ہومموضوعات ‹ موضوع 6
موضوع 6 از 15

قریش کی مخالفت، مسلمانوں پر مظالم، ہجرتِ حبشہ اور شعبِ ابی طالب کا محاصرہ

قریش کی مخالفت کے اسباب، مسلمانوں پر مظالم، ہجرتِ حبشہ اور شعبِ ابی طالب کے محاصرے کا تحقیقی جائزہ

قریش کی مخالفت، مسلمانوں پر مظالم، ہجرتِ حبشہ اور شعبِ ابی طالب کا محاصرہ سیرتِ نبوی ﷺ کے اس دور کی داستان ہے جس میں دعوتِ توحید نے مکہ کے پورے سماجی ڈھانچے کو للکارا اور اس للکار کے جواب میں قریش نے دباؤ، اذیت اور اقتصادی ناکہ بندی کے ہر ممکن ہتھیار کو بروئے کار لایا۔ یہ محض تاریخی واقعات کی ایک لڑی نہیں بلکہ اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ حق کی دعوت جب انسانوں کے مفادات، وقار اور عقیدے کی جڑوں کو ہلاتی ہے تو مزاحمت کس شدت اور کس تنوع کے ساتھ سامنے آتی ہے، اور ایسے حالات میں نبوی قیادت نے کس حکمت، صبر اور تدبر سے جماعتِ مومنین کی حفاظت کی۔ قرآن کریم نے مظلوم اہلِ ایمان کو یہ تسلی دی:

﴿ إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ الزمر 39:10

، یعنی صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔ یہ آیت اس پورے دور کی روح کو سمیٹتی ہے: مظلومیت کا خاتمہ صبر اور ثابت قدمی سے ہی ممکن ہوا۔

قریش کی مخالفت کا پہلا اور بنیادی سبب عقیدے کی سطح پر تھا۔ توحید کے اعلان نے قریش کی اس مذہبی پیشوائی کو چیلنج کیا جو کعبہ کی تولیت، بتوں کی خدمت اور حج کے انتظامات سے وابستہ تھی۔ صرف ایک اللہ کی عبادت کا مطلب یہ تھا کہ بتوں کی تجارت، ان سے جڑی رسومات اور ان پر قائم سرداری کا پورا نظام بے معنی ہو جائے۔ اسی کے ساتھ آخرت اور جواب دہی کے عقیدے نے اس بے لگام سماجی اختیار کو للکارا جس کے تحت طاقتور اپنے افعال کے لیے کسی کو جواب دہ نہیں سمجھتا تھا۔ تیسرا سبب سماجی اور معاشی تھا: اسلام کی مساوات نے نسب، دولت اور غلامی پر قائم طبقاتی امتیاز کو للکارا، اور یہ بات ان اشرافیہ کے لیے ناقابلِ برداشت تھی جو اپنی برتری کو فطری اور دائمی سمجھتے تھے۔ یوں مخالفت محض عقائد کا اختلاف نہیں تھی بلکہ اقتدار، وقار اور مفاد کا مشترکہ ردعمل تھی۔

مخالفت کے طریقے وقت کے ساتھ زیادہ سخت ہوتے گئے۔ ابتدا میں تمسخر، طعنہ زنی، جھوٹی اطلاعات اور نفسیاتی دباؤ کا سہارا لیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ کو کبھی شاعر، کبھی ساحر اور کبھی مجنون کہا گیا، اور قرآن کریم نے ان سب الزامات کی واضح تردید نازل فرمائی۔ جب یہ حربے ناکام ہوئے تو مراعات کی پیشکش کی گئی — مال، عزت اور سرداری کی پیشکش — تاکہ دعوت رک جائے، لیکن اس کا بھی کوئی اثر نہ ہوا۔ آخرکار قریش نے معاشرتی اور جسمانی تشدد کا راستہ اپنایا، اور یہیں سے کمزور اور بے سہارا مسلمانوں پر مظالم کا وہ باب شروع ہوا جو سیرت کی سب سے دردناک داستانوں میں شمار ہوتا ہے۔

جن مسلمانوں کے پاس قبائلی تحفظ نہ تھا — غلام، خواتین اور کمزور طبقات — وہ سب سے زیادہ نشانہ بنے۔ حضرت بلالؓ کو مکہ کی تپتی دوپہر میں ریت پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھا جاتا، مگر ان کی زبان پر ’احد، احد‘ کے سوا کچھ نہ آتا۔ بنو مخزوم نے حضرت یاسرؓ، ان کی زوجہ حضرت سمیہؓ اور بیٹے حضرت عمارؓ کو جس بے دردی سے اذیتیں دیں، اس کی مثال کم ملتی ہے۔ حضرت سمیہؓ کو شہید کر دیا گیا اور وہ اسلام کی پہلی شہیدہ قرار پائیں۔ حضرت عمارؓ کے حوالے سے قرآن نے یہ اہم اصول واضح کیا کہ اگر کسی کا دل ایمان پر مطمئن ہو مگر جان کے خوف سے زبان سے کچھ کہہ دیا جائے تو یہ اکراہ کی رعایت میں آتا ہے۔ یہ واقعات صرف مظلومیت کی داستان نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہیں کہ نبوی جماعت کی قوت مال یا تعداد میں نہیں بلکہ ایمان کی گہرائی اور اخلاقی استقامت میں تھی۔

جب مظالم کی شدت ناقابلِ برداشت ہو گئی تو رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو حبشہ کی طرف ہجرت کی اجازت دی، کیونکہ وہاں نجاشی نامی ایک عادل بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ یہ فیصلہ محض جان بچانے کی تدبیر نہیں تھا بلکہ اس اصول کی بنیاد بھی رکھتا تھا کہ ظلم کے مقابلے میں عدل فراہم کرنے والی کسی بھی حکومت کے زیرِ سایہ عارضی پناہ لینا جائز ہے، چاہے وہ حکومت غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو۔ قریش نے یہاں بھی چین نہ لینے دیا اور اپنے دو نمائندے — عمرو بن العاص اور عبداللہ بن ابی ربیعہ — تحائف کے ساتھ نجاشی کے دربار میں بھیجے تاکہ مہاجرین کو واپس مکہ لایا جا سکے۔ اس نازک موقع پر حضرت جعفر بن ابی طالبؓ نے نجاشی کے سامنے جاہلیت کی تصویر، نبوی دعوت کا خلاصہ اور اسلامی اخلاق کا جامع تعارف پیش کیا، اور جب سورۂ مریم کی آیات تلاوت کیں تو نجاشی اور اس کے درباری آبدیدہ ہو گئے۔ نجاشی نے مہاجرین کو واپس کرنے سے صاف انکار کر دیا، اور یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ سچائی اور اخلاقِ حسنہ کا اثر مذہبی سرحدوں سے ماورا ہوتا ہے۔

مکہ میں مخالفت کی انتہا شعبِ ابی طالب کے محاصرے کی صورت میں سامنے آئی۔ جب قریش کی تمام تدبیریں ناکام ہوئیں تو انہوں نے بنو ہاشم اور بنو مطلب کے پورے قبیلے کے ساتھ سماجی اور معاشی مقاطعہ کرنے کا معاہدہ لکھا، جس میں رشتہ داری، خرید و فروخت اور ہر قسم کے تعلقات پر پابندی لگا دی گئی، اور اس صحیفے کو کعبہ کے اندر لٹکا دیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ سمیت پورا خاندان — مسلم اور غیر مسلم دونوں، کیونکہ ابوطالب نے قبائلی حمیت میں اپنے بھتیجے کا ساتھ دیا — کئی برس تک ایک تنگ گھاٹی میں محصور رہا۔ بھوک اس حد تک بڑھی کہ درختوں کے پتے اور چمڑا تک کھانا پڑا۔ آخرکار مکہ کے چند غیرت مند اور انصاف پسند افراد، جن میں ہشام بن عمرو نمایاں تھے، نے اس ظالمانہ صحیفے کے خلاف آواز اٹھائی اور معلوم ہوا کہ دیمک نے صحیفے کا بیشتر حصہ چاٹ لیا ہے سوائے اللہ کے نام کے۔ اس انکشاف نے محاصرے کے خاتمے کی راہ ہموار کی۔

ان تمام واقعات کا مجموعی سبق یہ ہے کہ مخالفت نے دعوت کو ختم کرنے کے بجائے اس کے اخلاقی وزن کو بڑھایا۔ ہجرتِ حبشہ اور محاصرۂ شعب دونوں اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ نبوی قیادت میں حفاظت کی تدبیر، صبر کا دامن اور اجتماعی کفالت کا احساس ایک ساتھ کارفرما رہے۔ نہ تو اصول پر سمجھوتہ ہوا اور نہ جائز تدبیر اختیار کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ دکھائی گئی۔ یہی توازن اس دور کی سب سے بڑی تعلیم ہے: ایمان کی پختگی، حکمتِ عملی کی لچک اور صبر کا امتزاج ہی وہ راستہ ہے جس سے مظلوم قومیں عزت کے ساتھ اپنی بقا اور ترقی کی راہ نکالتی ہیں۔ آج بھی جب کہیں کمزور طبقات ظلم کا شکار ہوں، یہ واقعات رہنمائی دیتے ہیں کہ عزم، اخلاقی برتری اور دانشمندانہ تدبیر مل کر ہی حقیقی کامیابی کی بنیاد بنتے ہیں۔

منتخب مصادر و مراجع

  1. القرآن الکریم، النحل 16:106؛ الزمر 39:10
  2. صحیح البخاری، کتاب مناقب الانصار، ہجرتِ حبشہ سے متعلق روایات
  3. ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ہجرۃ الحبشہ وامر الصحیفہ
  4. البیہقی، دلائل النبوۃ
  5. اکرم ضیاء العمری، السیرۃ النبویۃ الصحیحۃ
  6. صفی الرحمن مبارکپوری، الرحیق المختوم

قریش کی مخالفت کی جڑیں تین سطحوں پر پھیلی ہوئی تھیں۔ سب سے پہلے، توحید کے اعلان نے کعبہ سے وابستہ بت پرستانہ نظام اور اس پر قائم قریش کی مذہبی پیشوائی کو چیلنج کیا، کیونکہ بتوں کی خدمت اور حج کے انتظامات ان کے وقار اور آمدنی کا ذریعہ تھے۔ دوسرے، آخرت اور جواب دہی کے تصور نے اس بے لگام سماجی طاقت کو للکارا جس کے تحت طاقتور طبقہ اپنے ظلم پر کسی احتساب کا قائل نہیں تھا۔ تیسرے، اسلامی مساوات نے نسب، دولت اور غلامی پر قائم طبقاتی نظام کی جڑیں ہلا دیں۔ اس لیے یہ مخالفت خالص نظریاتی اختلاف نہیں بلکہ اقتدار، وقار اور معاشی مفاد کا مشترکہ ردعمل تھی، جس نے پوری قریشی اشرافیہ کو دعوتِ اسلام کے خلاف متحد کر دیا۔

قریش کی حکمتِ عملی مرحلہ وار سخت ہوتی گئی۔ ابتدا میں تمسخر، طعنہ زنی اور غلط پروپیگنڈا استعمال کیا گیا، اور رسول اللہ ﷺ کو شاعر، ساحر اور مجنون جیسے القاب دیے گئے، جن کی قرآن نے واضح تردید کی۔ جب یہ ہتھکنڈے کارگر نہ ہوئے تو مراعات کی پیشکش کی گئی، جس میں مال، سرداری اور نکاح تک کی پیشکش شامل تھی تاکہ دعوت ترک کر دی جائے۔ اس کے ناکام ہونے پر معاشرتی مقاطعہ اور جسمانی تشدد کا راستہ اختیار کیا گیا۔ یہ تدریجی سختی ظاہر کرتی ہے کہ مخالفین کے پاس دلیل کی کمی تھی، اسی لیے وہ استہزا سے دباؤ اور بالآخر براہِ راست اذیت کی طرف بڑھتے چلے گئے۔

جن مسلمانوں کے پاس قبائلی تحفظ نہیں تھا، خصوصاً غلام اور کمزور طبقے کے لوگ، ظلم کا سب سے زیادہ نشانہ بنے۔ حضرت بلالؓ کو تپتی ریت پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھا جاتا، مگر وہ توحید پر ثابت قدم رہے۔ قرآن نے حضرت عمارؓ کے حوالے سے یہ اصول واضح کیا کہ جان کے خطرے میں اگر دل ایمان پر مطمئن ہو تو زبان سے نکلنے والے مجبوری کے الفاظ کی رعایت دی جاتی ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ ایمان کی اصل قوت مادی وسائل میں نہیں بلکہ دل کے یقین اور صبر میں پوشیدہ ہے، اور اسلام نے جان کے حقیقی خطرے میں انسانی کمزوری کو بھی شریعت میں گنجائش دی ہے۔

حضرت یاسرؓ، ان کی اہلیہ حضرت سمیہؓ اور بیٹے حضرت عمارؓ کو بنو مخزوم نے شدید ترین اذیتیں دیں، اور حضرت سمیہؓ کو شہید کر کے اسلام کی پہلی شہیدہ کا مقام دیا گیا۔ یہ واقعہ محض ایک خاندان کی داستان نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ابتدائی مسلمانوں کی طاقت مال، تعداد یا قبائلی سہارے میں نہیں بلکہ ایمان اور اخلاقی استقامت میں تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی تکلیف پر انہیں صبر اور جنت کی بشارت دی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نبوی قیادت مشکل ترین حالات میں بھی جماعت کو حوصلہ اور روحانی سہارا فراہم کرتی رہی۔ یہ سبق آج بھی ہر اس شخص کے لیے رہنما ہے جو ظلم کے مقابلے میں عقیدے پر ثابت قدم رہنا چاہتا ہے۔

جب مکہ میں ظلم کی شدت ناقابلِ برداشت ہو گئی تو رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو حبشہ جانے کی اجازت دی، کیونکہ وہاں نجاشی نامی عادل بادشاہ حکومت کرتا تھا جس کے دربار میں کسی پر ظلم نہیں ہوتا تھا۔ یہ فیصلہ محض جان بچانے کی تدبیر نہیں تھا بلکہ ایک اہم فقہی اور دعوتی اصول کی بنیاد بھی رکھتا تھا: اگر کوئی غیر مسلم حکومت عدل اور مذہبی آزادی فراہم کرے تو مظلوم مسلمان اس کے زیرِ سایہ عارضی پناہ لے سکتے ہیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی حکمتِ عملی مذہبی سرحدوں سے بالاتر ہو کر انسانی جان اور دین کی حفاظت کو ترجیح دیتی ہے، اور ظاہری طور پر غیر موافق ماحول میں بھی مناسب تدبیر اختیار کی جا سکتی ہے۔

قریش نے عمرو بن العاص اور عبداللہ بن ابی ربیعہ کو تحائف کے ساتھ نجاشی کے دربار بھیجا تاکہ مہاجرین کو واپس مکہ لایا جائے۔ اس نازک موقع پر حضرت جعفر بن ابی طالبؓ نے جاہلیت کے دور کی برائیوں، نبوی دعوت کے خلاصے اور اسلامی اخلاق کا ایسا جامع اور مؤثر تعارف پیش کیا کہ نجاشی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ جب حضرت جعفرؓ نے سورۂ مریم کی آیات تلاوت کیں، جن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا ذکر تھا، تو نجاشی اور ان کے درباری آبدیدہ ہو گئے اور مہاجرین کو واپس کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ سچی دعوت، دلیل اور اخلاقِ حسنہ کا اثر مذہبی اور قومی سرحدوں سے ماورا ہوتا ہے۔

جب قریش کی تمام تدبیریں ناکام ہو گئیں تو انہوں نے بنو ہاشم اور بنو مطلب کے پورے قبیلے کے خلاف ایک ظالمانہ معاہدہ لکھا جس میں رشتہ داری، تجارت اور ہر قسم کے میل جول پر مکمل پابندی لگا دی گئی، اور یہ صحیفہ کعبہ کے اندر آویزاں کر دیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ سمیت پورا خاندان کئی برس تک ایک تنگ گھاٹی میں محصور رہا، جہاں خوراک کی شدید قلت کے باعث درختوں کے پتے اور خشک چمڑا تک کھانا پڑا۔ بچوں کے رونے کی آوازیں مکہ کی گلیوں تک سنائی دیتی تھیں۔ اس کے باوجود کسی مسلمان نے دین چھوڑنے کا سوچا تک نہیں۔ یہ محاصرہ صبر، اجتماعی کفالت اور باہمی یکجہتی کی زندہ مثال ہے۔

محاصرے کا خاتمہ مکہ کے چند غیرت مند اور انصاف پسند افراد کی کوششوں سے ممکن ہوا، جن میں ہشام بن عمرو نمایاں تھے۔ ان لوگوں نے اس ظالمانہ صحیفے کے خلاف علانیہ آواز اٹھائی اور دیگر قبائلی سرداروں کو اس معاہدے کی زیادتی پر آمادہ کیا۔ اسی دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ دیمک نے صحیفے کا بیشتر حصہ چاٹ لیا ہے، صرف اللہ کے نام والا حصہ محفوظ رہا، اور رسول اللہ ﷺ نے اس بات کی پیشگی خبر بھی دی تھی۔ اس انکشاف نے قریش کے سرداروں کے سامنے صحیفے کی حیثیت کمزور کر دی اور محاصرہ ختم ہو گیا۔ یہ واقعہ سکھاتا ہے کہ ظلم کے خلاف انصاف پسند آوازیں ہر معاشرے میں موجود رہتی ہیں اور بروقت سامنے آئیں تو مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔

اس دور کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ ظلم اور مخالفت دعوتِ حق کو ختم کرنے کے بجائے اس کے اخلاقی وزن اور کشش کو بڑھا دیتے ہیں۔ ہجرتِ حبشہ اور محاصرۂ شعب دونوں واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ نبوی قیادت نے حفاظت کی تدبیر، صبر اور اجتماعی کفالت کو ایک ساتھ برقرار رکھا۔ نہ اصولوں پر کوئی سمجھوتہ کیا گیا اور نہ جائز عملی تدبیر اختیار کرنے میں کوئی کوتاہی برتی گئی۔ یہ توازن — عقیدے کی مضبوطی اور حکمتِ عملی کی لچک کا امتزاج — ہر دور کے مظلوم طبقات کے لیے رہنما اصول ہے۔ اسی توازن نے تھوڑے ہی عرصے بعد اسلام کو مکہ کی حدود سے نکال کر ایک وسیع تر معاشرتی اور سیاسی قوت میں بدل دیا۔

یہ واقعات سکھاتے ہیں کہ حق کی راہ میں مزاحمت ایک فطری امر ہے اور اس کا مقابلہ صرف جذباتی رد عمل سے نہیں بلکہ صبر، حکمت اور مناسب تدبیر سے کیا جانا چاہیے۔ ہجرتِ حبشہ نے یہ اصول دیا کہ جہاں انصاف میسر ہو وہاں پناہ لینا اور خطرناک ماحول سے وقتی طور پر نکل جانا کمزوری نہیں بلکہ دانشمندی ہے۔ محاصرۂ شعب نے سکھایا کہ اجتماعی مشکل میں باہمی یکجہتی اور صبر ہی جماعت کو زندہ رکھتے ہیں۔ آلِ یاسر اور حضرت بلالؓ کی قربانیاں یاد دلاتی ہیں کہ ایمان کی قیمت کبھی کبھی جان سے بھی ادا کرنی پڑتی ہے، مگر اس کا اجر دنیا اور آخرت دونوں میں محفوظ رہتا ہے۔ یہ سب مل کر ایک مکمل نمونہ پیش کرتے ہیں کہ مشکل ترین حالات میں بھی عزم اور اصول پر قائم رہا جا سکتا ہے۔

نتیجہ: 0 درست بمقابلہ 0 جواب دیے گئے (کل 20 سوالات)
1قریش کی مخالفت کا سب سے بنیادی مذہبی سبب کیا تھا؟
الفتوحید کے اعلان نے کعبہ سے وابستہ بت پرستانہ نظام اور قریش کی مذہبی پیشوائی کو چیلنج کیا
بمسلمانوں کی تعداد میں اچانک اضافہ ہو گیا تھا
جرسول اللہ ﷺ نے تجارتی راستے تبدیل کر دیے تھے
دقریش کے سردار آپس میں سیاسی اختلافات کا شکار تھے
توحید کا اعلان بتوں کی خدمت اور کعبہ سے وابستہ قریشی اقتدار کے لیے براہِ راست خطرہ تھا، اس لیے یہ مخالفت کا سب سے بنیادی سبب بنا۔
2اسلامی مساوات کے تصور نے قریشی اشرافیہ کو کیوں ناگوار گزرا؟
الفاس نے نسب، دولت اور غلامی پر قائم طبقاتی امتیاز کی بنیاد کو کمزور کر دیا
باس نے تجارت پر ٹیکس عائد کر دیا تھا
جاس نے حج کے مقامات تبدیل کر دیے تھے
داس نے قریش کو مکہ چھوڑنے پر مجبور کیا
اسلام کی مساوات نے نسبی اور طبقاتی برتری کے اس نظام کو چیلنج کیا جس پر قریشی اشرافیہ کا سماجی اقتدار قائم تھا۔
3قریش نے دعوتِ اسلام کے خلاف سب سے پہلے کون سا حربہ استعمال کیا؟
الففوری طور پر مسلح تصادم کیا
بتمسخر، الزام تراشی اور نفسیاتی دباؤ کا سہارا لیا
جتمام مسلمانوں کو مکہ سے نکال دیا
دنجاشی کے دربار میں شکایت کی
ابتدائی مرحلے میں قریش نے تشدد کے بجائے تمسخر، جھوٹے الزامات اور نفسیاتی دباؤ کے ذریعے دعوت کو روکنے کی کوشش کی۔
4رسول اللہ ﷺ کے خلاف قریش نے کون سے الزامات لگائے جن کی قرآن نے تردید کی؟
الفشاعر، ساحر اور مجنون ہونے کے الزامات
بتاجر اور مسافر ہونے کے الزامات
جقبیلے کا سردار بننے کے الزامات
دحج کا انتظام سنبھالنے کے الزامات
قریش نے آپ ﷺ کو شاعر، ساحر اور مجنون کہا، جن کی قرآن کریم میں واضح اور مدلل تردید نازل ہوئی۔
5جب مراعات کی پیشکش ناکام ہوئی تو قریش نے کیا طریقہ اپنایا؟
الفدعوت سے مکمل طور پر دستبردار ہو گئے
بمعاشرتی اور جسمانی تشدد کا راستہ اختیار کیا
جنجاشی سے مدد مانگی
داسلام قبول کرنے پر آمادہ ہو گئے
جب رشوت اور مراعات کی پیشکش رد کر دی گئی تو قریش نے کمزور مسلمانوں پر معاشرتی اور جسمانی تشدد شروع کر دیا۔
6حضرت بلالؓ کو کس اذیت کا سامنا کرنا پڑا؟
الفانہیں مکہ سے جلاوطن کر دیا گیا
بانہیں تپتی ریت پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھا جاتا تھا
جان کا سارا مال ضبط کر لیا گیا
دانہیں غار میں قید کر دیا گیا
حضرت بلالؓ کو مکہ کی تپتی دھوپ میں ریت پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھا جاتا تھا، مگر وہ توحید پر ثابت قدم رہے۔
7قرآن نے حضرت عمارؓ کے واقعے سے کون سا فقہی اصول واضح کیا؟
الفجان کے خطرے میں دل کے ایمان کے ساتھ زبانی اکراہ کی گنجائش
بہر حال میں فوراً ہجرت کر جانا واجب ہے
جاذیت کے وقت جوابی تشدد جائز ہے
دمشکل میں دین چھپانا ہمیشہ ممنوع ہے
حضرت عمارؓ کے واقعے سے یہ اصول واضح ہوا کہ اگر دل ایمان پر مطمئن ہو تو جان کے شدید خطرے میں زبان سے نکلنے والے مجبوری کے الفاظ کی شرعی رعایت ہے۔
8اسلام کی پہلی شہیدہ کون سی خاتون قرار پائیں؟
الفحضرت خدیجہؓ
بحضرت سمیہؓ
جحضرت اسماءؓ
دحضرت ام سلمہؓ
حضرت سمیہؓ کو بنو مخزوم کی اذیتوں کے نتیجے میں شہید کیا گیا اور وہ اسلام کی پہلی شہیدہ قرار پائیں۔
9آلِ یاسر کے واقعے سے سب سے اہم سبق کیا ملتا ہے؟
الفنبوی جماعت کی قوت مال اور تعداد میں تھی
بنبوی جماعت کی قوت ایمان اور اخلاقی استقامت میں تھی
جاذیت کے مقابلے میں انتقام لینا ضروری تھا
دکمزور مسلمانوں کو دعوت سے الگ رکھا گیا تھا
آلِ یاسر کی قربانی نے ثابت کیا کہ ابتدائی مسلمانوں کی اصل طاقت مادی وسائل میں نہیں بلکہ ایمان کی گہرائی اور استقامت میں تھی۔
10رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو حبشہ جانے کی اجازت کیوں دی؟
الفکیونکہ وہاں تجارت کے بہتر مواقع تھے
بکیونکہ وہاں نجاشی نامی عادل بادشاہ حکومت کرتا تھا
جکیونکہ حبشہ مکہ سے قریب تر تھا
دکیونکہ وہاں پہلے سے مسلمان آباد تھے
حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے عدل اور انصاف پسندی کی شہرت کے باعث رسول اللہ ﷺ نے مظلوم مسلمانوں کو وہاں پناہ لینے کی اجازت دی۔
11ہجرتِ حبشہ سے کون سا اصول اخذ ہوتا ہے؟
الفمسلمان کبھی بھی غیر مسلم حکومت کے زیرِ سایہ نہیں رہ سکتے
بعدل فراہم کرنے والی غیر مسلم حکومت کے زیرِ سایہ عارضی پناہ جائز ہے
جہجرت صرف مسلح مزاحمت کے بعد کی جا سکتی ہے
دہجرت کا مقصد صرف تجارتی فائدہ حاصل کرنا تھا
ہجرتِ حبشہ نے یہ اصول قائم کیا کہ جہاں عدل اور مذہبی آزادی میسر ہو، وہاں مظلوم مسلمان غیر مسلم حکومت کے زیرِ سایہ بھی عارضی پناہ لے سکتے ہیں۔
12قریش نے نجاشی کے دربار میں مہاجرین کو واپس لانے کے لیے کن کو بھیجا؟
الفابوجہل اور ابولہب
بعمرو بن العاص اور عبداللہ بن ابی ربیعہ
جخالد بن ولید اور عکرمہ
دابوسفیان اور ولید بن مغیرہ
قریش نے عمرو بن العاص اور عبداللہ بن ابی ربیعہ کو تحائف کے ساتھ نجاشی کے دربار بھیجا تاکہ مہاجرین کو واپس مکہ لایا جا سکے۔
13نجاشی کے دربار میں کس صحابی نے اسلام کا جامع تعارف پیش کیا؟
الفحضرت جعفر بن ابی طالبؓ
بحضرت عمر بن خطابؓ
جحضرت عثمان بن عفانؓ
دحضرت زید بن حارثہؓ
حضرت جعفر بن ابی طالبؓ نے نجاشی کے دربار میں جاہلیت، نبوی دعوت اور اسلامی اخلاق کا جامع اور مؤثر تعارف پیش کیا۔
14سورۂ مریم کی کن آیات نے نجاشی کو متاثر کیا؟
الفحضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعے سے متعلق آیات
بحضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے متعلق آیات
جقیامت کے مناظر سے متعلق آیات
دحج کے احکام سے متعلق آیات
حضرت جعفرؓ نے سورۂ مریم کی وہ آیات تلاوت کیں جن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا ذکر تھا، جس سے نجاشی اور درباری متاثر ہوئے۔
15شعبِ ابی طالب کے محاصرے میں قریش نے کیا اقدام کیا؟
الفبنو ہاشم اور بنو مطلب سے سماجی و معاشی مقاطعے کا معاہدہ کیا
بتمام مسلمانوں کو قتل کرنے کا حکم دیا
جمکہ کی حدود سے مسلمانوں کو نکال باہر کیا
دکعبہ کو بند کر دیا
قریش نے بنو ہاشم اور بنو مطلب کے پورے قبیلے کے خلاف رشتہ داری اور تجارت پر پابندی کا ظالمانہ معاہدہ لکھ کر کعبہ میں آویزاں کیا۔
16محاصرے کے دوران مسلمانوں کو کن مشکلات کا سامنا رہا؟
الفخوراک کی شدید قلت کے باعث پتے اور چمڑا تک کھانا پڑا
بانہیں فوجی تربیت دی گئی
جانہیں مکہ سے مکمل طور پر نکال دیا گیا
دانہیں تجارتی اجارہ داری دی گئی
محاصرے کے دوران خوراک کی اس قدر قلت ہوئی کہ محصورین کو درختوں کے پتے اور خشک چمڑا تک کھانا پڑا۔
17شعبِ ابی طالب کا محاصرہ کن افراد کی کوششوں سے ختم ہوا؟
الفابوجہل اور ولید بن مغیرہ کی کوششوں سے
بہشام بن عمرو جیسے انصاف پسند افراد کی کوششوں سے
جنجاشی کی مداخلت سے
دخالد بن ولید کی سفارش سے
مکہ کے چند غیرت مند اور انصاف پسند افراد، خصوصاً ہشام بن عمرو، نے ظالمانہ صحیفے کے خلاف آواز اٹھا کر محاصرے کے خاتمے کی راہ ہموار کی۔
18ظالمانہ صحیفے کے بارے میں کیا انکشاف ہوا جس نے محاصرہ ختم کرنے میں مدد دی؟
الفاس پر جعلی دستخط پائے گئے
بدیمک نے اسے چاٹ لیا تھا سوائے اللہ کے نام کے
جوہ کبھی موجود ہی نہیں تھا
داسے مکہ کے باہر منتقل کر دیا گیا تھا
معلوم ہوا کہ دیمک نے صحیفے کا بیشتر حصہ چاٹ لیا تھا اور صرف اللہ کے نام والا حصہ محفوظ رہا، جس نے قریش کے سرداروں کے سامنے صحیفے کی حیثیت کمزور کر دی۔
19اس پورے دور کے واقعات سے مجموعی طور پر کیا سبق اخذ ہوتا ہے؟
الفمخالفت نے دعوت کو ختم کرنے کے بجائے اس کے اخلاقی وزن میں اضافہ کیا
بمخالفت نے دعوت کو مکمل طور پر ختم کر دیا
جصبر اور تدبیر کا کوئی کردار نہیں تھا
دمحاصرہ اور ہجرت غیر متعلق واقعات تھے
ان تمام واقعات کا مجموعی سبق یہ ہے کہ ظلم اور مخالفت نے دعوت کو ختم کرنے کے بجائے اس کی اخلاقی قوت اور کشش کو مزید بڑھا دیا۔
20قریش کی مخالفت کے دوران رسول اللہ ﷺ کی حکمتِ عملی کی سب سے نمایاں خصوصیت کیا تھی؟
الفاصولوں پر ثابت قدمی اور جائز تدبیر کا امتزاج
بہر مرحلے پر سمجھوتہ کر لینا
جمکمل خاموشی اختیار کرنا
دفوری مسلح مزاحمت کرنا
نبوی حکمتِ عملی کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا، جبکہ حالات کے مطابق جائز عملی تدبیر بھی اختیار کی گئی۔