بعثتِ نبوی سے قبل دنیا کے مذہبی، سیاسی، معاشرتی اور تہذیبی حالات
بعثتِ نبوی سے قبل عرب اور اہم عالمی تہذیبوں کے مذہبی، سیاسی اور معاشرتی حالات کیسے تھے؟
بعثتِ نبوی سے قبل دنیا کن حالات سے گزر رہی تھی، یہ سوال محض تاریخی تجسس کا موضوع نہیں بلکہ اس سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی رسالت کس پس منظر میں مبعوث ہوئی اور اس کی حکمت و ضرورت کیا تھی۔ قرآن مجید اس عمومی اخلاقی بگاڑ کو یوں بیان کرتا ہے:
، یعنی خشکی اور تری میں فساد پھیل چکا ہے جو لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے (الروم 30:41)۔ یہ آیت محض عرب کے حالات تک محدود نہیں بلکہ اس دور کی وسیع تر انسانی صورتِ حال کی طرف اشارہ کرتی ہے، جس میں مذہبی انحراف، سیاسی جبر اور معاشرتی ناہمواری بیک وقت موجود تھیں۔
چھٹی صدی عیسوی میں دنیا چند بڑی سلطنتوں، متعدد مقامی بادشاہتوں اور بے شمار قبائلی اکائیوں میں بٹی ہوئی تھی۔ اگرچہ علم، تجارت اور تعمیرات کے میدان میں کچھ ترقی یافتہ آثار بھی موجود تھے، تاہم اخلاقی اور طبقاتی ناہمواری نہایت گہری تھی۔ اسی لیے اس دور کو مکمل جہالت یا مطلق تاریکی کہنا علمی اعتبار سے محتاط نہیں، بلکہ زیادہ درست تعبیر یہ ہے کہ انسانیت کو ایک ایسی جامع، محفوظ اور عالمگیر الہامی رہنمائی کی شدید ضرورت تھی جو انسان کو اخلاقی انتشار سے نکال کر ایک متوازن اور مبنی بر انصاف نظامِ زندگی عطا کر سکے۔
جزیرۂ عرب کی صورتِ حال اس عمومی منظرنامے کا ایک اہم حصہ تھی۔ عرب معاشرہ کسی مرکزی حکومت کے تحت منظم نہیں تھا، بلکہ قبائلی وفاداری ہی سیاسی زندگی کی بنیاد سمجھی جاتی تھی، اور جنگ و جدل قبائل کے درمیان روزمرہ کا معمول تھا۔ خانہ کعبہ اصلاً حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی توحیدی یادگار تھا، لیکن صدیوں کے دوران اس کے اردگرد بت پرستی کا ایسا غلبہ ہو چکا تھا کہ کعبہ کے اندر سیکڑوں بت رکھے جانے لگے تھے۔ عرب معاشرے میں شاعری، مضبوط حافظہ، مہمان نوازی اور بےمثال شجاعت جیسی خوبیاں بھی موجود تھیں، مگر ان کے ساتھ ساتھ خونریزی، سود خوری اور کمزوروں پر ظلم بھی عام تھا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاشرہ خوبیوں اور خامیوں کا ایک پیچیدہ امتزاج تھا نہ کہ محض یکطرفہ تصویر۔
عورتوں اور کمزور طبقات کی حالت خاص طور پر قابلِ توجہ تھی۔ بعض قبائل میں لڑکیوں کو زندہ دفن کر دینے کی سنگ دل رسم پائی جاتی تھی، جسے قرآن نے سختی سے مسترد کیا۔ غلام، یتیم اور مقروض افراد طاقتور طبقوں کے استحصال کا آسان ہدف بنے رہتے تھے، اور وراثت و نکاح کے معاملات میں عورت کو عموماً کوئی مستقل قانونی تحفظ حاصل نہیں تھا۔ یہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عرب معاشرے کو محض سیاسی یا معاشی اصلاح کی نہیں بلکہ ایک جامع اخلاقی اور قانونی انقلاب کی ضرورت تھی، جو بعد میں اسلامی تعلیمات کی صورت میں سامنے آیا۔
عرب سے باہر نظر دوڑائیں تو بازنطینی روم مشرقی بحیرۂ روم کی سب سے بڑی سیاسی قوت کے طور پر ابھرتا ہے۔ اگرچہ روم بظاہر مسیحی سلطنت تھی، مگر اس کے اندر مختلف مسیحی فرقوں کے عقائد میں شدید اختلاف پایا جاتا تھا، جو اکثر ریاستی جبر اور باہمی کشمکش کا سبب بنتا رہا۔ اس کے علاوہ بھاری محصولات اور ایران کے ساتھ مسلسل جنگوں نے عام آبادی کو شدید معاشی دباؤ میں مبتلا رکھا۔ دوسری جانب ساسانی ایران میں شہنشاہی نظام، سخت طبقاتی تقسیم اور درباری اشرافیہ کا غلبہ تھا۔ زرتشتی مذہب کو سرکاری سرپرستی حاصل تھی، جبکہ دیگر مذہبی گروہوں کے ساتھ سلوک وقت کے ساتھ بدلتا رہتا تھا۔ روم اور ایران کے مابین طویل اور صدیوں پر محیط جنگوں نے دونوں سلطنتوں کو داخلی طور پر کمزور کر دیا تھا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس دور کی بڑی طاقتیں بھی اندرونی خلفشار کا شکار تھیں۔
مصر اس دور میں سیاسی طور پر رومی اقتدار کے زیرِ اثر تھا اور مذہبی طور پر داخلی اختلافات کا شکار رہتا تھا۔ اس کے مقابلے میں حبشہ ایک مستحکم عیسائی بادشاہت تھی جس کی بحیرۂ احمر کی تجارت میں نمایاں اہمیت تھی۔ نجاشی کے عادلانہ نظام نے بعد میں مکہ کے مظلوم مسلمانوں کو جب انہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی، ایک محفوظ پناہ گاہ فراہم کی، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس دور میں بھی عدل کی روایت مکمل طور پر ناپید نہیں ہوئی تھی۔ ہندوستان میں مذہبی تنوع کے ساتھ ساتھ ذات پات کی سخت اور غیر منصفانہ تقسیم موجود تھی، جبکہ چین میں ایک منظم سلطنتی نظام، ترقی یافتہ زراعت، وسیع تجارت اور مضبوط علمی روایت نے ایک مستحکم تہذیبی ڈھانچہ تشکیل دیا تھا۔ یہ دونوں خطے اپنے اپنے دائرے میں ترقی یافتہ عناصر رکھتے تھے، لیکن ان میں بھی عالمگیر اخلاقی مساوات کا تصور نہایت محدود تھا۔
اس پورے عالمی پس منظر کو سامنے رکھیں تو بعثتِ نبوی کی معنویت مزید واضح ہو جاتی ہے۔ نبوی دعوت نے کسی ایک قوم یا نسل کی سیاسی برتری کے بجائے خالص توحید اور ہر انسان کی انفرادی جواب دہی کا تصور پیش کیا۔ اسلام نے نسل، طبقے اور قبیلے کی بنیاد پر تقسیم شدہ انسانیت کو ایک ایسی اخلاقی برادری کا تصور دیا جس کی بنیاد تقویٰ اور کردار پر تھی، نہ کہ خون یا رنگ پر۔ یوں اس عالمی پس منظر سے قرآن کے عدل، رحمت اور انسانی مساوات کے پیغام کی حقیقی وسعت اور معنویت سامنے آتی ہے، جو محض عرب کی مقامی اصلاح تک محدود نہیں رہی بلکہ رفتہ رفتہ روم، ایران اور دیگر تہذیبوں تک پھیل گئی۔
اس تجزیے سے یہ نتیجہ اخذ کرنا مناسب نہیں کہ بعثت سے قبل پوری دنیا یکساں طور پر تاریک تھی، کیونکہ روم، ایران، ہندوستان اور چین میں ریاست، علم، تجارت اور تعمیرات کے کئی ترقی یافتہ پہلو موجود تھے۔ البتہ ان تمام تہذیبوں میں مذہبی تحریف، طبقاتی ناہمواری، جنگ، استحصال اور اخلاقی بحران بھی نمایاں طور پر پایا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ سب سے موزوں تعبیر یہی ہے کہ انسانیت کو ایک جامع، محفوظ اور عالمگیر الہامی رہنمائی کی اشد ضرورت تھی، جو نہ کسی مقامی اصلاح تک محدود ہو اور نہ کسی مخصوص طبقے یا نسل کے مفاد کی نگہبان بنے۔ نبی کریم ﷺ کی بعثت اسی خلا کو پر کرنے کے لیے ایک ایسی الہامی، اخلاقی اور عالمگیر تحریک ثابت ہوئی جس نے انسانی تاریخ کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔
منتخب مصادر و مراجع
- القرآن الکریم، سورۃ الروم 30:1-6، 30:41؛ سورۃ التکویر 81:8-9
- صحیح البخاری، کتاب بدء الوحی
- ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ذکر حال العرب قبل الاسلام
- جواد علی، المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام
- سید سلیمان ندوی، خطبات مدراس
چھٹی صدی عیسوی کی دنیا کسی ایک مرکزی نظام کے تحت نہیں بلکہ چند بڑی سلطنتوں، متعدد مقامی بادشاہتوں اور ان گنت قبائلی اکائیوں میں تقسیم تھی۔ اس دور میں علم، تعمیرات اور تجارت کے کچھ ترقی یافتہ آثار ضرور موجود تھے، لیکن اخلاقی اور طبقاتی ناہمواری بہت گہری تھی، اور طاقتور طبقے کمزوروں پر اپنا اثر و رسوخ بلا روک ٹوک استعمال کرتے تھے۔ اسی لیے اس دور کو مطلق تاریکی کہنا مبالغہ ہو گا، کیونکہ کئی خطوں میں ریاستی نظم اور علمی سرگرمی جاری تھی۔ تاہم یہ بات بہرحال واضح تھی کہ انسانیت کو ایک ایسی جامع اور عالمگیر الہامی رہنمائی کی اشد ضرورت ہے جو مذہبی، سیاسی اور معاشرتی بگاڑ کو بیک وقت درست کر سکے۔
عرب میں کوئی مرکزی حکومت موجود نہیں تھی بلکہ قبائلی وفاداری ہی سیاسی زندگی کی اصل بنیاد سمجھی جاتی تھی، جس کے باعث قبائل کے درمیان جنگ و جدل معمول کی بات تھی۔ خانہ کعبہ اصلاً حضرت ابراہیمؑ کی توحیدی یادگار تھا، مگر اس کے گرد صدیوں میں بت پرستی اس قدر پھیل چکی تھی کہ کعبہ کے اندر سیکڑوں بت رکھے جا چکے تھے۔ عرب معاشرہ شاعری، حافظے کی مضبوطی، مہمان نوازی اور شجاعت جیسی نمایاں خوبیوں کا حامل تھا، لیکن اسی کے ساتھ ساتھ خونریزی، سود خوری اور کمزوروں پر ظلم بھی عام تھا، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ معاشرہ خوبیوں اور خامیوں کا ایک پیچیدہ امتزاج تھا۔
بعض عرب قبائل میں لڑکیوں کو زندہ دفن کر دینے کی سنگ دل رسم رائج تھی، جسے بعد میں قرآن مجید نے سختی سے مسترد کیا اور اسے قابلِ مواخذہ جرم قرار دیا۔ غلام، یتیم اور مقروض افراد طاقتور طبقوں کے استحصال کا آسان نشانہ بنتے رہتے تھے، اور ان کے حقوق کا کوئی مؤثر تحفظ موجود نہیں تھا۔ وراثت اور نکاح کے معاملات میں عورت کو عموماً کوئی مستقل قانونی اختیار حاصل نہیں تھا، اور وہ اکثر خاندانی سرپرستوں کی مرضی کی محتاج رہتی تھی۔ یہ تمام حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عرب معاشرے کو سیاسی اصلاح سے کہیں زیادہ ایک جامع اخلاقی اور قانونی انقلاب کی ضرورت تھی۔
بازنطینی روم مشرقی بحیرۂ روم کے علاقے میں سب سے بڑی سیاسی اور عسکری قوت کے طور پر موجود تھا اور بظاہر ایک مسیحی سلطنت کہلاتا تھا۔ تاہم اس کے اندر مختلف مسیحی فرقوں کے درمیان عقائد کے شدید اختلافات پائے جاتے تھے، جو اکثر ریاستی جبر اور باہمی کشمکش کی صورت اختیار کر لیتے تھے۔ اس کے علاوہ عوام پر عائد بھاری محصولات اور ایران کے ساتھ طویل جنگوں نے عام آبادی کو مسلسل معاشی دباؤ میں مبتلا رکھا۔ اس صورتِ حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک بڑی اور بظاہر مستحکم سلطنت بھی اندرونی مذہبی و معاشی خلفشار سے محفوظ نہیں تھی، جو اس دور کے عمومی بحران کی ایک اور مثال ہے۔
ساسانی ایران میں شہنشاہی نظام رائج تھا جس میں سخت طبقاتی تقسیم اور درباری اشرافیہ کا مکمل غلبہ تھا، اور عام آبادی کو سیاسی فیصلوں میں کوئی مؤثر آواز حاصل نہیں تھی۔ زرتشتی مذہب کو ریاستی سرپرستی حاصل تھی، جبکہ دوسرے مذہبی گروہوں کے ساتھ رویہ حالات اور بادشاہ کی پالیسی کے مطابق بدلتا رہتا تھا۔ روم اور ایران کے درمیان صدیوں پر پھیلی ہوئی مسلسل جنگوں نے دونوں سلطنتوں کے وسائل اور طاقت کو نمایاں طور پر کمزور کر دیا تھا۔ اس تجزیے سے یہ سبق ملتا ہے کہ اس دور کی بڑی طاقتیں بھی اندرونی جبر اور مسلسل تصادم کے باعث ایک مستحکم اور منصفانہ نظام دینے سے قاصر تھیں۔
مصر اس دور میں سیاسی طور پر رومی اقتدار کے زیرِ اثر تھا اور مذہبی طور پر داخلی فرقہ وارانہ اختلافات کا شکار تھا، جس نے اس کی داخلی یکجہتی کو کمزور کیا۔ اس کے برعکس حبشہ ایک مستحکم عیسائی بادشاہت کے طور پر قائم تھا اور بحیرۂ احمر کی تجارتی راہداری میں اس کی نمایاں اہمیت تھی۔ حبشہ کے بادشاہ نجاشی کی عدل پسندی خاص طور پر قابلِ ذکر ہے، کیونکہ بعد میں جب مکہ کے مظلوم مسلمانوں نے ہجرت کی تو نجاشی نے انہیں ایک محفوظ اور باعزت پناہ فراہم کی۔ یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس دور میں بھی عدل اور رواداری کی روایت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی تھی۔
ہندوستان میں اس دور میں مذہبی تنوع کے ساتھ ساتھ ذات پات کی سخت اور غیر منصفانہ تقسیم بھی رائج تھی، جس نے سماجی نقل و حرکت کو تقریباً ناممکن بنا دیا تھا۔ چین میں اس کے برعکس ایک منظم سلطنتی نظام، ترقی یافتہ زراعت، وسیع تجارتی روابط اور مضبوط علمی روایت نے ایک مستحکم تہذیبی ڈھانچہ تشکیل دے رکھا تھا۔ یہ دونوں خطے اپنے اپنے دائرے میں کئی ترقی یافتہ عناصر رکھتے تھے، مگر ان میں بھی عالمگیر اخلاقی مساوات اور انسانی وقار کا وہ تصور موجود نہیں تھا جو بعد میں اسلام نے پیش کیا۔ اس موازنے سے بعثتِ نبوی کے پیغام کی عالمگیر نوعیت مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔
بعثتِ نبوی کی سب سے بڑی معنویت یہ ہے کہ اس نے کسی ایک قوم یا نسل کی سیاسی برتری کے بجائے خالص توحید اور ہر انسان کی انفرادی جواب دہی کا تصور پیش کیا۔ اسلام نے نسل، رنگ، طبقے اور قبیلے کی بنیاد پر تقسیم شدہ انسانیت کو ایک ایسی اخلاقی برادری کا تصور دیا جس کی بنیاد صرف تقویٰ اور عمل پر رکھی گئی، نہ کہ خون یا سماجی حیثیت پر۔ یہی وجہ ہے کہ اس عالمی پس منظر کو سامنے رکھنے سے قرآن کے عدل، رحمت اور انسانی مساوات کے پیغام کی حقیقی وسعت کھل کر سامنے آتی ہے، جو محض عرب کے مقامی حالات کی اصلاح تک محدود نہ رہی بلکہ رفتہ رفتہ روم، ایران اور دیگر دور دراز تہذیبوں تک پھیل گئی۔
یہ تعبیر علمی اعتبار سے محتاط اور مکمل طور پر درست نہیں سمجھی جاتی، کیونکہ اس دور میں روم، ایران، ہندوستان اور چین میں ریاستی نظم، علمی سرگرمی، تجارت اور تعمیرات کے کئی ترقی یافتہ پہلو بلاشبہ موجود تھے، اور بعض علاقوں میں علم و ادب کی روایات بھی فروغ پا رہی تھیں۔ تاہم اسی کے ساتھ ساتھ مذہبی تحریف، طبقاتی ناہمواری، مسلسل جنگیں، کمزوروں کا استحصال اور گہرا اخلاقی بحران بھی ان تمام تہذیبوں میں یکساں طور پر نمایاں طور پر پایا جاتا تھا، جو کسی ایک خطے تک محدود نہیں تھا۔ اسی لیے زیادہ متوازن اور علمی طور پر درست تعبیر یہ ہے کہ انسانیت کو کسی مقامی یا وقتی اصلاح کی نہیں بلکہ ایک جامع، محفوظ اور عالمگیر الہامی رہنمائی کی شدید اور ہمہ گیر ضرورت درپیش تھی۔
بعثت سے قبل دنیا سیاسی سلطنتوں، مذہبی فرقوں اور قبائلی یا طبقاتی تقسیم میں بری طرح بٹی ہوئی تھی، اور ہر بڑی طاقت اپنی اپنی حدود میں محدود مفادات کا تحفظ کر رہی تھی۔ اس کے برعکس نبوی دعوت نے کسی مخصوص قوم کی نسلی برتری کے بجائے توحید، اخلاقی جواب دہی، عدل اور انسانی مساوات کا ایسا آفاقی پیغام پیش کیا جو ہر انسان کے لیے یکساں طور پر قابلِ قبول تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ پیغام عرب کی مقامی اصلاح تک محدود نہیں رہا، بلکہ مختلف تہذیبوں اور طبقات کے درمیان ایک مشترکہ اور پائیدار اخلاقی بنیاد بن گیا، جس نے آگے چل کر انسانی تاریخ کے دھارے کو یکسر بدل دیا۔