
حدیبیہ کے بعد ہرقل، کسریٰ، مقوقس اور نجاشی سمیت متعدد حکمرانوں کو دعوتی خطوط بھیجے گئے۔
13دعوتی خطوط میں بنیادی مضمون کیا تھا؟
الفاللہ کی بندگی، نبوی رسالت اور ذمہ دار قبولِ حق کی دعوت
بسیاسی اتحاد کی درخواست
جتجارتی معاہدے کی پیشکش
دعلاقائی تنازعات کا حل
خطوط میں اللہ کی بندگی، نبوی رسالت اور ذمہ دار طریقے سے حق قبول کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔
14نبوی خطوط کی اسناد کے بارے میں کیا احتیاط ضروری ہے؟
الفہر مکتوب کی سند اور متن یکساں درجے کے نہیں
بتمام خطوط ایک ہی سند سے ثابت ہیں
جکسی خط کی کوئی سند موجود نہیں
دتمام خطوط ضعیف ہیں
ہر مکتوب کی سند اور متن یکساں درجے کے نہیں، اس لیے تحقیقی نسبت میں ماخذی احتیاط ضروری ہے۔
15رسول اللہ ﷺ نے بین الاقوامی سفارتی رواج کے مطابق کیا اقدام کیا؟
الفمہر بنوائی
بپرچم بنوایا
جسفارت خانہ قائم کیا
دالگ کرنسی جاری کی
رسول اللہ ﷺ نے بین الاقوامی رواج کے مطابق ایک مہر بنوائی تاکہ خطوط کو باضابطہ سرکاری حیثیت حاصل ہو۔
16سفارتی آداب میں سفیر کے لیے کیا ضروری سمجھا گیا؟
الفپیغام کی درست تفہیم، زبان اور حالات سے واقفیت
بصرف جسمانی طاقت
جصرف مالی وسائل
دصرف قبائلی تعلقات
سفیر کو پیغام کی درست تفہیم، متعلقہ زبان اور حالات سے واقف ہونا ضروری سمجھا جاتا تھا۔
17نبوی سفارتی نظام میں وفود کے ساتھ کیا رویہ اپنایا جاتا تھا؟
الفعزت دی جاتی اور مقامی حالات کے مطابق تعلیم و عامل بھیجے جاتے
بوفود کو واپس بھیج دیا جاتا
جوفود سے جبری بیعت لی جاتی
دوفود کو نظرانداز کیا جاتا
وفود کو عزت دی جاتی اور مقامی حالات کے مطابق تعلیم و عامل بھیجے جاتے تاکہ نظم قائم رہے۔
18معاہدے کی پابندی کو نبوی نمونے میں کیسا سمجھا گیا؟
الفقوت و کمزوری دونوں حالات میں اخلاقی ذمہ داری
بصرف کمزوری کی حالت میں لازم
جصرف قوت کی حالت میں لازم
دغیر ضروری اور قابلِ نظرانداز
معاہدے کی پابندی قوت و کمزوری دونوں حالات میں ایک مستقل اخلاقی ذمہ داری سمجھی جاتی تھی۔
19نبوی نمونہ عصرِ حاضر کو کیا رہنمائی دیتا ہے؟
الفمذہبی شناخت کے ساتھ عادلانہ بقائے باہمی ممکن ہے
بکثیر المذاہب معاشرہ ناقابلِ عمل ہے
جسفارت کاری صرف کمزوروں کا ہتھیار ہے
دمعاہدے کی پابندی غیر ضروری ہے
نبوی نمونہ ثابت کرتا ہے کہ مذہبی شناخت کے ساتھ بھی عادلانہ بقائے باہمی قائم رکھی جا سکتی ہے۔
20نبوی سفارت کاری کا اصل مقصد کیا تھا؟
الفخونریزی روکنا اور حق کو حکمت سے واضح کرنا
بکمزوری چھپانا
جوقتی مفاد حاصل کرنا
ددشمن کو دھوکا دینا
سفارت کاری اصول فروشی نہیں بلکہ خونریزی روکنے اور حق کو واضح کرنے کی ایک حکیمانہ صورت تھی۔

موضوع 14۔ عہدِ نبوی کا معاشرتی، معاشی، عدالتی اور انتظامی نظام

1عہدِ نبوی کے معاشرتی و سیاسی نظام کی بنیاد کن تصورات پر رکھی گئی تھی؟
الفتوحید، رسالت، آخرت اور انسانی جواب دہی
بصرف قبائلی روایات
جصرف عسکری طاقت
دصرف تجارتی مفادات
مدنی نظام توحید، رسالت، آخرت اور انسانی جواب دہی پر قائم تھا، جو اس کی اخلاقی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
2عہدِ نبوی میں قانون اور اخلاق کا کیا تعلق تھا؟
الفقانون کو اخلاق سے اور اقتدار کو امانت سے جدا نہیں کیا گیا
بقانون اور اخلاق کو مکمل طور پر الگ رکھا گیا
جاقتدار کو ذاتی ملکیت سمجھا گیا
دقانون صرف طاقتوروں پر لاگو ہوتا تھا
عہدِ نبوی کے نظام میں قانون کو اخلاق سے اور اقتدار کو امانت سے کبھی جدا نہیں کیا گیا۔
3ریاستِ مدینہ کا بنیادی مقصد کیا بیان کیا گیا ہے؟
الفعدل، امن، عبادت کی آزادی اور انسانی فلاح
بصرف علاقائی توسیع
جصرف مالی منفعت
دصرف قبائلی برتری
ریاست کا مقصد عدل، امن، عبادت کی آزادی اور انسانی فلاح تھا، نہ کہ محض طاقت یا توسیع۔
4مہاجرین و انصار کی مواخات کا بنیادی مقصد کیا تھا؟
الفقبائلی فاصلے کم کرنا اور ایمانی اخوت قائم کرنا
بجاگیرداری نظام قائم کرنا
جقبائلی عصبیت کو مضبوط کرنا
دصرف مالی تقسیم کرنا
مہاجر و انصار کی مواخات نے قبائلی فاصلے کم کیے اور ایمانی اخوت کو معاشرتی نظم کی بنیاد بنایا۔
5عہدِ نبوی میں کن طبقات کے حقوق پر خصوصی تعلیم دی گئی؟
الفعورت، یتیم، مسکین، غلام اور پڑوسی
بصرف امرا اور سردار
جصرف تاجر طبقہ
دصرف عسکری قیادت
عورت، یتیم، مسکین، غلام اور پڑوسی کے حقوق پر مسلسل اور واضح تعلیم دی گئی۔
6خاندان کے نظام میں نکاح کو کیا حیثیت دی گئی؟
الفایک ذمہ دار معاہدہ اور اخلاقی تربیت کی بنیاد
بمحض ایک رسمی تقریب
جخالصتاً ذاتی معاملہ جس میں کوئی حدود نہیں
دغیر ضروری سماجی رسم
نکاح کو ایک ذمہ دار معاہدہ اور خاندان کو اخلاقی تربیت کی بنیاد قرار دیا گیا۔
7طلاق کے معاملے میں کیا حدود مقرر کی گئیں؟
الفعدت، مصالحت اور ظلم سے بچنے کی حدود
بکوئی حد مقرر نہیں کی گئی
جطلاق کو مکمل طور پر ممنوع قرار دیا گیا
دصرف مرد کی مرضی کو معیار بنایا گیا
طلاق کی اجازت کے ساتھ عدت، مصالحت کی کوشش اور ظلم سے بچنے کی واضح حدود مقرر کی گئیں۔
8معاشی میدان میں کن طریقوں کو ممنوع قرار دیا گیا؟
الفسود، دھوکا، ذخیرہ اندوزی اور ناپ تول میں کمی
بتجارت اور ملکیت
جزراعت اور دستکاری
دزکوٰۃ اور صدقات
سود، دھوکا، ذخیرہ اندوزی، جھوٹی قسم اور ناپ تول میں کمی جیسے استحصالی طریقوں سے سختی سے روکا گیا۔
9زکوٰۃ اور صدقات کا معاشرتی کردار کیا تھا؟
الفدولت کے ساتھ سماجی ذمہ داری پیدا کرنا
بدولت کو مکمل طور پر ضبط کرنا
جصرف امرا کو فائدہ پہنچانا
دتجارت کو محدود کرنا
زکوٰۃ، صدقات اور انفاق نے دولت کے ساتھ ایک واضح سماجی ذمہ داری پیدا کی۔
10مدینہ کے بازار کے نظم کی بنیادی خصوصیت کیا تھی؟
الفآزاد بازار مگر اخلاقی نگرانی، قیمتوں میں مصنوعی مداخلت نہیں
بقیمتوں کا مکمل سرکاری تعین
جبازار پر مکمل پابندی
دصرف مخصوص طبقے کو تجارت کی اجازت
مدینہ میں آزاد اور اخلاقی نگرانی والا بازار فروغ پایا، قیمتوں میں مصنوعی مداخلت کے بجائے ظلم کی روک تھام پر توجہ دی گئی۔
11عدالتی نظام میں دعویٰ اور انکار کا بنیادی اصول کیا تھا؟
الفمدعی پر دلیل اور منکر پر قسم
بدونوں پر قسم لازم تھی
جصرف طاقتور کا دعویٰ قبول ہوتا تھا
دکوئی اصول موجود نہیں تھا
مدعی پر دلیل اور منکر پر قسم کا اصول عدالتی ذمہ داری کی منصفانہ تقسیم کو واضح کرتا ہے۔
12قانونی مساوات کا کیا معیار قائم کیا گیا تھا؟
الفبااثر شخص کو بھی خصوصی رعایت حاصل نہیں تھی
ببااثر افراد کو استثنا حاصل تھا
جقانون صرف عام لوگوں پر لاگو ہوتا تھا
دقانون کا اطلاق قبیلے کی بنیاد پر ہوتا تھا
قانونی مساوات اس حد تک تھی کہ بااثر شخص بھی جرم پر خصوصی رعایت کا حق دار نہ تھا۔
13رسول اللہ ﷺ آخری قاضی کی حیثیت سے کن بنیادوں پر فیصلے کرتے تھے؟
الفوحی، شہادت اور ظاہر دلائل پر
بصرف ذاتی رائے پر
جصرف قبائلی رواج پر
دصرف مالی حیثیت پر
رسول اللہ ﷺ آخری قاضی تھے اور فیصلے وحی، شہادت اور ظاہر دلائل پر کرتے تھے۔
14انتظامی تقرریوں کا بنیادی معیار کیا تھا؟
الفاہلیت، امانت اور جواب دہی
بنسلی برتری
جمالی حیثیت
دقبائلی تعلقات
اہلیت، امانت اور جواب دہی انتظامی ذمہ داری کے بنیادی معیار تھے، نہ کہ نسب یا دولت۔
15کن عہدوں پر افراد مقرر کیے جاتے تھے؟
الفوالی، عامل، کاتب، سفیر، امیرِ لشکر اور زکوٰۃ وصول کرنے والے
بصرف قاضی اور امام
جصرف امیرِ لشکر
دصرف کاتب
والی، عامل، کاتب، سفیر، امیرِ لشکر اور زکوٰۃ وصول کرنے والے مختلف امور کے لیے مقرر ہوتے تھے۔
16وحی کے دائرے سے باہر اجتماعی معاملات میں رسول اللہ ﷺ کیا کرتے تھے؟
الفصحابہ سے مشاورت فرماتے تھے
بتنہا فیصلہ کرتے تھے
جقرعہ اندازی کرتے تھے
دمعاملہ ملتوی کر دیتے تھے
وحی کے دائرے سے باہر اجتماعی معاملات میں صحابہ سے باقاعدہ مشاورت کی جاتی تھی۔
17عہدِ نبوی کے نظام کو جامد دفتری خاکہ کیوں نہیں کہا جا سکتا؟
الفیہ ایک اصولی اور ارتقا پذیر نظم تھا
بیہ ایک مقررہ اور غیر متغیر ڈھانچہ تھا
جاس میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں تھی
دیہ صرف ایک شخص کے لیے مخصوص تھا
عہد نبوی کوئی جامد دفتری خاکہ نہیں بلکہ اصولی اور ارتقا پذیر نظم تھا۔
18عبادت گاہ، خاندان، بازار، عدالت اور حکومت کا آپس میں کیا تعلق تھا؟
الفیہ سب ایک مشترک اخلاقی مقصد سے مربوط تھے
بیہ سب ایک دوسرے سے مکمل طور پر الگ تھے
جصرف عبادت گاہ کی اہمیت تھی
دحکومت کا کسی اور شعبے سے تعلق نہیں تھا
عبادت گاہ، خاندان، بازار، عدالت اور حکومت ایک مشترک اخلاقی مقصد سے مربوط تھے۔
19عصرِ حاضر میں عہدِ نبوی کے نظام سے کیا رہنمائی لی جا سکتی ہے؟
الفعدل، شوریٰ، امانت اور حقوق کی پابندی مستقل رہتی ہے
بصرف ظاہری شکلوں کی نقل کی جائے
جیہ نظام آج غیر متعلقہ ہے
دصرف عسکری پہلو اہم ہے
عصرِ حاضر میں صورتیں بدل سکتی ہیں مگر عدل، شوریٰ، امانت اور حقوق کی پابندی جیسی اقدار مستقل رہتی ہیں۔
20مخزومی عورت کے واقعے میں رسول اللہ ﷺ نے کیا اصول واضح فرمایا؟
الفبااثر شخص کے لیے بھی حد میں کوئی رعایت نہیں
بخاندانی سفارش قابلِ قبول ہے
جعورتوں پر حدود لاگو نہیں ہوتیں
دصرف غریبوں پر قانون لاگو ہوتا ہے
رسول اللہ ﷺ نے سفارش مسترد کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر ان کی اپنی بیٹی بھی چوری کرتی تو اسے بھی سزا دی جاتی، جو مکمل قانونی مساوات کی علامت ہے۔

موضوع 15۔ حجۃ الوداع، خطبۂ حجۃ الوداع، وصالِ نبوی ﷺ اور سیرت کا عالمگیر پیغام

1حجۃ الوداع کس سالِ ہجری میں ادا کیا گیا؟
الفدس ہجری میں
بآٹھ ہجری میں
جنو ہجری میں
دگیارہ ہجری میں
دس ہجری میں رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کے بڑے اجتماع کے ساتھ اپنا آخری حج ادا کیا۔
2رسول اللہ ﷺ نے حج کے مناسک کے بارے میں کیا ہدایت دی؟
الفمجھ سے اپنے حج کے طریقے سیکھ لو
بحج ہر سال ادا کرنا لازم ہے
جحج کے مناسک ہر علاقے میں مختلف ہو سکتے ہیں
دحج صرف امیروں پر فرض ہے
آپ ﷺ نے مناسک عملاً سکھائے اور فرمایا کہ مجھ سے اپنے حج کے طریقے سیکھ لو۔
3حجۃ الوداع نے کن چیزوں کو ایک ہی منظر میں یکجا کر دیا؟
الفعبادت، امت کی وحدت اور نبوی تعلیم کی تکمیل
بصرف تجارتی معاملات
جصرف قبائلی معاہدات
دصرف عسکری تیاری
اس حج نے عبادت، امت کی وحدت اور نبوی تعلیم کی تکمیل کو ایک ہی منظر میں جمع کر دیا۔
4خطبۂ حجۃ الوداع کی روایت کے بارے میں علمی دیانت کا کیا تقاضا ہے؟
الفثابت اجزا کو پیش کیا جائے اور غیر ثابت اضافوں کو منسوب نہ کیا جائے
بپورا خطبہ ایک ہی سند سے ثابت ہے
جخطبے کی کوئی سند موجود نہیں
دخطبے کو مکمل طور پر رد کر دینا چاہیے
علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ ثابت اجزا پیش کیے جائیں اور غیر ثابت اضافوں کو یقینی نسبت نہ دی جائے۔
5خطبے کا مشہور مسلسل متن کس طرح مرتب ہوا ہے؟
الفمختلف صحیح روایات سے مضمون مرتب کیا گیا ہے
بایک ہی راوی کی روایت سے
جصرف قرآنی آیات سے
دبعد کی صدیوں کی تصنیف سے
خطبے کا ہر جملہ ایک ہی سند میں جمع نہیں بلکہ مختلف صحیح روایات سے مضمون مرتب ہوتا ہے۔
6خطبے میں جان، مال اور عزت کی حرمت کو کس سے تشبیہ دی گئی؟
الفمقدس دن اور شہر کی حرمت سے
بقربانی کے جانوروں سے
جکعبے کے پردوں سے
دزمزم کے پانی سے
صحیح حدیث میں جان، مال اور آبرو کی حرمت کو مقدس دن اور شہر کی حرمت سے تشبیہ دی گئی۔
7خطبے میں جاہلیت کے کن دعووں کو ختم کیا گیا؟
الفجاہلی خون اور سود کے دعوے
بزمین کی ملکیت کے دعوے
جتجارتی معاہدوں کے دعوے
دقبائلی سرداری کے دعوے
خطبے میں جاہلی خون اور سود کے تمام دعوے کالعدم قرار دیے گئے۔
8جان، مال اور عزت کی حرمت کے اعلان کا کیا اثر ہوا؟
الفانتقام اور معاشی استحصال کے مقابل قانونی و اخلاقی تحفظ قائم ہوا
بقبائلی جنگیں مزید بڑھ گئیں
جسود کا نظام مضبوط ہوا
دخون کے پرانے دعوے بحال ہو گئے
اس اعلان نے انتقام اور معاشی استحصال کے مقابل ایک مستقل قانونی و اخلاقی تحفظ قائم کیا۔
9خطبے میں عورتوں کے بارے میں کیا تاکید کی گئی؟
الفاللہ سے ڈرنے اور باہمی حقوق ادا کرنے کی تاکید
بعورتوں کے حقوق کا کوئی ذکر نہیں
جعورتوں کو معاشرتی معاملات سے الگ رکھنے کی ہدایت
دصرف مردوں کے حقوق کا ذکر
عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرنے اور باہمی حقوق ادا کرنے کی واضح تاکید کی گئی۔
10رسول اللہ ﷺ کی آخری بیماری کے دوران نماز کی امامت کس کو سونپی گئی؟
الفحضرت ابوبکرؓ کو
بحضرت عمرؓ کو
جحضرت علیؓ کو
دحضرت عثمانؓ کو
آپ ﷺ نے آخری بیماری کے دوران نماز کی امامت کے لیے حضرت ابوبکرؓ کو مقرر فرمایا۔
11رسول اللہ ﷺ کا وصال کس سالِ ہجری اور کہاں ہوا؟
الفگیارہ ہجری میں مدینہ میں حضرت عائشہؓ کے حجرے میں
بدس ہجری میں مکہ میں
جبارہ ہجری میں طائف میں
دنو ہجری میں تبوک میں
گیارہ ہجری میں مدینہ میں حضرت عائشہؓ کے حجرے میں رسول اللہ ﷺ کا وصال ہوا۔
12وصالِ نبوی ﷺ کی خبر پر حضرت ابوبکرؓ نے کیا کیا؟
الفآلِ عمران کی آیت پڑھ کر رسالت اور اللہ کی ابدی حاکمیت واضح کی
بخاموش رہے اور کچھ نہ کہا
جمدینہ چھوڑ دیا
دخبر کو جھٹلایا
حضرت ابوبکرؓ نے آلِ عمران کی آیت پڑھ کر واضح کیا کہ رسالت ختم ہوئی مگر اللہ کی حاکمیت ابدی ہے۔
13رسول اللہ ﷺ کو کہاں سپردِ خاک کیا گیا؟
الفاسی حجرے میں جہاں وصال ہوا
بجنت البقیع میں
جمکہ میں
دخیبر میں
آپ ﷺ کو اسی حجرے میں دفن کیا گیا جہاں آپ کا وصال ہوا تھا۔
14وصالِ نبوی ﷺ کے بعد وحی اور نبوت کے سلسلے کا کیا ہوا؟
الفوحی اور نبوت کا سلسلہ مکمل ہوا مگر قرآن، سنت اور امت باقی رہی
بوحی کا سلسلہ جاری رہا
جنبوت کسی اور کو منتقل ہوئی
دقرآن کا نزول جاری رہا
وصال سے وحی نبوت کا سلسلہ مکمل ہوا مگر قرآن، سنت اور تربیت یافتہ امت باقی رہی۔
15نبوی مشن کی بنیاد کس چیز پر تھی؟
الفاللہ کی عبادت اور اصولی اطاعت پر
بشخصیت پرستی پر
جقبائلی وفاداری پر
دذاتی اقتدار پر
نبوی مشن کسی شخصیت پرستی کے بجائے اللہ کی عبادت اور اصولی اطاعت پر قائم تھا۔
16وصال کے بعد صحابہ نے کن ذمہ داریوں کو آگے بڑھایا؟
الفدعوت، علم اور عدل کی ذمہ داری
بصرف عسکری توسیع
جصرف تجارتی ترقی
دصرف انفرادی عبادت
صحابہ نے دعوت، علم اور عدل کی ذمہ داری کو آگے بڑھایا، جو نبوی مشن کا تسلسل تھا۔
17سیرتِ نبوی ﷺ کا عالمگیر پیغام کن اقدار پر مشتمل ہے؟
الفتوحید، رحمت، عدل، علم، تزکیہ اور انسانی کرامت
بصرف عسکری کامیابی
جصرف قبائلی اتحاد
دصرف مالی خوشحالی
سیرت توحید، رحمت، عدل، علم، تزکیہ اور انسانی کرامت کا مربوط اور آفاقی پیغام ہے۔
18مکی صبر، مدنی تنظیم، معاہدات، دفاع اور عفو کو کیسے سمجھا جانا چاہیے؟
الفایک ہی اخلاقی مشن کے مختلف مراحل کے طور پر
ببالکل الگ الگ اور غیر متعلق واقعات کے طور پر
جصرف تاریخی حادثات کے طور پر
دصرف سیاسی حکمتِ عملی کے طور پر
مکی صبر، مدنی تنظیم، معاہدات، دفاع اور عفو ایک ہی اخلاقی مشن کے مختلف مراحل ہیں۔
19رسول اللہ ﷺ کی حقیقی پیروی کا تقاضا کیا ہے؟
الفعبادت کے ساتھ سچائی، حقوق، خدمت اور ذمہ دار اجتماعی کردار
بصرف رسمی عبادات کی ادائیگی
جصرف زبانی محبت کا اظہار
دصرف تاریخی واقعات کا مطالعہ
رسول اللہ ﷺ کی پیروی کا تقاضا عبادت کے ساتھ سچائی، حقوق، خدمت اور ذمہ دار اجتماعی کردار ہے۔
20حجۃ الوداع میں دین کی تکمیل کا اعلان کس آیت میں ہوا؟
الف﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ﴾
ب﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا﴾
ج﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَالْفَتْحُ﴾
د﴿وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا﴾
سورۃ المائدہ کی آیت ﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ﴾ میں دین کی تکمیل کا اعلان کیا گیا۔