فتح مکہ، غزوۂ حنین، محاصرۂ طائف اور غزوۂ تبوک
فتح مکہ سے غزوۂ تبوک تک اہم واقعات، نبوی حکمتِ عملی اور جزیرۂ عرب کی سیاسی تبدیلی
آٹھ سے نو ہجری کا عرصہ سیرتِ نبوی ﷺ میں اس تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے جس میں ایک محصور اور آزمائشوں کا شکار جماعت پورے جزیرہ نما عرب کی مرکزی سیاسی و دعوتی قوت میں ڈھل گئی۔ فتحِ مکہ، غزوۂ حنین، محاصرۂ طائف اور غزوۂ تبوک، اگرچہ بظاہر الگ الگ فوجی مہمات معلوم ہوتے ہیں، درحقیقت ایک ہی تاریخی عمل کے مختلف مراحل ہیں جن میں رسول اللہ ﷺ کی حکمتِ عملی، رحمت اور دور اندیشی بیک وقت جھلکتی ہے۔ اس مضمون میں انہی مراحل کو ترتیب وار بیان کر کے ان کی مجموعی سیاسی معنویت واضح کی گئی ہے۔
فتح مکہ: قوت کے ساتھ عفو کا امتزاج حدیبیہ کے معاہدے کی خلاف ورزی، جب قریش کے حلیف بنو بکر نے مسلمانوں کے حلیف بنو خزاعہ پر رات کے وقت حملہ کیا، فتحِ مکہ کا فوری سبب بنی۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی تیاری کو خفیہ رکھا تاکہ غیر ضروری خونریزی سے بچا جا سکے، اور آٹھ ہجری میں ایک بھاری اسلامی لشکر مکہ کی طرف روانہ ہوا۔ داخلے کے وقت مختلف دستوں کو واضح ہدایت دی گئی کہ عمومی مزاحمت سے حتی الامکان گریز کیا جائے، چنانچہ چند محدود مقامات کے سوا شہر تقریباً بلا مزاحمت فتح ہو گیا۔ رسول اللہ ﷺ اس عظیم فتح کے موقع پر فاتحانہ غرور کے بجائے سر جھکائے، عاجزی کی حالت میں شہر میں داخل ہوئے۔ کعبہ سے تین سو ساٹھ بت ہٹائے گئے اور بیت اللہ کو دوبارہ توحید کے مرکز کی حیثیت بحال کی گئی۔ اس موقع پر رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے برسوں ظلم و ستم ڈھایا تھا، عام معافی کا اعلان فرمایا اور پوچھا کہ تم میرے ساتھ کیسے سلوک کی توقع رکھتے ہو، جس پر صحابہ نے کریمانہ جواب کی امید ظاہر کی اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔ البتہ چند مخصوص مجرمانہ افراد کے معاملات الگ رکھے گئے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ عمومی عفو کا مطلب مطلق بے قانونی نہیں تھا۔
حنین: عددی کثرت پر بھروسے کی اصلاح فتحِ مکہ کے فوراً بعد ہوازن اور ثقیف کے قبائل نے مسلمانوں کے خلاف بڑا لشکر جمع کیا، شاید اس خیال سے کہ عرب کی سب سے بڑی مزاحمتی طاقت اب انہی کے ہاتھ میں ہے۔ وادئ حنین میں دشمن نے پہلے سے تاک لگا رکھی تھی، اور ابتدائی اچانک حملے سے مسلمانوں کی صفوں میں کچھ دیر کے لیے ابتری پھیل گئی۔ تاہم رسول اللہ ﷺ اپنی جگہ ثابت قدم رہے، اور آپ ﷺ کی للکار پر بکھرے ہوئے لوگ دوبارہ منظم ہو کر واپس آئے، جس سے بالآخر فتح مسلمانوں کے حصے میں آئی۔ قرآن نے سورۃ التوبہ میں واضح فرمایا کہ حنین کے دن اپنی کثرتِ تعداد پر ناز نے ابتدا میں کوئی فائدہ نہ دیا، اور یہ کہ حقیقی فتح انسانی وسائل کی بہتات سے نہیں بلکہ نظم، ثبات اور اللہ کی مدد سے آتی ہے۔ یہ سبق فتحِ مکہ کے فوراً بعد آیا، گویا اسے جماعت کے اندر غرور اور خود اعتمادی کی زیادتی سے بچانے کے لیے ایک تربیتی موقع بنایا گیا۔
طائف اور تبوک: صبر اور دفاعی وقار حنین کے بعد شکست خوردہ قبائل کے بچے کھچے دستے طائف کے مضبوط قلعہ بند شہر میں جمع ہو گئے۔ مسلمانوں نے محاصرہ کیا مگر جب فوری فتح ممکن نظر نہ آئی تو غیر ضروری جانی نقصان سے بچتے ہوئے محاصرہ اٹھا لیا گیا۔ اس صبر کا پھل کچھ عرصے بعد ملا جب ثقیف نے خود ایک وفد بھیج کر رضاکارانہ طور پر اسلام قبول کر لیا، جس سے یہ ثابت ہوا کہ ہر مسئلے کا حل فوری فوجی کارروائی نہیں بلکہ بسا اوقات صبر اور وقت ہی بہترین حکمتِ عملی ہوتی ہے۔ نو ہجری میں شمالی سرحد سے رومی سلطنت کے ممکنہ حملے کی اطلاعات موصول ہوئیں تو رسول اللہ ﷺ نے سخت گرمی کے موسم اور فصل کی کٹائی کے وقت کے باوجود لشکر کو تبوک کی طرف روانہ کیا۔ اس طویل اور دشوار سفر نے مخلص اور منافق کے درمیان واضح خط کھینچ دیا، کیونکہ صرف مضبوط ایمان والے ہی اس مشقت کو برداشت کر سکے۔ اگرچہ کوئی بڑا معرکہ پیش نہ آیا، تاہم اس مہم نے اسلامی ریاست کی دفاعی رسائی اور سیاسی وقار کو نمایاں طور پر ظاہر کیا۔
حنین کے مالِ غنیمت کی تقسیم اور تالیفِ قلوب حنین کی فتح کے بعد ملنے والے مالِ غنیمت کی تقسیم میں رسول اللہ ﷺ نے ایک نہایت دور اندیش حکمتِ عملی اپنائی۔ ان لوگوں کو، جو حال ہی میں اسلام لائے تھے یا جن کے دلوں کو مضبوط کرنا ضروری تھا، خاص طور پر بڑا حصہ عطا کیا گیا، جسے تاریخ میں تالیفِ قلوب کہا جاتا ہے۔ اس پر بعض انصار کو دلی رنجش ہوئی کہ نئے آنے والوں کو زیادہ حصہ دیا گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں جمع کر کے واضح فرمایا کہ دنیا کا مال ابھی نئے لوگوں کے دلوں کو مانوس کرنے کے لیے دیا جا رہا ہے، جبکہ انصار کو ایمان اور رسول اللہ ﷺ کی رفاقت جیسی دائمی نعمت سے نوازا گیا ہے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ قیادت میں فراخدلی، حکمت اور سچائی کے ساتھ لوگوں کے دل جیتنے کا فن کس قدر اہم تھا۔
سیاسی نتائج اور جامع تجزیہ فتحِ مکہ نے قریش کی صدیوں پرانی مزاحمت کا خاتمہ کیا اور حرم کو دوبارہ توحیدی مرکز بنا دیا۔ حنین اور طائف نے حجاز کے بڑے قبائلی اتحادوں کو نئے اسلامی نظم میں شامل کیا، اور تبوک کے بعد پورے جزیرہ نما عرب سے وفود کی آمد میں غیر معمولی اضافہ ہوا، جسے سیرت کی کتابوں میں عامُ الوفود یعنی وفود کا سال کہا جاتا ہے۔ یوں آٹھ سے نو ہجری کا یہ مختصر عرصہ جزیرۂ عرب میں اسلام کے سیاسی و دعوتی غلبے کو مستحکم کرنے کا سبب بنا۔ ان چاروں واقعات کا مشترک پہلو یہ ہے کہ ہر ایک میں طاقت، صبر اور رحمت کا امتزاج مختلف تناسب سے کارفرما رہا؛ فتحِ مکہ میں طاقت کے ساتھ عفو نمایاں تھا، حنین میں ثبات اور توکل، طائف میں صبر اور دور اندیشی، اور تبوک میں استقامت اور سیاسی وقار۔
نتیجہ اس پورے سلسلے سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ نبوی کامیابی طاقت کے بے دریغ استعمال کا نتیجہ نہیں بلکہ عقیدے کی پختگی، صبر، حکمت اور بروقت عفو کا ثمر تھی۔ فتحِ مکہ سے تبوک تک کا یہ سفر دکھاتا ہے کہ ایک تحریک اپنی طاقت کے عروج پر بھی اپنے اصولوں سے پیچھے نہیں ہٹتی، اور یہی وہ نمونہ ہے جو آج بھی قیادت، تنازعات کے حل اور فاتح و مفتوح کے تعلقات کے لیے ایک لازوال رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
منتخب مصادر و مراجع
- القرآن الكريم، التوبۃ 9:25-27، 38-129؛ النصر 110
- صحیح البخاری، کتاب المغازی، فتح مکۃ وحنین وتبوک
- صحیح مسلم، کتاب الجہاد والسیر
- ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ
- صفی الرحمن مبارکپوری، الرحیق المختوم
- ابن القیم، زاد المعاد
فتح مکہ کا فوری سبب حدیبیہ کے معاہدے کی خلاف ورزی تھا، جب قریش کے حلیف بنو بکر نے مسلمانوں کے حلیف بنو خزاعہ پر رات کے وقت اچانک حملہ کر دیا۔ اس واقعے نے معاہدے کی بنیاد ہلا دی اور رسول اللہ ﷺ کے پاس مداخلت کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ آپ ﷺ نے تاہم اپنی تیاری کو خفیہ رکھا تاکہ خونریزی کم سے کم ہو اور قریش کو حیرت انگیز طور پر مزاحمت کا موقع نہ ملے۔ آٹھ ہجری میں ایک بھاری اسلامی لشکر مکہ کی طرف روانہ ہوا، اور مختلف دستوں کو واضح ہدایت دی گئی کہ عمومی مزاحمت سے حتی الامکان گریز کیا جائے۔ یہی احتیاط اس بات کی دلیل ہے کہ فتح کا مقصد انتقام نہیں بلکہ خونریزی کے بغیر شہر کی واپسی اور امن کی بحالی تھا۔
فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ فاتحانہ غرور کے بجائے عاجزی اور سر جھکائے ہوئے شہر میں داخل ہوئے، جو ایک عظیم الشان فتح کے موقع پر غیر معمولی انکساری کی مثال ہے۔ کعبہ سے تین سو ساٹھ بت ہٹائے گئے اور بیت اللہ کو اپنی اصل حیثیت یعنی توحید کے مرکز کی طرف لوٹایا گیا۔ اس موقع پر آپ ﷺ نے اہلِ مکہ کے لیے عام معافی کا اعلان فرمایا اور پوچھا کہ تم میرے ساتھ کیسے سلوک کی توقع رکھتے ہو، پھر خود ہی فرمایا کہ آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔ البتہ چند مخصوص مجرمانہ افراد کے معاملات الگ رکھے گئے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عام معافی مطلق بے قانونی کے مترادف نہیں تھی۔
فتحِ مکہ کے فوراً بعد ہوازن اور ثقیف کے قبائل نے، شاید یہ سمجھتے ہوئے کہ عرب کی سب سے بڑی مزاحمتی قوت اب انہی کے پاس ہے، مسلمانوں کے خلاف بڑا لشکر جمع کر لیا۔ وادئ حنین میں دشمن نے پہلے سے مورچہ بندی کر رکھی تھی اور تنگ گھاٹیوں میں چھپ کر اچانک حملہ کیا، جس سے مسلمانوں کی صفوں میں کچھ دیر کے لیے ابتری پھیل گئی اور کچھ لوگ منتشر ہو گئے۔ تاہم رسول اللہ ﷺ اپنی جگہ ثابت قدم رہے اور آپ ﷺ کی پکار پر منتشر افراد دوبارہ جمع ہو کر منظم ہوئے، جس کے نتیجے میں بالآخر فتح مسلمانوں کے حصے میں آئی۔ یہ واقعہ ثابت قدم قیادت کی اہمیت کا واضح ثبوت ہے۔
قرآن نے سورۃ التوبہ میں واضح فرمایا کہ حنین کے دن مسلمانوں کی کثرتِ تعداد نے ابتدا میں کوئی فائدہ نہ دیا، بلکہ ابتدائی اچانک حملے سے صفوں میں انتشار پھیل گیا۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ حقیقی فتح صرف افرادی قوت یا مادی وسائل کی بہتات سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ نظم، ثبات، مضبوط قیادت اور اللہ کی مدد پر توکل اس کی اصل بنیاد ہیں۔ یہ واقعہ فتحِ مکہ کی عظیم کامیابی کے فوراً بعد پیش آیا، گویا یہ ایک تربیتی موقع تھا جس نے مسلمانوں کو اس بات کا احساس دلایا کہ عددی برتری کبھی غرور کا باعث نہ بنے۔ یہی توازن ہر کامیاب جماعت کے لیے ایک لازمی سبق ہے۔
حنین کی شکست کے بعد باقی ماندہ دشمن دستے طائف کے مضبوط قلعہ بند شہر میں پناہ گزین ہو گئے۔ مسلمانوں نے محاصرہ کیا اور جدید آلات سے شہر کی فصیل کو توڑنے کی کوشش کی، مگر جب طویل محاصرے کے باوجود فوری فتح ممکن نظر نہ آئی تو رسول اللہ ﷺ نے غیر ضروری جانی نقصان سے بچتے ہوئے محاصرہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ بادی النظر میں پسپائی معلوم ہوتا تھا، مگر اس کا نتیجہ نہایت مثبت نکلا، کیونکہ کچھ عرصے بعد ثقیف نے خود اپنا وفد بھیج کر رضاکارانہ طور پر اسلام قبول کر لیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ صبر اور وقت بھی بسا اوقات فوری فوجی کارروائی سے بہتر نتائج دیتے ہیں۔
نو ہجری میں شمالی سرحد سے رومی سلطنت کے ممکنہ حملے کی اطلاعات موصول ہوئیں، جس پر رسول اللہ ﷺ نے سخت گرمی کے موسم اور فصل کی کٹائی کے نازک وقت کے باوجود لشکر کو تبوک کی طرف روانہ کیا۔ اس طویل اور دشوار سفر نے مخلص مومنوں اور منافقین کے درمیان واضح فرق ظاہر کر دیا، کیونکہ صرف مضبوط ایمان رکھنے والے ہی اس مشقت کو خوش دلی سے برداشت کر سکے، جبکہ کئی منافقین نے مختلف بہانوں سے پیچھے رہنے کو ترجیح دی۔ اگرچہ کوئی بڑا معرکہ پیش نہ آیا، تاہم اس مہم نے اسلامی ریاست کی دفاعی رسائی، عسکری استعداد اور سیاسی وقار کو پورے جزیرہ نما عرب کے سامنے نمایاں کر دیا۔
فتحِ مکہ نے قریش کی صدیوں پرانی مزاحمت کا خاتمہ کیا اور مکہ کے حرم کو دوبارہ توحیدی مرکز کی حیثیت بحال کر دی۔ حنین اور طائف کی مہمات نے حجاز کے بڑے قبائلی اتحادوں کو نئے اسلامی سیاسی نظم میں شامل کیا، جبکہ تبوک کی مہم نے شمالی سرحد پر اسلامی ریاست کی طاقت اور وقار کو ثابت کر دیا۔ ان واقعات کے نتیجے میں پورے جزیرہ نما عرب سے قبائلی وفود کی آمد میں غیر معمولی اضافہ ہوا، جسے سیرت کی اصطلاح میں عام الوفود یعنی وفود کا سال کہا جاتا ہے۔ یوں یہ مختصر عرصہ جزیرۂ عرب میں اسلام کے سیاسی اور دعوتی غلبے کو حتمی طور پر مستحکم کرنے کا سبب بنا۔
فتح مکہ اس بات کی روشن مثال ہے کہ فیصلہ کن طاقت رکھنے کے باوجود اسے انتقام کا ذریعہ نہیں بنایا گیا۔ مسلمان مضبوط لشکر کے ساتھ داخل ہوئے، مگر دستوں کو واضح ہدایت تھی کہ عمومی مزاحمت سے گریز کریں، جس کے باعث چند محدود مقامات کے سوا شہر بغیر بڑے تصادم کے فتح ہوا۔ کعبہ کو بتوں سے پاک کرنے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے برسوں کے دشمنوں کے لیے وسیع پیمانے پر معافی کا اعلان کیا، اور صرف چند مخصوص سنگین جرائم کے مرتکبین کو استثنا دیا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ طاقت کا اصل مقصد ظلم کا خاتمہ، امن کا قیام اور توحیدی نظم کی بحالی تھا، انتقام نہیں۔
یہ تینوں مہمات ایک دوسرے سے مختلف اسباق دیتی ہیں مگر مل کر ایک مکمل تربیتی سلسلہ بناتی ہیں۔ حنین نے عددی کثرت پر غرور کی اصلاح کی اور یہ سکھایا کہ فتح کا اصل منبع نظم اور توکل ہے۔ طائف نے صبر اور دور اندیشی کا سبق دیا، کیونکہ فوری فتح کی خواہش کو بروقت ترک کر کے دیرپا نتیجہ حاصل کیا گیا۔ تبوک نے استقامت اور ایثار کا امتحان لیا، کیونکہ سخت موسم اور مشکل وقت میں صرف حقیقی مومن ہی ساتھ چل سکے۔ یوں یہ تینوں واقعات مل کر ایک ہی جماعت کو غرور، جلد بازی اور کمزور عزم جیسی کمزوریوں سے پاک کر کے ایک مستحکم اور بالغ سیاسی و دینی قوت میں ڈھالتے ہیں۔
یہ پورا سفر بتاتا ہے کہ حقیقی کامیابی محض طاقت کے حصول میں نہیں بلکہ اس طاقت کے دانش مندانہ اور اخلاقی استعمال میں پوشیدہ ہے۔ فتح مکہ نے سکھایا کہ عروج کے لمحے میں عاجزی اور عفو کا مظاہرہ کرنا چاہیے، حنین نے سکھایا کہ کامیابی کے بعد غرور سے بچنا لازم ہے، طائف نے سکھایا کہ صبر بسا اوقات فوری کارروائی سے بہتر نتیجہ دیتا ہے، اور تبوک نے سکھایا کہ مشکل وقت میں ثابت قدمی ہی حقیقی وقار کی علامت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی کسی بھی قیادت، تنظیم یا ریاست کے لیے یہ نمونہ نہایت قیمتی رہنمائی فراہم کرتا ہے کہ طاقت، صبر اور رحمت کا متوازن امتزاج ہی دیرپا استحکام کی کنجی ہے۔