ہومموضوعات ‹ موضوع 4
موضوع 4 از 15

بعثتِ نبوی، آغازِ وحی، مقاصدِ رسالت اور عقیدۂ ختمِ نبوت

بعثتِ نبوی اور آغازِ وحی کا واقعہ کیسے پیش آیا، اور رسالت کے بنیادی مقاصد اور عقیدۂ ختمِ نبوت کیا ہیں؟

چالیس برس کی عمر میں نبی کریم ﷺ کی زندگی نے وہ رخ اختیار کیا جس نے انسانی تاریخ کا دھارا ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ یہ وہ مرحلہ تھا جب اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری پیغام کو انسانیت تک پہنچانے کے لیے آپ کو منتخب فرمایا۔ قرآن مجید اس منصب کی حتمی نوعیت کو یوں بیان کرتا ہے:

﴿ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَسُولَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ

، یعنی محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں بلکہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں (الأحزاب 33:40)۔ یہ آیت بعثت، رسالت اور ختمِ نبوت کے تینوں پہلوؤں کو ایک ہی سانس میں سمیٹ دیتی ہے۔

بعثت سے پہلے کا دور نبی کریم ﷺ کے لیے شدید روحانی اضطراب کا زمانہ تھا، کیونکہ مکہ میں پھیلی ہوئی بت پرستی اور اخلاقی فساد آپ کو مسلسل بے چین رکھتے تھے۔ اسی اضطراب کے نتیجے میں آپ نے مکہ کے قریب واقع غارِ حرا میں عبادت، غور و فکر اور تنہائی کا معمول اختیار کر لیا۔ یہ خلوت کسی معاشرتی فرار کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ درحقیقت اس عظیم ذمہ داری کے لیے ایک خاموش، مگر گہری روحانی تیاری تھی جو آنے والے وقت میں آپ کے کندھوں پر ڈالی جانے والی تھی۔ کئی برسوں پر محیط اسی تنہائی نے آپ کے دل کو دنیاوی مشاغل سے کاٹ کر یکسوئی کی اس منزل تک پہنچا دیا جہاں الہامی پیغام کے استقبال کی صلاحیت پیدا ہو سکے۔

چالیس برس کی عمر میں، رمضان کے مبارک مہینے میں، حضرت جبریلؑ غارِ حرا میں حاضر ہوئے اور وحیِ الٰہی کا سلسلہ شروع ہوا۔ سب سے پہلے الفاظ اقرأ باسم ربک تھے، یعنی پڑھو اپنے رب کے نام سے، جس نے علم کی جستجو کو ابتدا ہی سے رب کی معرفت کے ساتھ نہایت گہرے انداز میں جوڑ دیا۔ اس عظیم اور غیر معمولی تجربے کی ہیبت اتنی شدید تھی کہ آپ کانپتے ہوئے گھر لوٹے، اور حضرت خدیجہؓ نے فوری طور پر آپ کو تسلی دی، آپ کو چادر اوڑھائی اور حوصلہ بندھایا۔ حضرت خدیجہؓ نے آپ کی صلہ رحمی، سچائی اور کمزوروں کی مدد جیسی صفات کو اس بات کی دلیل سمجھا کہ اللہ تعالیٰ کبھی آپ کو رسوا نہیں کرے گا۔

اسی حوصلہ افزائی کے بعد حضرت خدیجہؓ آپ کو اپنے چچازاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں، جو پہلے سے آسمانی کتابوں کا مطالعہ کر چکے تھے اور عبرانی زبان سے بھی واقفیت رکھتے تھے۔ ورقہ نے واقعے کی تفصیل سن کر فرمایا کہ یہ وہی ناموسِ اکبر ہے جو حضرت موسیٰؑ کے پاس آیا تھا، اور پیش گوئی کی کہ آپ کی قوم آپ کو مکہ سے نکالے گی۔ ورقہ کا یہ تجربہ اور ان کی تصدیق، اگرچہ فردِ واحد کی رائے تھی، تاہم اس نے آپ ﷺ کے لیے ایک اضافی تسلی کا سامان فراہم کیا۔

پہلی وحی کے بعد ایک وقفہ آیا جسے وقفۂ وحی کہا جاتا ہے، اور اس کی مدت کے بارے میں روایات میں کچھ اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس وقفے کے بعد سورہ مدثر کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں، جن میں یا ایہا المدثر کے حکم کے ذریعے انذار، رب کی بڑائی بیان کرنے اور ظاہری و باطنی پاکیزگی اختیار کرنے کا راستہ متعین کر دیا گیا۔ اس مرحلے پر وحی نے آپ ﷺ کی ذاتی عبادت کو ایک اجتماعی دعوت اور معاشرتی اصلاح کی وسیع ذمہ داری میں تبدیل کر دیا، اور یوں انفرادی روحانی تجربہ ایک عالمگیر تحریک کی بنیاد بن گیا۔

اس رسالت کے مقاصد کو سمجھنا اس پورے موضوع کی جان ہے۔ رسالت کا سب سے پہلا اور بنیادی مقصد انسان کو شرک کی ہر شکل سے نکال کر خالص توحید کی طرف لانا تھا، کیونکہ توحید ہی وہ بنیاد ہے جس پر اسلامی عقیدے کی پوری عمارت کھڑی ہے۔ قرآن مجید نے تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفس اور کتاب و حکمت کی تعلیم کو نبوی مشن کے بنیادی اجزا قرار دیا، جبکہ عدل، رحمت، اعلیٰ اخلاق اور آخرت کی جواب دہی کا شعور اسی مشن کے عملی نتائج کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ یوں رسالت محض ایک عقیدے کا اعلان نہیں بلکہ ایک مکمل اخلاقی و معاشرتی نظام کی بنیاد تھی۔

اس رسالت کی ایک نمایاں خصوصیت اس کی عالمگیریت ہے۔ نبی کریم ﷺ کی رسالت کسی مخصوص نسل، قبیلے یا جغرافیائی خطے تک محدود نہیں تھی، بلکہ قرآن مجید نے آپ کو تمام انسانوں کے لیے بشیر و نذیر اور تمام جہانوں کے لیے رحمت قرار دیا۔ اس عالمگیریت نے دعوتِ اسلام کو زبان، رنگ اور قومیت کی حدود سے بلند کر کے ایک ایسا اصولی اور آفاقی پیغام بنا دیا جسے کسی بھی زمانے اور کسی بھی خطے کا انسان اپنی زندگی میں نافذ کر سکتا ہے۔

اسی تناظر میں عقیدۂ ختمِ نبوت کی حیثیت سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ قرآن مجید نے واضح طور پر نبی کریم ﷺ کو خاتم النبیین قرار دیا، اور صحیح احادیث میں بھی آپ ﷺ نے متعدد مواقع پر صراحت سے فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ ختمِ نبوت کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ دین کی بنیادی اور مکمل ہدایت اسی رسالت پر تمام ہو چکی، اور اب امتِ مسلمہ اسی محفوظ پیغام کی حفاظت، تشریح اور دعوت کی ذمہ دار ہے۔ اس عقیدے کا عملی تقاضا یہ ہے کہ قرآن و سنت کو آخری اور حتمی نبوی ہدایت مانا جائے، کسی نئے مدعیِ نبوت کو ہرگز تسلیم نہ کیا جائے، اور علم و اخلاق کے ذریعے اسی پیغام کو نسل در نسل آگے پہنچایا جائے۔

اسلام میں وحی اور عقل کے درمیان کوئی بنیادی تصادم نہیں پایا جاتا۔ عقل وحی کے مفہوم کو سمجھتی ہے، اس کے دلائل پر غور کرتی ہے اور زندگی کے مختلف شعبوں میں اس کے اطلاق کی صورتیں تلاش کرتی ہے، جبکہ حلال و حرام اور غیب کے بنیادی حقائق انسانی خواہش کے بجائے وحی کی روشنی میں متعین ہوتے ہیں۔ یہ توازن اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ دین جامد تقلید یا اندھی روایت پرستی کا نام نہیں بلکہ ایک زندہ، فہم پر مبنی اور عقلی طور پر قابلِ توجیہ نظام ہے۔

مجموعی طور پر بعثتِ نبوی، آغازِ وحی، مقاصدِ رسالت اور عقیدۂ ختمِ نبوت مل کر اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی نبوت کوئی وقتی یا مقامی واقعہ نہیں تھی بلکہ انسانیت کے لیے ایک حتمی اور دائمی الہامی رہنمائی کا نقطۂ عروج تھی۔ غارِ حرا کی خلوت سے لے کر عقیدۂ ختمِ نبوت تک کا سفر دراصل اس بات کا بیان ہے کہ کس طرح ایک انفرادی روحانی تجربہ بتدریج ایک عالمگیر، مکمل اور آخری دینی نظام میں ڈھل گیا، جس کی حفاظت اور ابلاغ کی ذمہ داری اب ہمیشہ کے لیے امتِ مسلمہ کے سپرد کر دی گئی ہے۔

منتخب مصادر و مراجع

  1. القرآن الکریم، سورۃ العلق 96:1-5؛ سورۃ المدثر 74:1-7؛ سورۃ الأحزاب 33:40
  2. صحیح البخاری، کتاب بدء الوحی
  3. صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب قول النبی لا نبی بعدی
  4. ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ابتداء الوحی
  5. ابن کثیر، السیرۃ النبویۃ

بعثت سے پہلے رسول اللہ ﷺ کو مکہ میں پھیلی ہوئی بت پرستی اور اخلاقی فساد شدید بے چین کرتا تھا، اور آپ کا دل معاشرے کی اس حالت پر مطمئن نہیں تھا۔ اسی اضطراب کے نتیجے میں آپ نے مکہ کے قریب واقع غارِ حرا میں عبادت، غور و فکر اور تنہائی کا معمول اختیار کر لیا، جہاں آپ کئی کئی دن قیام فرماتے تھے۔ یہ خلوت کسی معاشرتی فرار یا کمزوری کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ درحقیقت آنے والی عظیم ذمہ داری کے لیے ایک خاموش اور گہری روحانی تیاری تھی۔ اسی تنہائی نے آپ کے دل کو دنیاوی مشاغل سے کاٹ کر اس یکسوئی تک پہنچایا جہاں الہامی پیغام کے استقبال کی صلاحیت پیدا ہو سکے۔

چالیس برس کی عمر میں، رمضان کے مبارک مہینے میں، حضرت جبریلؑ غارِ حرا میں نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور وحیِ الٰہی کا آغاز ہوا۔ سب سے پہلے الفاظ اقرأ باسم ربک تھے، یعنی پڑھو اپنے رب کے نام سے، جس نے علم کی جستجو کو ابتدا ہی سے معرفتِ الٰہی کے ساتھ گہرے انداز میں جوڑ دیا۔ اس غیر معمولی اور عظیم تجربے کی ہیبت اتنی شدید تھی کہ آپ کانپتے ہوئے گھر لوٹے، اور فوری طور پر حضرت خدیجہؓ نے آپ کو چادر اوڑھا کر تسلی دی اور حوصلہ بندھایا۔ یہ واقعہ نبوت کے آغاز کا نقطۂ عروج تھا جس نے آپ کی پوری زندگی کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔

حضرت خدیجہؓ نے آپ ﷺ کی صلہ رحمی، سچائی اور کمزوروں کی مدد جیسی صفات کو اس بات کی مضبوط دلیل سمجھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا، اور یہی الفاظ انہوں نے آپ کو تسلی دیتے ہوئے کہے۔ اسی حوصلہ افزائی کے بعد وہ آپ کو اپنے چچازاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں، جو پہلے سے آسمانی کتابوں کا علم رکھتے تھے اور عبرانی زبان سے بھی واقف تھے۔ ورقہ نے واقعے کی تفصیل سن کر بتایا کہ یہ وہی عظیم فرشتہ ہے جو حضرت موسیٰؑ کے پاس آیا تھا، اور پیش گوئی کی کہ آپ کی قوم آپ کو مکہ سے نکال دے گی، جو بعد میں حقیقت ثابت ہوئی۔

پہلی وحی کے بعد ایک وقفہ آیا جسے وقفۂ وحی کہا جاتا ہے، اور اس کی مدت کے بارے میں مختلف روایات میں کچھ اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس وقفے کے بعد سورۂ مدثر کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں، جن میں یا ایہا المدثر کے حکم کے ذریعے انذار، اللہ کی بڑائی بیان کرنے اور ظاہری و باطنی پاکیزگی اختیار کرنے کا واضح راستہ متعین کر دیا گیا۔ اس مرحلے پر وحی نے نبی کریم ﷺ کی ذاتی عبادت کو ایک وسیع اجتماعی دعوت اور معاشرتی اصلاح کی ذمہ داری میں تبدیل کر دیا، اور یوں ایک انفرادی روحانی تجربہ ایک منظم اور عالمگیر تحریک کی مضبوط بنیاد بن گیا۔

رسالت کا سب سے پہلا اور بنیادی مقصد انسان کو شرک کی ہر شکل سے نکال کر خالص توحید کی طرف لانا تھا، کیونکہ توحید ہی وہ بنیاد ہے جس پر پورا اسلامی عقیدہ استوار ہے۔ قرآن مجید نے تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفس اور کتاب و حکمت کی تعلیم کو اس نبوی مشن کے بنیادی اجزا قرار دیا، جن کے بغیر کوئی حقیقی اصلاح ممکن نہیں تھی۔ اس کے ساتھ عدل، رحمت، اعلیٰ اخلاق اور آخرت کی جواب دہی کا شعور بھی اسی مشن کے عملی نتائج کے طور پر سامنے آئے۔ اس طرح رسالت محض ایک نظری عقیدے کا اعلان نہیں تھی بلکہ ایک مکمل اور جامع اخلاقی و معاشرتی نظام کی مضبوط بنیاد تھی۔

نبی کریم ﷺ کی رسالت کسی مخصوص نسل، قبیلے یا جغرافیائی خطے تک محدود نہیں تھی، بلکہ قرآن مجید نے صراحت سے آپ کو تمام انسانوں کے لیے بشیر و نذیر اور تمام جہانوں کے لیے رحمت قرار دیا۔ اس عالمگیریت کا مطلب یہ ہے کہ دعوتِ اسلام زبان، رنگ، نسل اور قومیت کی تمام حدود سے بلند ہو کر ایک اصولی اور آفاقی پیغام بن گئی، جسے کسی بھی زمانے اور کسی بھی خطے کا انسان اپنی زندگی میں یکساں طور پر نافذ کر سکتا ہے۔ یہی وصف اسلام کو محض عرب کی مقامی اصلاحی تحریک ہونے سے بلند کر کے ایک عالمگیر اور دائمی دین کا درجہ عطا کرتا ہے، جو ہر دور کے انسان کی رہنمائی کر سکتا ہے۔

قرآن مجید نے واضح طور پر نبی کریم ﷺ کو خاتم النبیین قرار دیا، اور صحیح احادیث میں بھی آپ ﷺ نے متعدد مواقع پر صراحت سے فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ ختمِ نبوت کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ دین کی بنیادی اور مکمل ہدایت اسی رسالت پر تمام ہو چکی، اور اب امتِ مسلمہ اسی محفوظ پیغام کی حفاظت اور دعوت کی ذمہ دار ہے۔ اس عقیدے کا عملی تقاضا یہ ہے کہ قرآن و سنت کو آخری اور حتمی نبوی ہدایت مانا جائے، کسی نئے مدعیِ نبوت کو ہرگز تسلیم نہ کیا جائے، اور علم، دعوت اور اخلاق کے ذریعے اسی محفوظ پیغام کو نسل در نسل آگے پہنچایا جائے۔

اسلام وحی اور عقل کو باہم دشمن یا متصادم نہیں سمجھتا، بلکہ دونوں کو ایک دوسرے کا معاون قرار دیتا ہے۔ عقل وحی کے مفہوم کو سمجھنے، اس کے دلائل پر غور کرنے اور زندگی کے مختلف شعبوں میں اس کے اطلاق کی صورتیں تلاش کرنے کا اہم کام انجام دیتی ہے، اور اسی لیے قرآن مجید بار بار غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ تاہم حلال و حرام اور غیب کے بنیادی حقائق انسانی خواہش یا وقتی رجحانات کے بجائے وحی کی روشنی میں متعین ہوتے ہیں، تاکہ دین کی بنیاد مستحکم اور غیر متغیر رہے۔ یہ متوازن تعلق دین کو جامد تقلید کے بجائے ایک زندہ اور عقلی طور پر قابلِ توجیہ نظام بناتا ہے۔

صحیح بخاری کی مستند روایت کے مطابق نبی کریم ﷺ غارِ حرا میں طویل عرصہ خلوت اختیار کرتے رہے، یہاں تک کہ حضرت جبریلؑ نے آ کر سورۂ علق کی ابتدائی آیات سنائیں اور وحی کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس کے بعد آپ ﷺ کانپتے ہوئے گھر تشریف لائے، جہاں حضرت خدیجہؓ نے آپ کو تسلی دی اور بعد میں آپ کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں، جنہوں نے واقعے کی نوعیت اور اس کے مضمرات کی وضاحت کی۔ کچھ عرصے بعد سورۂ مدثر کے احکام نازل ہوئے، جنہوں نے علانیہ انذار اور معاشرتی اصلاح کی ذمہ داری کو واضح طور پر نمایاں کیا۔ یہ پوری ترتیب سیرت کے مستند ترین ابواب میں شمار ہوتی ہے۔

قرآن نے رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین قرار دیا اور صحیح احادیث میں آپ ﷺ نے خود اپنے بعد نبی نہ ہونے کی صراحت فرمائی، جس سے یہ عقیدہ نہایت مستحکم بنیادوں پر قائم ہے۔ اس کا سب سے پہلا عملی تقاضا یہ ہے کہ قرآن و سنت کو آخری اور مکمل نبوی ہدایت تسلیم کیا جائے، اور کسی نئے مدعیِ نبوت یا اس کے پیروکاروں کو دین کی حدود سے خارج سمجھا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ امتِ مسلمہ پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ علم، تحقیق، دعوت اور بلند اخلاق کے ذریعے اسی محفوظ اور آخری پیغام کو ہر نسل تک، بغیر کسی تحریف کے، امانت داری سے پہنچاتی رہے۔

نتیجہ: 0 درست بمقابلہ 0 جواب دیے گئے (کل 20 سوالات)
1نبی کریم ﷺ کو کس عمر میں نبوت سے سرفراز کیا گیا؟
الفچالیس برس
بتیس برس
جپچاس برس
دپینتیس برس
نبی کریم ﷺ کو چالیس برس کی عمر میں غارِ حرا میں پہلی وحی کے ذریعے نبوت سے سرفراز کیا گیا۔
2بعثت سے پہلے نبی کریم ﷺ کو کس چیز نے بے چین رکھا؟
الفتجارتی خسارہ
بمکہ کی بت پرستی اور اخلاقی فساد
جقبائلی جنگیں صرف
دموسمی مشکلات
بعثت سے پہلے مکہ کی بت پرستی اور اخلاقی فساد آپ ﷺ کو شدید بے چین رکھتا تھا، جس نے خلوت کی طرف مائل کیا۔
3غارِ حرا کی خلوت کا اصل مقصد کیا تھا؟
الفمعاشرے سے فرار
بآنے والی ذمہ داری کے لیے روحانی تیاری
جتجارتی منصوبہ بندی
دمحض آرام و سکون
غارِ حرا کی خلوت معاشرے سے فرار نہیں بلکہ آنے والی عظیم نبوی ذمہ داری کے لیے ایک گہری روحانی تیاری تھی۔
4پہلی وحی کے موقع پر حضرت جبریلؑ کس مہینے میں حاضر ہوئے؟
الفرمضان
بشعبان
جمحرم
دذوالحجہ
چالیس برس کی عمر میں رمضان کے مبارک مہینے میں حضرت جبریلؑ غارِ حرا میں حاضر ہوئے اور وحی کا آغاز ہوا۔
5پہلی وحی کے ابتدائی الفاظ کیا تھے؟
الفاقرأ باسم ربک
بیا ایہا المدثر
جقل ھو اللہ احد
دالحمد للہ رب العالمین
پہلی وحی کے ابتدائی الفاظ اقرأ باسم ربک تھے، جنہوں نے علم کو ابتدا ہی سے رب کی معرفت سے جوڑ دیا۔
6پہلی وحی کے تجربے کے بعد گھر لوٹنے پر نبی کریم ﷺ کو سب سے پہلے کس نے تسلی دی؟
الفحضرت ابوبکرؓ نے
بحضرت خدیجہؓ نے
جورقہ بن نوفل نے
دحضرت علیؓ نے
وحی کے تجربے کی ہیبت سے گھر لوٹنے پر حضرت خدیجہؓ نے سب سے پہلے آپ ﷺ کو چادر اوڑھا کر تسلی دی۔
7ورقہ بن نوفل کی کیا خصوصیت تھی جس کی بنا پر حضرت خدیجہؓ آپ کے پاس گئیں؟
الفوہ ایک تاجر تھے
بوہ سابقہ آسمانی کتابوں سے واقف تھے
جوہ ایک شاعر تھے
دوہ مکہ کے سردار تھے
ورقہ بن نوفل سابقہ آسمانی کتب سے واقفیت رکھتے تھے، اسی لیے حضرت خدیجہؓ آپ ﷺ کو ان کے پاس لے گئیں۔
8ورقہ بن نوفل نے وحی کے فرشتے کے بارے میں کیا کہا؟
الفیہ وہی ناموس ہے جو حضرت موسیٰؑ کے پاس آیا تھا
بیہ ایک عام خواب ہے
جیہ شیطانی وسوسہ ہے
داس کا کوئی مطلب نہیں
ورقہ نے کہا کہ یہ وہی عظیم ناموس (فرشتہ) ہے جو حضرت موسیٰؑ کے پاس آیا تھا، اور یہی نبوت کی علامت ہے۔
9پہلی وحی کے بعد کیا واقعہ پیش آیا جسے وقفۂ وحی کہا جاتا ہے؟
الفوحی کا سلسلہ مستقل طور پر بند ہو گیا
بایک عرصے کے لیے وحی میں وقفہ آیا
جوحی روزانہ نازل ہونے لگی
دوحی کا آغاز اسی وقت سے ہوا
پہلی وحی کے بعد ایک وقفہ آیا جسے وقفۂ وحی کہا جاتا ہے، اور اس کی مدت کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔
10وقفۂ وحی کے بعد نازل ہونے والی سورت نے کیا حکم دیا؟
الفانذار اور پاکیزگی اختیار کرنے کا حکم
بصرف روزے کا حکم
جصرف زکوٰۃ کا حکم
دصرف حج کا حکم
سورۂ مدثر کی ابتدائی آیات نے یا ایہا المدثر کے حکم کے ذریعے انذار اور ظاہری و باطنی پاکیزگی کا راستہ متعین کیا۔
11وحی نے نبی کریم ﷺ کی ذاتی عبادت کو کس چیز میں تبدیل کر دیا؟
الفذاتی عبادت میں محدود رکھا
باجتماعی دعوت اور اصلاح کی ذمہ داری میں
جتجارتی سرگرمی میں
دصرف خاندانی معاملات میں
وحی نے آپ ﷺ کی ذاتی عبادت کو ایک اجتماعی دعوت اور معاشرتی اصلاح کی وسیع ذمہ داری میں تبدیل کر دیا۔
12رسالت کا سب سے پہلا اور بنیادی مقصد کیا تھا؟
الفانسان کو شرک سے نکال کر توحید کی طرف لانا
بصرف عرب کو سیاسی طور پر متحد کرنا
جصرف تجارت کو فروغ دینا
دصرف قبائلی جنگیں ختم کرنا
رسالت کا پہلا اور بنیادی مقصد انسان کو ہر قسم کے شرک سے نکال کر خالص توحید کی طرف لانا تھا۔
13قرآن مجید نے نبوی مشن کے بنیادی اجزا کن چیزوں کو قرار دیا؟
الفتلاوتِ آیات، تزکیۂ نفس اور تعلیمِ کتاب و حکمت
بصرف عسکری تربیت
جصرف تجارتی معاہدے
دصرف قبائلی اتحاد
قرآن نے تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفس اور کتاب و حکمت کی تعلیم کو نبوی مشن کے بنیادی اجزا قرار دیا۔
14نبی کریم ﷺ کی رسالت کس حد تک محدود تھی؟
الفصرف قریش تک
بصرف مکہ تک
جکسی مخصوص نسل یا خطے تک محدود نہیں تھی
دصرف عرب تک
قرآن نے آپ ﷺ کو تمام انسانوں کے لیے بشیر و نذیر قرار دیا، اس لیے آپ کی رسالت کسی مخصوص نسل یا خطے تک محدود نہیں۔
15قرآن مجید نے نبی کریم ﷺ کو کن الفاظ سے یاد کیا؟
الفتمام جہانوں کے لیے رحمت
بصرف عرب کے لیے رہنما
جصرف قریش کے لیے سردار
دصرف مکہ کے لیے مصلح
قرآن نے آپ ﷺ کو تمام انسانوں کے لیے بشیر و نذیر اور تمام جہانوں کے لیے رحمت قرار دیا۔
16قرآن مجید کے مطابق نبی کریم ﷺ کا لقب کیا ہے جو ختمِ نبوت کی دلیل ہے؟
الفخاتم النبیین
بسیدالانبیاء صرف روایتی طور پر
جامام الانبیاء
دصرف رسولِ عرب
سورۂ احزاب میں قرآن نے نبی کریم ﷺ کو خاتم النبیین قرار دیا، جو عقیدۂ ختمِ نبوت کی بنیادی قرآنی دلیل ہے۔
17عقیدۂ ختمِ نبوت کا حقیقی مفہوم کیا ہے؟
الفدین کی بنیادی ہدایت مکمل ہو چکی اور مزید کسی نبی کی ضرورت نہیں
بنبوت کا سلسلہ کسی اور شکل میں جاری ہے
جہر دور میں نیا نبی آ سکتا ہے
دنبوت کا تصور غیر واضح ہے
ختمِ نبوت کا مطلب یہ ہے کہ دین کی بنیادی ہدایت نبی کریم ﷺ کی رسالت پر مکمل ہو چکی، اور امت اسی کی حفاظت کی ذمہ دار ہے۔
18اسلام وحی اور عقل کے بارے میں کیا موقف رکھتا ہے؟
الفدونوں کو باہم دشمن سمجھتا ہے
بدونوں کو ایک دوسرے کا معاون سمجھتا ہے
جعقل کو مکمل طور پر رد کرتا ہے
دوحی کو غیر ضروری قرار دیتا ہے
اسلام وحی اور عقل کو باہم دشمن نہیں بلکہ ایک دوسرے کا معاون سمجھتا ہے، اور عقل کو وحی کے فہم کے لیے استعمال کرتا ہے۔
19حلال و حرام اور غیب کے بنیادی حقائق کس ذریعے سے متعین ہوتے ہیں؟
الفانسانی خواہش سے
بوحی سے
جمحض رواج سے
دصرف عقل سے
حلال و حرام اور غیب کے بنیادی حقائق انسانی خواہش کے بجائے وحی سے متعین ہوتے ہیں، تاکہ دین کی بنیاد مستحکم رہے۔
20عقیدۂ ختمِ نبوت کا سب سے پہلا عملی تقاضا کیا ہے؟
الفقرآن و سنت کو آخری نبوی ہدایت مان کر کسی نئے مدعیِ نبوت کو رد کرنا
بنئے نبیوں کی تلاش جاری رکھنا
جہر دور میں نئی وحی کا انتظار کرنا
دنبوت کے تصور کو غیر اہم سمجھنا
ختمِ نبوت کا پہلا عملی تقاضا یہ ہے کہ قرآن و سنت کو آخری اور حتمی نبوی ہدایت مانا جائے اور کسی نئے مدعیِ نبوت کو تسلیم نہ کیا جائے۔