ہومموضوعات ‹ موضوع 3
موضوع 3 از 15

حضور اکرم ﷺ کا نسب، ولادت، بچپن، جوانی اور قبل از نبوت زندگی

حضور اکرم ﷺ کے نسب، ولادت اور قبل از نبوت زندگی کے اہم واقعات کیا تھے، اور ان کی تربیتی اہمیت کیا ہے؟

نبی کریم ﷺ کے نسب، ولادت اور بعثت سے پہلے کی زندگی کا مطالعہ محض سوانحی تفصیل جمع کرنے کی کوشش نہیں، بلکہ اس سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول کو ابتدا ہی سے ایک خاص تربیتی راستے پر گامزن رکھا۔ خود نبی کریم ﷺ نے اپنے شرفِ نسب کا ذکر ان الفاظ میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اولادِ اسماعیل میں سے کنانہ کو، کنانہ میں سے قریش کو، قریش میں سے بنی ہاشم کو اور بنی ہاشم میں سے مجھے منتخب فرمایا (صحیح مسلم، کتاب الفضائل)۔ یہ حدیث اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ نبوت کے لیے انتخاب محض اتفاقی امر نہیں تھا بلکہ ایک تدریجی اور بامعنی انتخاب کا نتیجہ تھا۔

رسول اللہ ﷺ قریش کے معزز خاندان بنی ہاشم سے تعلق رکھتے تھے، جو مکہ کے قبائل میں خاص عزت و احترام کا حامل تھا۔ آپ کا نسب عدنان کے ذریعے حضرت اسماعیلؑ تک پہنچایا جاتا ہے، جبکہ اس سے اوپر کی تفصیلات میں سیرت نگار عموماً احتیاط برتتے ہیں کیونکہ اس حصے کی روایات اتنی مستند نہیں۔ خاندانی شرافت نے بلاشبہ آپ ﷺ کی دعوت کو ایک اخلاقی وزن اور معاشرتی قبولیت عطا کی، تاہم قرآن مجید نے بار بار یہ واضح کیا کہ اصل فضیلت نسب یا خاندان کی بنیاد پر نہیں بلکہ تقویٰ اور عمل کی بنیاد پر متعین ہوتی ہے، تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ نبوت کا تعلق محض دنیاوی اعزاز سے تھا۔

آپ ﷺ کی ولادت مکہ مکرمہ میں عام الفیل کے قریب ہوئی، یعنی اس سال کے آس پاس جب ابرہہ نے کعبہ پر حملے کی کوشش کی تھی، اگرچہ ولادت کی صحیح تاریخ کے بارے میں اہلِ سیر کے مابین کچھ اختلاف پایا جاتا ہے۔ آپ ﷺ کی پیدائش سے پہلے ہی آپ کے والد حضرت عبداللہ کا انتقال ہو چکا تھا، جس کے باعث آپ کی زندگی کا آغاز ہی یتیمی کی آزمائش سے ہوا۔ اس کے بعد چھ برس کی عمر میں والدہ آمنہ کا انتقال ہوا، اور تقریباً آٹھ برس کی عمر میں دادا عبدالمطلب بھی رخصت ہو گئے۔ ان پے در پے صدموں نے کم عمری ہی میں آپ ﷺ کے اندر صبر، خود انحصاری اور یتیموں کے دکھ کا گہرا احساس پیدا کر دیا، جو بعد کی زندگی میں آپ کی رحم دلی اور کمزوروں کی خبر گیری کی بنیاد بنا۔

عرب روایت کے مطابق آپ ﷺ نے بنو سعد قبیلے میں حضرت حلیمہ سعدیہ کے ہاں رضاعت پائی، جو اس دور کے مکی رواج کے عین مطابق تھا، کیونکہ مکہ کے معزز خاندان اپنے بچوں کو صحرا میں پرورش کے لیے بھیجا کرتے تھے۔ صحرا کی پاکیزہ فضا، فصیح و بلیغ زبان اور سادہ زندگی نے آپ ﷺ کی جسمانی نشوونما اور لسانی تربیت دونوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ بعد میں آپ ﷺ کی گفتگو کی فصاحت پورے عرب میں مثالی سمجھی جاتی تھی۔ اس رضاعی تعلق کے ساتھ آپ ﷺ نے تمام عمر وفا اور حسنِ سلوک کا معیار برقرار رکھا، اور کئی مواقع پر اپنے رضاعی رشتہ داروں کے ساتھ خصوصی شفقت کا اظہار فرمایا۔

دادا عبدالمطلب کی وفات کے بعد آپ کی کفالت کی ذمہ داری چچا ابوطالب نے سنبھالی، جنہوں نے محبت اور خلوص سے یہ ذمہ داری نبھائی۔ اگرچہ ابوطالب کے پاس معاشی فراخی نہیں تھی، تاہم آپ ﷺ کو مکمل خاندانی تحفظ حاصل رہا۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ابوطالب نے بعد کی زندگی میں، ایمان قبول نہ کرنے کے باوجود، قریش کی سخت مخالفت کے مقابلے میں اپنے بھتیجے کو قبائلی حمایت اور تحفظ فراہم کیا، جو نبوی دعوت کے ابتدائی اور نازک ترین دور میں نہایت اہم ثابت ہوا۔

جوانی کی طرف بڑھتے ہوئے آپ ﷺ نے بکریاں چرائیں، جس سے صبر اور نگہداشت جیسی صفات پروان چڑھیں، اور محنت کی عزت کو عملی طور پر ثابت کیا۔ بعد ازاں تجارتی سفروں میں شرکت سے آپ نے معاملہ فہمی اور انسانی مزاج کی گہری سمجھ حاصل کی۔ اپنی دیانت داری، وعدے کی پاسداری اور پاکیزہ کردار کی بنا پر اہلِ مکہ آپ کو الصادق یعنی سچا اور الامین یعنی امانت دار جیسے القاب سے یاد کرتے تھے، اور یہ شہرت محض اتفاق نہیں بلکہ برسوں کے مسلسل اور بے داغ طرزِ عمل کا نتیجہ تھی۔

اسی دور میں حلف الفضول نامی ایک معاہدہ مکہ میں طے پایا، جس کا مقصد مظلوم کو اس کا حق دلانا اور طاقتور قبائل کی زیادتیوں کو روکنا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس معاہدے میں بھرپور شرکت کی اور بعد از نبوت بھی اسے قدر کی نگاہ سے یاد فرمایا، بلکہ فرمایا کہ اگر آج بھی مجھے اس جیسے معاہدے کی طرف بلایا جائے تو میں ضرور شریک ہوں۔ یہ واقعہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ اسلام خیر اور عدل کے لیے کی جانے والی ہر جائز اجتماعی کوشش کو تسلیم کرتا ہے، چاہے وہ نبوت سے پہلے ہی کیوں نہ انجام دی گئی ہو۔

تجارتی معاملات میں آپ ﷺ کی دیانت سے متاثر ہو کر حضرت خدیجہؓ نے آپ کو اپنا تجارتی سامان لے کر شام جانے کی دعوت دی، اور بعد میں خود نکاح کی پیش کش کی۔ یہ نکاح محبت، اعتماد، وفاداری اور باہمی احترام کا ایک مثالی رشتہ ثابت ہوا، اور دونوں کے درمیان جو گہرا تعلق قائم ہوا وہ زندگی بھر برقرار رہا۔ آغازِ وحی کے نہایت نازک اور اضطراب انگیز مرحلے میں حضرت خدیجہؓ ہی سب سے پہلے تھیں جنہوں نے آپ ﷺ کو تسلی دی اور آپ کی نبوت کی تصدیق کی، جو اس رشتے کی روحانی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔

نبوت سے کچھ عرصہ پہلے، جب قریش نے کعبہ کی تعمیرِ نو کی تو حجرِ اسود کو اس کی جگہ نصب کرنے پر مختلف قبائل کے درمیان شدید نزاع پیدا ہو گیا، اور بات تلوار اٹھانے تک جا پہنچی۔ اس نازک موقع پر آپ ﷺ نے ایک نہایت حکیمانہ حل پیش کیا: حجرِ اسود کو ایک چادر میں رکھوا کر تمام قبائل کے سرداروں کو چادر کے کونے تھامنے کی دعوت دی، تاکہ سب مل کر اسے اٹھائیں اور پھر آپ نے خود اسے اپنے ہاتھوں سے اس کی جگہ رکھ دیا۔ اس فیصلے نے آپ کی غیر معمولی حکمت، غیر جانب داری اور نزاعات حل کرنے کی صلاحیت کو پوری طرح آشکار کر دیا، اور یہی وہ اوصاف تھے جو بعد میں دعوت و قیادت کے میدان میں کہیں زیادہ نمایاں انداز میں ظاہر ہوئے۔

یہ تمام واقعات، یتیمی سے لے کر حجرِ اسود کے فیصلے تک، ایک ہی تربیتی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ یتیمی نے کمزور انسان کے دکھ سے واقفیت بخشی، رضاعت و صحرائی زندگی نے جسمانی و لسانی مضبوطی دی، بکریاں چرانے اور تجارت نے صبر اور معاملہ فہمی سکھائی، حلف الفضول نے عدل کی اجتماعی اہمیت واضح کی، اور حجرِ اسود کے فیصلے نے حکمت کا عملی نمونہ پیش کیا۔ یوں قبل از نبوت زندگی کا ہر گوشہ اس عظیم ذمہ داری کی تیاری تھا جو چالیس برس کی عمر میں غارِ حرا میں آپ کے سپرد کی جانے والی تھی۔

منتخب مصادر و مراجع

  1. صحیح مسلم، کتاب الفضائل، باب فضل نسب النبی ﷺ
  2. صحیح البخاری، کتاب الاجارۃ وکتاب بدء الوحی
  3. ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، مولد رسول اللہ ﷺ
  4. ابن سعد، الطبقات الکبری، ذکر مولد النبی ﷺ
  5. صفی الرحمن مبارکپوری، الرحیق المختوم

رسول اللہ ﷺ قریش کے معزز خاندان بنی ہاشم سے تعلق رکھتے تھے، جسے مکہ کے تمام قبائل میں خاص عزت و احترام حاصل تھا۔ آپ کا نسب عدنان کے واسطے سے حضرت اسماعیلؑ تک پہنچایا جاتا ہے، جبکہ اس سے اوپر کی تفصیلات میں سیرت نگار عموماً احتیاط برتتے ہیں کیونکہ وہ روایات اتنی مستند نہیں سمجھی جاتیں۔ خاندانی شرافت نے آپ کی دعوت کو ایک اضافی اخلاقی وزن اور معاشرتی قبولیت ضرور عطا کی، مگر قرآن مجید نے بار بار یہ اصول واضح کیا کہ اصل فضیلت خاندان یا نسب کی بنیاد پر نہیں بلکہ تقویٰ اور نیک عمل کی بنیاد پر متعین ہوتی ہے، تاکہ نبوت کو محض دنیاوی اعزاز کا معاملہ نہ سمجھا جائے۔

آپ ﷺ کی ولادت مکہ مکرمہ میں عام الفیل کے قریب ہوئی، اگرچہ صحیح ماہ اور تاریخ کے بارے میں اہلِ سیر کے مابین کچھ اختلاف پایا جاتا ہے۔ آپ کی پیدائش سے پہلے ہی والد حضرت عبداللہ کا انتقال ہو چکا تھا، جس کے باعث زندگی کا آغاز ہی یتیمی کی آزمائش سے ہوا۔ اس کے بعد چھ برس کی عمر میں والدہ آمنہ، اور تقریباً آٹھ برس کی عمر میں دادا عبدالمطلب بھی وفات پا گئے۔ ان پے در پے صدموں نے کم عمری ہی میں آپ ﷺ کے اندر صبر، خود انحصاری اور کمزوروں کے دکھ کا گہرا احساس پیدا کیا، جو بعد کی زندگی میں آپ کی رحم دلی کی بنیاد بنا۔

عرب روایت کے مطابق آپ ﷺ نے بنو سعد قبیلے میں حضرت حلیمہ سعدیہ کے ہاں رضاعت پائی، جو اس دور کے مکی رواج کے عین مطابق تھا۔ صحرا کی پاکیزہ فضا، فصیح و بلیغ زبان اور سادہ زندگی نے آپ کی جسمانی نشوونما اور لسانی تربیت دونوں میں نمایاں کردار ادا کیا، اور یہی وجہ ہے کہ بعد میں آپ کی گفتگو کی فصاحت پورے عرب میں مثالی سمجھی جاتی تھی۔ اس رضاعی تعلق کے ساتھ آپ ﷺ نے زندگی بھر وفا اور حسنِ سلوک کا اعلیٰ معیار برقرار رکھا، اور کئی مواقع پر اپنے رضاعی رشتہ داروں کے ساتھ خصوصی شفقت کا اظہار فرمایا، جو آپ کی وفاداری کی گہری فطری صفت کو ظاہر کرتا ہے۔

دادا عبدالمطلب کی وفات کے بعد آپ کی کفالت کی ذمہ داری چچا ابوطالب نے سنبھالی، جنہوں نے محبت اور خلوص سے یہ فریضہ نبھایا۔ اگرچہ ابوطالب کے پاس معاشی فراخی نہیں تھی، مگر آپ ﷺ کو مکمل خاندانی تحفظ اور شفقت حاصل رہی، جس نے آپ کی نشوونما کو محفوظ بنایا۔ خاص طور پر قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ابوطالب نے، ایمان قبول نہ کرنے کے باوجود، بعد کی زندگی میں قریش کی سخت مخالفت کے مقابلے میں اپنے بھتیجے کو قبائلی حمایت اور تحفظ فراہم کیا۔ یہ حمایت نبوی دعوت کے ابتدائی اور نازک ترین دور میں نہایت اہم ثابت ہوئی اور مکی مخالفت کے دباؤ کو کسی حد تک کم کیا۔

جوانی کی طرف بڑھتے ہوئے آپ ﷺ نے بکریاں چرائیں، جس سے صبر، نگہداشت اور ذمہ داری جیسی صفات پروان چڑھیں، اور محنت کی عزت کو عملی طور پر ثابت کیا۔ بعد ازاں تجارتی سفروں میں شرکت سے آپ نے معاملہ فہمی، دیانت داری اور انسانی مزاج کی گہری سمجھ حاصل کی۔ اپنی سچائی، وعدے کی پاسداری اور پاکیزہ کردار کی بنا پر اہلِ مکہ آپ کو الصادق یعنی سچا اور الامین یعنی امانت دار جیسے القاب سے یاد کرتے تھے۔ یہ شہرت کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ برسوں کے مسلسل، بے داغ اور قابلِ اعتماد طرزِ عمل کی پیداوار تھی جس نے آپ کو پورے مکہ میں ممتاز کر دیا۔

حلف الفضول مکہ میں طے پانے والا ایک معاہدہ تھا جس کا مقصد مظلوم کو اس کا حق دلانا اور طاقتور قبائل کی زیادتیوں کو روکنا تھا، اور اس میں مکہ کے کئی معزز قبائل نے شرکت کی۔ رسول اللہ ﷺ نے اس معاہدے میں بھرپور شرکت کی اور بعد از نبوت بھی اسے قدر کی نگاہ سے یاد فرمایا، بلکہ فرمایا کہ اگر آج بھی مجھے اس جیسے معاہدے کی طرف بلایا جائے تو میں ضرور شریک ہوں گا۔ یہ واقعہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ اسلام خیر اور عدل کے لیے کی جانے والی ہر جائز اجتماعی کوشش کو تسلیم کرتا ہے، چاہے وہ نبوت سے پہلے ہی انجام دی گئی ہو۔

تجارتی معاملات میں آپ ﷺ کی دیانت اور امانت سے متاثر ہو کر حضرت خدیجہؓ نے پہلے آپ کو اپنا تجارتی سامان لے کر شام جانے کی دعوت دی، اور بعد میں خود نکاح کی پیش کش کی۔ یہ نکاح محبت، اعتماد، وفاداری اور باہمی احترام کا ایک مثالی رشتہ ثابت ہوا، اور دونوں کے درمیان قائم ہونے والا گہرا تعلق زندگی بھر برقرار رہا۔ آغازِ وحی کے نہایت نازک اور اضطراب انگیز مرحلے میں حضرت خدیجہؓ ہی سب سے پہلی ہستی تھیں جنہوں نے آپ ﷺ کو تسلی دی، حوصلہ بڑھایا اور آپ کی نبوت کی دلی تصدیق کی، جو اس مقدس رشتے کی گہرائی اور روحانی اہمیت کو واضح طور پر ظاہر کرتا ہے۔

نبوت سے کچھ عرصہ پہلے، جب قریش نے کعبہ کی تعمیرِ نو کی تو حجرِ اسود کو اس کی جگہ نصب کرنے پر مختلف قبائل کے درمیان شدید نزاع پیدا ہو گیا، اور معاملہ تلوار اٹھانے تک جا پہنچا۔ اس نازک موقع پر آپ ﷺ نے ایک حکیمانہ حل پیش کیا: حجرِ اسود کو ایک چادر میں رکھوا کر تمام قبائل کے سرداروں کو چادر کے کونے تھامنے کی دعوت دی، تاکہ سب مل کر اسے اٹھائیں، اور پھر آپ نے خود اسے اپنے ہاتھوں سے اس کی جگہ رکھ دیا۔ اس فیصلے نے آپ کی غیر معمولی حکمت، غیر جانب داری اور نزاعات حل کرنے کی صلاحیت کو پوری طرح آشکار کر دیا۔

آپ ﷺ کی ولادت مکہ میں عام الفیل کے قریب ہونا ایک معروف اور نسبتاً مضبوط تاریخی بات ہے، جسے اکثر سیرت نگاروں نے تسلیم کیا ہے۔ لیکن ولادت کے مہینے اور دن کی متعین تاریخ کے بارے میں اہلِ سیر کے اقوال میں کچھ اختلاف پایا جاتا ہے، اور بعض روایات مختلف تاریخیں بیان کرتی ہیں۔ اسی لیے کسی ایک تاریخ کو بلا اختلاف اور قطعی حقیقت کے طور پر پیش کرنا علمی احتیاط کے منافی ہے۔ ایک اچھے اور دیانت دار امتحانی یا علمی جواب میں معروف اور اکثریتی قول کا ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ اس اختلاف کی طرف بھی مختصر اشارہ کر دینا چاہیے، کیونکہ یہی طرزِ عمل علمی دیانت کا حقیقی تقاضا ہے۔

قبل از نبوت زندگی کا ہر مرحلہ درحقیقت آنے والی عظیم ذمہ داری کی خاموش تیاری تھا۔ یتیمی نے کمزور اور بے سہارا انسان کے دکھ سے عملی واقفیت بخشی، بکریاں چرانے نے صبر اور نگہداشت جیسی صفات پیدا کیں، تجارت نے معاملات کی باریکیوں اور انسانی مزاج کی گہری سمجھ عطا کی، حلف الفضول نے عدل کی اجتماعی اہمیت کو واضح کیا، اور حجرِ اسود کے فیصلے نے تنازعات حل کرنے کی حکمت کا عملی نمونہ پیش کیا۔ یہ تمام اوصاف، جو بظاہر الگ الگ واقعات کا نتیجہ معلوم ہوتے ہیں، دراصل ایک ہی تربیتی سلسلے کی کڑیاں تھے جو بعثت کے بعد دعوت، قیادت اور معاشرتی اصلاح کے میدان میں کہیں زیادہ نمایاں انداز میں ظاہر ہوئیں۔

نتیجہ: 0 درست بمقابلہ 0 جواب دیے گئے (کل 20 سوالات)
1رسول اللہ ﷺ کس قبائلی خاندان سے تعلق رکھتے تھے؟
الفبنی ہاشم
ببنی امیہ
جبنی مخزوم
دبنی عدی
رسول اللہ ﷺ قریش کے معزز خاندان بنی ہاشم سے تعلق رکھتے تھے، جسے مکہ میں خاص عزت حاصل تھی۔
2نبی کریم ﷺ کا نسب کس ہستی کے ذریعے حضرت اسماعیلؑ تک پہنچایا جاتا ہے؟
الفعدنان
بقحطان
جکنانہ کے بعد کسی نامعلوم شخص
دصرف قریش کے نام سے
آپ ﷺ کا نسب عدنان کے واسطے سے حضرت اسماعیلؑ تک پہنچایا جاتا ہے، جبکہ اس سے اوپر کی تفصیل میں احتیاط برتی جاتی ہے۔
3قرآن مجید کے مطابق اصل فضیلت کس چیز پر منحصر ہے؟
الفنسب اور خاندان پر
بتقویٰ اور عمل پر
جمالی حیثیت پر
دقبائلی طاقت پر
قرآن مجید نے واضح کیا کہ اصل فضیلت نسب کی بجائے تقویٰ اور نیک عمل کی بنیاد پر متعین ہوتی ہے۔
4نبی کریم ﷺ کی ولادت کس واقعے کے قریب ہوئی؟
الفعام الفیل
بغزوۂ بدر
جفتح مکہ
دصلح حدیبیہ
آپ ﷺ کی ولادت مکہ میں عام الفیل کے قریب ہوئی، یعنی اس سال جب ابرہہ نے کعبہ پر حملے کی کوشش کی تھی۔
5نبی کریم ﷺ کی پیدائش سے پہلے کس کا انتقال ہو چکا تھا؟
الفدادا عبدالمطلب کا
بوالد حضرت عبداللہ کا
جوالدہ آمنہ کا
دچچا ابوطالب کا
آپ ﷺ کی پیدائش سے پہلے ہی آپ کے والد حضرت عبداللہ کا انتقال ہو چکا تھا۔
6چھ برس کی عمر میں نبی کریم ﷺ کو کس کی وفات کا صدمہ برداشت کرنا پڑا؟
الفدادا عبدالمطلب کی
بوالدہ آمنہ کی
جچچا ابوطالب کی
دحضرت خدیجہؓ کی
چھ برس کی عمر میں آپ ﷺ کی والدہ آمنہ کا انتقال ہوا، جبکہ آٹھ برس کی عمر میں دادا عبدالمطلب کی وفات ہوئی۔
7عرب روایت کے مطابق نبی کریم ﷺ نے رضاعت کس کے ہاں پائی؟
الفحضرت حلیمہ سعدیہ کے ہاں
بحضرت خدیجہؓ کے ہاں
جحضرت آمنہ کے ہاں
دام ایمنؓ کے ہاں
آپ ﷺ نے بنو سعد قبیلے میں حضرت حلیمہ سعدیہ کے ہاں رضاعت پائی، جو اس دور کے مکی رواج کے مطابق تھا۔
8صحرائی ماحول نے نبی کریم ﷺ کی تربیت میں کیا کردار ادا کیا؟
الفصرف جسمانی طاقت میں اضافہ کیا
بجسمانی نشوونما اور لسانی فصاحت میں مدد دی
جکوئی خاص کردار ادا نہیں کیا
دصرف تجارتی مہارت پیدا کی
صحرا کی پاکیزہ فضا، فصیح زبان اور سادہ زندگی نے آپ ﷺ کی جسمانی نشوونما اور لسانی تربیت دونوں میں کردار ادا کیا۔
9دادا عبدالمطلب کی وفات کے بعد نبی کریم ﷺ کی کفالت کس نے کی؟
الفچچا ابوطالب نے
بچچا حمزہؓ نے
جحضرت خدیجہؓ نے
دحضرت حلیمہ سعدیہ نے
دادا عبدالمطلب کی وفات کے بعد چچا ابوطالب نے محبت اور ذمہ داری سے آپ ﷺ کی کفالت کی۔
10ابوطالب نے ایمان قبول نہ کرنے کے باوجود کیا کیا؟
الفنبی کریم ﷺ کی مخالفت کی
بقریش کے مقابلے میں قبائلی حمایت فراہم کی
جدعوت کو روکنے کی کوشش کی
دمکہ سے ہجرت کر گئے
ابوطالب نے ایمان قبول نہ کرنے کے باوجود قریش کی مخالفت کے مقابلے میں اپنے بھتیجے کو قبائلی حمایت اور تحفظ فراہم کیا۔
11نبی کریم ﷺ کو جوانی میں کن القاب سے یاد کیا جاتا تھا؟
الفالصادق اور الامین
بالفاروق اور الصدیق
جالنجیب اور الکریم
دالحلیم اور الرحیم
دیانت اور وعدے کی پابندی کے باعث اہلِ مکہ آپ ﷺ کو الصادق (سچا) اور الامین (امانت دار) کہا کرتے تھے۔
12حلف الفضول کا بنیادی مقصد کیا تھا؟
الفتجارتی منافع میں اضافہ
بمظلوم کو حق دلانا
جقبائلی جنگ کا آغاز کرنا
دبت پرستی کو فروغ دینا
حلف الفضول مکہ میں مظلوم کا حق دلانے اور طاقتور قبائل کی زیادتی روکنے کے لیے قائم کیا گیا معاہدہ تھا۔
13نبی کریم ﷺ نے حلف الفضول میں اپنی شرکت کو بعد از نبوت کیسے یاد کیا؟
الفاسے غیر ضروری قرار دیا
باسے قدر کی نگاہ سے یاد کیا
جاس کا کبھی ذکر نہیں کیا
داسے کالعدم قرار دیا
رسول اللہ ﷺ نے حلف الفضول میں اپنی شرکت کو بعد از نبوت بھی قدر کی نگاہ سے یاد کیا اور اس کی تحسین فرمائی۔
14حضرت خدیجہؓ نے نبی کریم ﷺ سے نکاح کی پیش کش کیوں کی؟
الفآپ کی تجارتی دیانت سے متاثر ہو کر
بسیاسی مصلحت کی بنا پر
جخاندانی دباؤ کی وجہ سے
دمالی فائدے کی خاطر
آپ ﷺ کی تجارتی دیانت اور امانت داری سے متاثر ہو کر حضرت خدیجہؓ نے نکاح کی پیش کش کی۔
15آغازِ وحی کے نازک مرحلے میں سب سے پہلے کس نے نبی کریم ﷺ کو تسلی دی؟
الفحضرت ابوبکرؓ نے
بحضرت خدیجہؓ نے
جحضرت علیؓ نے
دورقہ بن نوفل نے
آغازِ وحی کے نازک مرحلے میں حضرت خدیجہؓ نے سب سے پہلے آپ ﷺ کو تسلی دی اور نبوت کی تصدیق کی۔
16قریش کی تعمیرِ کعبہ کے دوران کس مسئلے پر نزاع پیدا ہوا؟
الفحجرِ اسود نصب کرنے پر
بتعمیر کے اخراجات پر
جکعبہ کے دروازے کی سمت پر
دتعمیر کے وقت پر
قریش کی تعمیرِ کعبہ کے دوران حجرِ اسود کو نصب کرنے کے حق پر مختلف قبائل کے درمیان شدید نزاع پیدا ہو گیا۔
17نبی کریم ﷺ نے حجرِ اسود کے تنازعے کا کیا حل پیش کیا؟
الفچادر میں رکھوا کر سرداروں سے مشترکہ طور پر اٹھوایا
بقرعہ اندازی کروائی
جتنازعے کو نظر انداز کر دیا
دجنگ کی اجازت دے دی
آپ ﷺ نے حجرِ اسود کو چادر میں رکھوا کر تمام قبائل کے سرداروں کو مشترکہ طور پر اٹھانے کا حکیمانہ حل پیش کیا۔
18حجرِ اسود کے فیصلے سے نبی کریم ﷺ کی کون سی صفت ظاہر ہوتی ہے؟
الفغیر جانب داری اور حکمت
بصرف جسمانی طاقت
جصرف مالی فیاضی
دصرف شاعرانہ صلاحیت
اس فیصلے نے آپ کی غیر معمولی حکمت، غیر جانب داری اور نزاعات حل کرنے کی صلاحیت کو ظاہر کیا۔
19ولادتِ نبوی ﷺ کی تاریخ کے بارے میں علمی احتیاط کیوں ضروری ہے؟
الفکیونکہ ولادت کا سال ہی نامعلوم ہے
بکیونکہ مہینے اور دن کی تاریخ میں اہلِ سیر کے اقوال مختلف ہیں
جکیونکہ ولادت کا مقام غیر واضح ہے
دکیونکہ اس واقعے کا کوئی ماخذ موجود نہیں
ولادت کا سال عام الفیل کے قریب ہونا معروف ہے، مگر مہینے اور دن کی متعین تاریخ کے بارے میں اہلِ سیر کے اقوال مختلف ہیں۔
20قبل از نبوت زندگی کے واقعات کو مجموعی طور پر کس نظر سے دیکھا جانا چاہیے؟
الفبے ربط اور غیر متعلق واقعات کے طور پر
بنبوی ذمہ داری کی تدریجی تیاری کے طور پر
جمحض تاریخی تفصیل کے طور پر
دصرف قبائلی رسم و رواج کے طور پر
قبل از نبوت زندگی کے واقعات دراصل ایک ہی تربیتی سلسلے کی کڑیاں تھے جو آئندہ نبوی ذمہ داری کی تیاری ثابت ہوئے۔